پاکستانی سرمایہ کاروں اور تاجروں کو فلپائن کی معاشی پالیسیوں اور ترغیبات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ، فلپائن کے سفیر ڈینیل راموس اسپریٹو کا کراچی میں خطاب

کراچی: فلپائن اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ منانے کے لیے سینٹر فار پیس ،سیکیورٹی اینڈ ڈویلپمنٹ اسٹڈیز کے چیئرمین عبداللہ دادا بھائی اور سیکرٹری جنرل احسن مختار زبیری کی جانب سے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا اس موقع پر فلپائن کے سفیر عزت مآب جناب ڈینیل راموس اسپیرٹو مہمان خصوصی تھے جبکہ فلپائن کے قونصل جنرل ڈاکٹر محمد عمران سمیت مختلف ملکوں کے سفارت کار اور قونصل جنرل تقریب میں بطور خاص شریف ہوئے ۔

[embedyt]https://www.youtube.com/watch?v=3bgDy9yZWxY[/embedyt]

سابق وفاقی وزیر ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار ۔سینیٹر عبدالحسیب خان ۔حکومت سندھ کے ایڈوائزر اشفاق میمن۔مشہور ایڈورٹائزر اور میڈیا ٹائیکون طاہر اے خان ۔مشہور بزنس میں فاروق افضل سمیت صنعت کاروں تاجروں اور عمائدین شہر کی بڑی تعداد تقریب میں شریک ہوئی۔ تقریب میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک تھی ۔تلاوت قرآن پاک کے بعد تقریب میں نظامت کے فرائض انجام دینے والے مسٹر عمر نے احسن مختار زبیری کو بطور سیکرٹری جنرل سی پی ایس ڈی ،خطبہ استقبالیہ کے لیے مدعو کیا ۔احسن مختار زبیری نے تنظیم کا مختصر تعارف کرانے کے بعد تمام مہمانوں کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔



تقریب کے آغاز پر ہی فلپائن کے سفیر اور قونصل جنرل کو تنظیم کی جانب سے سندھ کے روایتی تحائف سندھی اجرک پیش کی گئی ۔فلپائن کے سفیر نے اپنے خطاب اور پریزنٹیشن میں فلپائن کی تاریخ ، حالات ،سیاست معیشت و تجارت ،سیکیورٹی کی صورتحال دہشت گردی کے خلاف اقدامات ،ترقی کی رفتار ،بیرون ملک کام کرنے والے ایک کروڑ فلپینی باشندوں کی ملازمتوں اور ان کی جانب سے بھیجے جانے والے زرمبادلہ کے ثمرات ۔فلپائن میں انڈسٹری پروڈکشن سروسز کنسٹرکشن ہیلتھ پبلک ہیلتھ اینڈ سیفٹی اینڈ فوڈ کی درآمدات و برآمدات کے حوالے سے تفصیلی اعداد و شمار پیش کیے فلپائن کی تاریخ فائنل پر قرضہ جات فلپائن کی ترقی کے راز بیان کیے اور فلپائن کی معیشت کے ماڈل کا ذکر کیا انہوں نے پاکستان اور فلپائن کے درمیان ستر سالہ تعلقات ۔دونوں ملکوں اور ان کے باشندوں کے درمیان پائے جانے والے قریبی تعلقات۔



ایک دوسرے کے ملکوں میں رہنے اور آپس میں مسلمان ہونے کے ناطے رشتے ۔تعاون اور اور مستقبل میں تجارتی روابط کے فروغ کے امکانات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے حوالے سے انٹیلی جنس شیئرنگ اور اہم گرفتاریوں میں ہونے والی پیش رفت کا حوالہ بھی دیا ۔فلپائن کے سفیر نے پاکستان اور فلپائن کے علاقوں زبانوں قوموں کی مماثلت اور خصوصیات کے حوالے گنوائے ۔انہوں نے سندھ پنجاب بلوچستان خیبر پختونخوا گلگت بلتستان کے نام بھی لیے اور ناران کاغان سمیت پاکستان کے مختلف تفریحی اور سیاحتی مقامات کا خصوصی طور پر ذکر بھی کیا ۔حاضرین نے ان کی پریزنٹیشن کو بے حد پسند کیا کیونکہ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے صنعت کار اور تاجر کن شعبوں میں فلپائن کے ساتھ زیادہ اعتماد کے ساتھ آزادانہ تجارت کر سکتے ہیں فلپائن کے بڑے لوگ بڑی تعداد میں غیر ملکوں میں رہتے ہیں وہاں سے ڈالر کما کر فلپائن بھیجتے ہیں اور وہاں نئے گھر بنا رہے ہیں۔



پاکستان فلپائن میں کنسٹرکشن اینڈ ہاؤسنگ کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کر سکتا ہے پاکستان سے بڑی تعداد میں لیبر سیمنٹ اور چاول وہاں جا رہے ہیں دونوں ملکوں میں پھلوں سبزیوں ادویات ٹیکنالوجی کیمیکلز ز مشینری کیا لین دین ہو رہا ہے دونوں ملکوں کی باہمی تجارت میں گزشتہ 2 سال میں حیران کن حد تک اضافہ ہوا ہے اور فلپائن نے بڑی مقدار میں پاکستان سے چاول اور سیمنٹ خریدا ہے آنے والے دنوں میں فلپائن پاکستان سے مزید اشیاء خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے اسی طرح پاکستانی تاجر بھی فلپائن کی معاشی پالیسیوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔تقریب کے آخر میں پاکستان فلپائن کے ستر سالہ سفارتی تعلقات کے سلسلے میں خصوصی طور پر تیار کیا گیا ایک کاٹا گیا اور خود تکلف ڈنر سرو کیا گیا ۔پروگرام کے شرکاء نے فلپائن کے سفیر کو بہترین سفارتکار کے ساتھ ساتھ بہترین اکانومسٹ کا خطاب بھی دیا ۔تقریب میں جیوے پاکستان ڈاٹ کام کے چیف ایڈیٹر اور کراچی پریس کلب کے سامنے صدر طاہر حسن خان اور دیگر صحافی بھی شریک تھے ۔