بلوچستان میں صحافت اور سرکاری ملازمت کرنے والوں کیخلاف دائر آئینی پٹیشن پر بلوچستان ہائی کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

آئین کے آرٹیکل کنڈکٹ رول1979 سیکشن 16 اور بیڈا ایکٹ2011 کے تحت کوئی بھی سرکاری ملازم یا صحافی دونوں شعبوں سے ایک وقت میں وابستہ نہیں ہوسکتا، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ
متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحافی جو کہ سرکاری ملازمت کرتے ہیں وہ مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتے ہیں ان کیخلاف تادیبی کارروائی کی جائے،طاہرہ صفدر
کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر) بلوچستان میں صحافت اور سرکاری ملازمت کرنے والوں کیخلاف دائر آئینی پٹیشن پر بلوچستان ہائی کورٹ نے فیصلہ سنا دیا اب کوئی بھی صحافت اور سرکاری ملازمت ایک ساتھ نہیں کرسکتا،

[embedyt]https://www.youtube.com/watch?v=3bgDy9yZWxY[/embedyt]

فیصلے کے بعد بلوچستان کےحقیقی صحافیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تفصیلات کی مطابق سرکاری ملازمت اور صحافت ایک ساتھ کرنے والے بااثر لوگوں کے کیخلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں مستونگ سے تعلق رکھنے والے صحافی اللہ بخش نے آئینی پیٹیشن دائر کر رکھی تھی،  جس کا فیصلہ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ طاہرہ صفدر نے سنایا، انہوں نے  برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل کنڈکٹ رول 1979سیکشن 16 اور بیڈا ایکٹ 2011 کے تحت کوئی بھی سرکاری ملازم یا صحافی دونوں شعبوں سے ایک وقت میں وابستہ نہیں ہوسکتا،



انہوں نے متعلقہ محکموں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہاکہ متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحافی جو کہ سرکاری ملازمت کرتے ہیں وہ مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتے ہیں ان کیخلاف تادیبی کارروائی کی جائے، اس فیصلے بعد بلوچستان کے حقیقی صحافیوں میں خوشی لہر دوڑ گئی انہوں نے عدلیہ کا شکریہ ادا کرتےہوئے امیدا ظاہر کی ہے کہ ان بااثر لوگوں کے کیخلاف جلد سے جلد کارروائی کی جائے اور پریس کلبوں سے ان کی ممبر شپ ختم کردی جائے اور تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو نوٹس جاری کئے جائیں، پٹیشن دائر کرنے والے صحافی اللہ بخش کو بلوچستان بھر کے حقیقی صحافیوں کی جانب سے مبارک باد اور خراج تحسین پیش کیا گیا۔