سابق جج سلاخوں کے پیچھے کیوں؟

یہ تصویر ملاحظہ کیجئے اس میں آپ سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ ندیم اظہر صدیقی کو دیکھ رہے ہیں اس وقت وہ سندھ ریونیو بورڈ ایپلٹ ٹریبونل کے سربراہ ہیں ان کا شمار نہایت ذہین اور قابل قانون دانوں میں ہوتا ہے ملک میں قانون کی بالا دستی کے لیے ان کا کردار خدمات شاندار ہیں نہایت اعلٰی اوصاف کے مالک انسان ہیں خلوص محبت اور شرافت ان کی پہچان ہے ہنس مکھ اور باذوق آدمی ہیں اعلٰی اخلاقی روایات کے امین ہیں۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا بہترین انسان سلاخوں کے پیچھے کیا کر رہا ہے۔ سوال بھی قدرتی بنتا ہے کہ اہل شخص سلاخوں کے پیچھے کیوں کھڑا ہے۔ بطور جج تو یہ شخص خود کتنے ہی لوگوں کو سلاخوں کے پیچھے بھیج چکا ہے یا سلاخوں کے پیچھے سے باہر نکال چکا ہے۔ پھر ایسا کیا ماجرہ ہے کہ یہ شخص خود سلاخوں کے پیچھے جا کر کھڑا ہوا۔

ارے آپ بالکل بھی پریشان مت ہو۔ اس شخص نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا کہ اسے سلاخوں کے پیچھے جانا پڑے۔ اللہ کا شکر ہے موصوف ٹھیک ٹھاک ہیں اور یہ تصویر جس میں اپنے سلاخوں کے پیچھے دیکھ رہے ہیں۔ کسی جیل یا تھانے کی نہیں ہے بلکہ سندھ ہائیکورٹ کی تصویر ہے۔ یہ سندھ ہائیکورٹ کی راہداری کے باہر لگی ہوئی ہیں۔ صرف یہ تصویر کا کمال ہے تصویر اس انداز سے کھینچی گئی ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ ندیم اظہر صدیقی سلاخوں کے پیچھے کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ اس لیے تو کہا جاتا ہے تصویر کا ایک رخ مت دیکھ کر فیصلہ کریں بلکہ تصویر کے دونوں رخ دیکھنے کی کوشش کریں۔ جیوے پاکستان ڈاٹ کام انتظامیہ اپنی اور اپنے قارئین کی جانب سے جسٹس ریٹائرڈ ندیم اظہر صدیقی کے ساتھ نیک تمناؤں کا اظہار کرتی ہے اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ اپنے حفظ امان میں رکھے اور وہ خوش و خرم زندگی گزارتے رہیں۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں