حالیہ مقدمات پانی کا بلبلہ ہیں ،ہم تمام کیسز میں سرخرو ہونگے، آپ اپنی فکر کریں، قوم کو جس عذاب میں ڈالا ہے اس سے کس طرح نکالیں گے؟ سید مراد علی شاہ

کراچی (نامہ نگار خصوصی ) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم ہر چیز کے لئے تیار ہیں، یہ حالات پہلے بھی دیکھ چکے ہیں،حالیہ مقدمات پانی کا بلبلہ ہیں ،ہم تمام کیسز میں سرخرو ہونگے، آپ اپنی فکر کریں، قوم کوجس عذاب میں ڈالاہے اس سے کس طرح نکالیں گے؟،لوگ کہتے ہیں کہ عذاب آیا ہے مگریہ کہتے ہیں کہ خان آیا،مجھے معلوم ہے اسلام آباد میں مجھے پسند نہیں کیا جاتا، ساری زندگی وزیر اعلیٰ نہیں رہوں گا،جب تک پارٹی اور ایوان چاہے گامیں اس منصب پررہونگا،کل کا علم صرف اللہ کو ہے ۔سندھ حکومت مالی مشکلات کے باوجود سندھ کے عوام کی بھر پور انداز میں خدمت کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔

[embedyt]https://www.youtube.com/watch?v=3bgDy9yZWxY[/embedyt]

انہوں نے یہ بات منگل کو سندھ اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر گزشتہ سات روز سے جاری بحث کو سمیٹے ہوئے کہی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ہم سندھ کے حقوق پر ہردم بات کریں گے اور اس پر بات کریں گے کیونکہ میری قیادت نے اس بات کا سبق دیا ہے ،میرے خلاف بات کرلیں مگر میری دھرتی کے خلاف کوئی بات کرے گاتو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ بجٹ تقاریر اس طرح کی گئیںجس سے ثابت کرنا مقصود ہو کہ سندھ کے لوگ بڑے ظالم ہیں اور نجانے کیسے خطرناک بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ صوفیوں کی سرزمین ہے اس نے سب کو اپنے دل میں جگہ دی یہ زمین پیار اور محبت دینے والی زمین ہے۔انہوں نے کہا کہ میں 125واں ممبر ہوں جو تقریر کررہا ہے۔



اس سے قبل 2014 اور 13 میں 119 اراکین نے تقاریر کی تھیں،باقی تین صوبائی اور قومی اسمبلی سے تقابلی جائزہ پیش کرنا چاہتاہوںشکایت کی جاتی ہے بولنے نہیں دیا جاتا ہے کل خواجہ اظہار نے تقریر کی الزامات بھی لگائے ،اسپیکر کے سامنے احتجاج کیا جاتا رہا روسٹرم پر بھی گئے مگر ہم نے برداشت کیا اور آئندہ بھی کریں گے ۔44 گھنٹے مسلسل تقاریر ہوئی ہیں اور شرطیہ کہتا ہوں کسی اور اسمبلی میں اتنا نہیں بولا جاسکتا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 25 گھنٹے اپوزیشن نے اور 19 گھنٹے حکومتی اراکین نے بات کی ہے ،ہماری کارکردگی کو بے شک نہ سراہیں مگر کم از کم ہماری بات تو سنیں۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے قومی اسمبلی میں مختلف پارٹیوں کو تقاریر کے لئے ملنے والے وقت کی بھی تفصیل بیان کی ۔ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں سات آٹھ منٹ بات کرنے دی جاتی ہے مگر یہاں آستینیں چڑھادی جاتی اور لیڈر بنادیا جاتا ہے ۔انہوں نے نشاندہی کی کہ جب اپوزیشن لیڈر تقریر کررہے تھے آپ کے اپنے پارلیمانی لیڈر اور خرم شیرزمان بھی موجود نہیں تھے ،اپوزیشن لیڈر کی تقریر پر کنور نوید بھی موجود نہ تھے باہر سے پیچھے سے لوگ بلاکر نشستیں بھری گئیں، جمہوریت سے کمٹمنٹ یہ ہوتی ہے کہ ہماری طرف وزراءبیٹھے تھے مگر اس طرف نشست خالی تھیں،کل خواجہ اظہار موجود تھے۔



آج تو وہ بھی موجود نہیں ،کہا جاتا ہے کہ بولنے نہیں دیا جاتا بھائی اس دھرتی سے وفا جو کرے گا وہی رہے گا باقی جو وفا نہیں کرے گا وہ واپس جائے گا۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کو کتنا بولنے دیا گیا،یہاںاپوزیشن لیڈر نے تین گھنٹے تقریر کی مگر باتیں وہی جو دوسروں نے کی تھیں،تقریر سے کچھ نہیں ہوگا اصل بات مقصد کی ہونی چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے جھوٹا کہا گیا ان کو جھوٹا نہیں کہوں گا بلکہ وہ خود کو سمجھیں۔انہوں نے کہاکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ایک سال کے دوران ریکارڈ کمی ہوئی ہے ۔لوگ کہتے ہیں کی عذاب آیا ہے مگریہ کہتے ہیں کہ خان آیا۔انہوں نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل کے گزشتہ اجلاس میں تین وزرائے اعلیٰ نے واک آﺅٹ کی اس مرتبہ وزیر اعظم اجلاس سے ہی اٹھ کر چلے گئے ، وہاں سندھ کی زیادہ بات کرنے پر وزیر اعظم نے کہا کہ آپ بہت بولتے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کے فور منصوبے پر کام جاری رہنا چاہئے ۔ پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے وزیر اعظم سے کہا کہ اس منصوبے پر کام روک دیں، ہم کہتے ہیں اس منصوبے کے حوالے سے تحقیقات کرائیں اگر کوئی غلط کام ہوا ہے تو سزا دیں۔



بلاول ہاﺅس کے بارے میں کہا گیا کہ کس طرح خرید لیا گیا۔ بنی گالہ کے بارے میں تو چید جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے۔انہوں نے کہا کہ سرکلر ریلوے ڈھائی ارب ڈالرز کا منصوبہ ہے سندھ حکومت تنہا اس پر کام نہیں کرسکی اس سلسلے میں ہمیں وفاقی حکومت کی مدد درکار ہے۔انہوں نے سندھ کی مالی مشکلات کا ذکر رتے ہوئے کہاکہ مجھے معلوم ہے کہ مجھے اسلام آباد میں پسند نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ وفاق نے کہا تھا کہ آپکو 665 ارب ملیں گے ،ہم نے اپنے بجٹ میں لکھ دیا ،پیسے بڑھانے کا کون کہتا ہے یہ آواز بھی ادھر سے آتی ہیں ،ایم پی ایز کی تنخواہ بڑھانے نے کے لئے کس نے کہا؟عوام تو بچارے کہتے نہیں ہم نے ان کی تنخواہ می…