کے فور منصوبہ ۔ بہتی گنگا میں سب ہاتھ دھونے لگے

تحریر طاہر حسن خان

ڈیزائن میں ایک مرتبہ پھر تبدیلی۔ اس مرتبہ نیسپاک کی لاٹری نکل آئی۔ کے فور منصوبہ سفید ہاتھی بن چکا۔ اربوں روپے ۔اصل لاگت سے زیادہ خرچ ہونے کے باوجود کام دھرے کا دھرا۔ جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم کے چلے جانے کے بعد کالی بھیڑیں کے فور منصوبے میں پھر سرگرم ہوگئی. کے فور منصوبہ نیب کی توجہ کا منتظر۔

25 فروری 2019ء رونے والا سندھ کابینہ کا اجلاس بنیادی طور پر نیسپاک کے معاملے کی نظر ہو گیا۔ پاک سے حال لوگوں کا کہنا ہے کہ اجلاس دراصل بلایا ہی نسپاک کے لئے گیا تھا۔ کراچی کو پانی فراہم کرنے کے منصوبے کے فور میں کے ڈیزائن میں ایک مرتبہ پھر تبدیلی کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ ماضی میں بھی ڈیزائن کو بار بار تبدیل کیے جانے کی وجہ سے منصوبے پر اربوں روپے کی لاگت کا اضافہ ہوا تھا۔ جس پر واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا ۔۔۔۔کے فور کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈیزائنر کے حوالے سے بہت سی شکایات سامنے آئی تھیں ۔۔،۔۔افسران کو تبدیل بھی کیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اب ایک مرتبہ پھر ڈیزائن تبدیل کرنے پر اہم شخصیات کو آمادہ کر لیا گیا ہے معلوم ہوا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومت کی اہم شخصیات کو نیسپاک کے ذریعے ایک پیج پر جمع کیا گیا ہے اور کے فور کے منصوبے میں نیسپاک ہو سب سے بڑا سٹیک ہولڈر بنا کر لایا جا رہا ہے اس سے پہلے جو کنسلٹنٹ کمپنی ڈیزائن تیار کر رہی تھی اس کو خوبصورتی سے باہر نکال دیا گیا ہے ون روس کے ایک سابق اعلیٰ افسر کے دو بیٹے کے فور کے منصوبے میں اور نیسپاک کی جانب سے آنے والے دنوں میں اہم معاملات کی نگرانی کریں گے یہ منصوبہ اپنی اصل لاگت سے کہیں ارب روپے زائد خرچ کرچکا ہے جسٹس امیر ہانی مسلم کے چلے جانے کے بعد واٹر کمیشن غیر فعال ہو چکا ہے اور کے فور منصوبے کی کالی بھیڑیں سرگرم ہوئی ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ نیب کے لیے ایک آئیڈیل کیس کی حیثیت رکھتا ہے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا جاتا ہے کہ نیا میں اب تک اس معاملے کو کیوں نہیں اٹھایا ۔۔۔۔۔اگر ہٹائے گئے افسران اور تبدیل کی گئی کمپنی کے ذمہ داران کو نئے بلا کر پوچھے تو بہت سے انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔

کے فور پروجیکٹ کی ڈزائن رویوکیلئے نیسپاک کی خدمات حاصل کرنے پر سندھ کابینہ کا غور

کے فور پروجیکٹ 25.551 بلین روپے کا تھا اور اس کے 50 فیصد فنڈز سندھ اور 50 فیصد وفاقی حکومت کو دینے تھے

اب کے فور کے مزید کام سامنے آئے ہیں جو کرنے ہیں

اس کاموں میں 50 میگاواٹ کا پاور پلانٹ، کچھ روٹس میں چینجنگ وغیرہ شامل ہیں

سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ اور وزیر بلدیات سعید غنی کی کابینہ کو تفصیلی بریفنگ

وفاقی حکومت بھی چاہ رہی ہے کہ نیسپاک کے فور کے ڈزائن رویو کرے، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم

وزیراعلیٰ سندھ نے کے فور پر تفصیلی بریفنگ دی

یہ پروجیکٹ جب بنایا گیا تھا تو 45 بلین روپے کا تھا پھر اس کو کم کر کے 25 بلین روپے کیا گیا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

حیسکو اس کیلئے بجلی فراہم کرنے کیلئے راضی نہیں، اسلیئے کے لائن پاور پاور پروجیکٹ لگا رہے ہیں: وزیراعلیٰ سندھ

کابینہ نے کے فور پروجیکٹ کیلئے نیسپاک کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دیدی

ٹی او آر جلد بنا کر کام شروع کروایا جائے: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ

اپنا تبصرہ بھیجیں