55

پاکستانی کپتان سرفراز احمد کو سرعام ہراساں کرنے اور بدتمیزی کرنے والے شخص نے معافی مانگ لی

پاکستانی کپتان سرفراز احمد کو سرعام ہراساں کرنے اور ان کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے شخص نے پہلے سرفراز احمد اور  پھر پاکستانی ٹیم اور پوری قوم سے اپنے رویے پر معافی مانگ لی ہے اس شخص کے خلاف پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے کارروائی کرنے کے لیے رابطہ بھی کر لیا تھا مذکورہ شخص نے اپنے رویے پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں نے ویڈیو ڈیلیٹ کر دی تھی اس کے باوجود پتہ نہیں کیسے اپلوڈ ہوگئی۔

اپنے رویے پر شرمندہ ہوں اور معافی مانگتا ہوں دوسری طرف پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے رابطہ کیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان کے کھلاڑیوں کو جان بوجھ کر ہراساں کیے جانے کے واقعات ہورہے ہیں اس کی تحقیقات کی جائے۔ پاکستانی کھلاڑی وہاب ریاض نے اپنے پرستاروں اور قوم کے نام پیغام میں کہا تھا کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے کھلاڑیوں کی فیملی کو تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے ہماری کارکردگی پر ضرور بات کی جائے۔



ادھر پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے سینئر کھلاڑیوں کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ وہ ٹی وی پر خدا بن بیٹھے ہیں اور ہمارے بارے میں جو تبصرے کر رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کرکٹ کھیلنا ہی نہیں آتی اگر میں نے کسی کے بارے میں کچھ کہا تو پھر کہا جائے گا کہ بڑے کھلاڑیوں کو جواب دیتا ہے۔
سوشل میڈیا پر پاکستانی کھلاڑیوں پر تنقید کے ساتھ ساتھ یہ سوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ سینئر کھلاڑی جب قومی ڈیوٹی پر ہیں اور پاکستان کا نام ان کے ساتھ جڑا ہوا ہے تو پھر وہ اتنے بڑے ٹورنامنٹ میں رات گئے تک شیشہ بار میں کیا کرتے رہتے ہیں ا نہیں تو اپنی تمام تر توجہ صرف کھیل پر مرکوز رکھنی چاہیے۔



ان کی بیگمات اور بچوں کا بھی قصور ہے کہ وہ اتنے بڑے ٹورنامنٹ میں ان کو اکیلا نہیں چھوڑ رہے ۔مگر پی سی بی PCB کا یہ بھی  کہنا ہے کہ کھلاڑیوں نے ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں کی اور کرفیو ٹائمنگ کی پابندی کی ہے لیکن اس کے باوجود شائقین کرکٹ کی جانب سے کھلاڑیوں کے خلاف زبردست تنقید کی گئی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف اہم میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے شعیب ملک اور حسن علی کو ڈراپ کر دیا اور ان کی جگہ شاہین آفریدی اور حارث سہیل کو کھلایا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں