سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے جعفرطیارسوسائٹی میں عمارتی حادثے کواندرون عمارتی کالمز کاٹنے اورکھدائی کو وجہ قراردیتے ہوئے ابتدائی رپورٹ پیش کردی

کراچی ( رپورٹ نغمہ اقتدار) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے جعفرطیارسوسائٹی میں عمارتی حادثے کواندرون عمارتی کالمز کاٹنے اورکھدائی کو وجہ قراردیتے ہوئے ابتدائی رپورٹ پیش کردی ہے۔ واقع کی اطلاع ملتے ہی ڈائریکٹرجنرل افتخارعلی قائم خانی نے جائے حادثہ کادورہ کیااورموقع پر سروے اورریسکیوکے کاموں کاجائزہ لیا۔تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹرجنرل ایس بی سی اے کی ہدایات پر ٹیکنیکل کمیٹی نے جائے حادثہ کامعائنہ کرکے اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کردی ہے ماہرین تعمیرات وانجینئرز پر مشتمل کمیٹی برائے خطرناک ومخدوش عمارات کی ابتدائی رپورٹ میں بتایاہے کہ حادثے کا شکارعمارت رہائشی پلاٹ نمبر A-51،سروے نمبر 552جعفرطیارسوسائٹی ملیرٹاؤن پر واقع اوراس کی تعمیرات پرانی تھی، گراؤنڈپلس 2منزلہ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر امام بارگاہ اوربالائی دونوں منزلیں رہائشی استعمال میں تھیں مالک مکان نے ایس بی سی اے کی اجازت کے بغیرگراؤنڈفلور میں اندرون عمارت توڑپھوڑ کاکام جاری کیاہواتھااس دوران تعمیراتی اصولوں کے برخلاف عمارتی کالمزکوکاٹنے اور کھدائی وغیرہ کاکام کیاگیاجس کی وجہ سے عمارتی اسٹریکچر کونقصان پہنچاکیونکہ عمارت کارنر ہونے کی وجہ سے کوئی اضافی سپورٹ نہیں تھی اس لئے اپنے ہی بوجھ سے فوری مین بوس ہوگئی ۔جائے حادثہ پرملبہ اٹھانے اورنیچے دبے ہوئے افراد کونکالنے کاکام جاری ہے اس سلسلے میں حتمی رپورٹ ملبے کی صفائی کے بعد پیش کی جائے گی ۔ڈائریکٹرجنرل ایس بی سی اے افتخار قائم خانی اطلاع ملتے ہی جائے حادثہ کادورہ کرکے ریسکیو اورایس بی سی اے کی معائنہ ٹیم کے کام کاجائزہ لیااس موقع پر انہوں نے حادثے میں ہلاکتوں پر افسوس کااظہار کیا۔ اس موقع پرسینئرڈائریکٹراورچیئرمین ٹیکنیکل کمیٹی برائے خطرناک عمارات آشکارداور اور ان کی ٹیم ، ڈائریکٹرآف بلڈنگ ملیرٹاؤن عبدالحمید سمیت ڈپٹی واسٹنٹ ڈائریکٹرز اورڈیمالیشن افسران بھی ان کے ہمراہ وہاں موجود تھے ۔ واضح رہے کہ ایس بی سی اے کی جانب سے اس حوالے سے بارہاعوام الناس کوآگاہ کیاگیاہے کہ عمارت کتنی مضبوط کیوں نہ ہو اس میں کسی بھی قسم کے تعمیراتی ردوبدل ،توڑپھوڑ کے سلسلے میں تعمیراتی قواعدکے مطابق ایس بی سی اے کے ماہرین تعمیرات انجینئرزسے رجوع کرکے انکی اجازت اور مشورے کے مطابق ہی کام کیاجائے تاکہ ایسے حادثات اوران سے جنم لینے والے سانحات سے تحفظ کوممکن بنایاجاسکے

اپنا تبصرہ بھیجیں