متاثرہ سماعت بچوں کے والدین کےلئے خصوصی تجاویز

عام طور پر مشاھدہ کیا گیا ھے کہ متاثرہ سماعت ( گونگے بہرے ) بچوں کے لئے ابتدائی تعلیم و تربیت کے لئے بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ھے مگر مناسب معلومات نہ ھونے کی وجہ سے والدین سکول سے پہلے گھر میں متاثرہ سماعت بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت اور دیکھ بھال نہیں کر سکتے جس سے متاثرہ سماعت بچوں کی مناسب تربیت نہیں ھو سکتی اور والدین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ھے
بدقسمتی سے ھمارے ھاں کوئی ایسا مناسب گائیڈنس اور کونسلینگ کا کوئی مناسب ادارے موجود نہیں ھے جو معذور بچوں کے والدین کی راہنمائی کرے اور ان کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے کوئی پلاننگ کر سکے ویسے تو عام طور پر پاکستان میں نارمل بچوں کے لئے بھی کوئی گائیڈنس اینڈ کونسلینگ سروس کا کوئی مناسب سلسلہ موجود نہیں کہ ان کے لئے مستقبل میں کون سا پیشہ مناسب رھے گا صرف اللہ توکل ھی کام چل رھا ھے جس کی وجہ سے نوجوان نسل شتر بے مہر کی طرح ھی اپنے نامعلوم منزل کی رواں دواں ھے جس سے نوجوان بچوں کا قیمتی وقت سرمایہ اور مستقبل تباہ ھو رھا ھے
بہرے بچوں کے والدین اپنے بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت میں بہت زیادہ معاون ثابت ھو سکتے ھیں بلکہ حقیقت میں والدین ھی ابتدائی تعلیم کے استاد ھوتے ھیں کیونکہ بچے اپنی زندگی کے ابتدائی چار سے پانچ سال اپنے والدین خصوصاً والدہ کے ساتھ ھی بسر کرتے ھیں بچوں کی تعلیم و تربیت میں والدہ کا کردار بہت زیادہ اھمیت کا حامل ھوتا ھے متاثرہ سماعت بچے کو نارمل بچے کی نسبت ابتدائی تعلیم کی زیادہ ضرورت ھوتی ھے کیونکہ عام بچے بہت سے معلومات سن کر حاصل کر سکتے ھیں اور وہ خود بولنا شروع کر دیتے ھیں عام بچوں میں ذخیرہ الفاظ بہت زیادہ ھوتے ھیں
ڈیف بچے کے گفتار کے اعضاء ٹھیک ھوتے ھیں لیکن سماعت کی کمی کی وجہ سے زباندانی اور گفتار کی نشوونما میں رکاوٹ پیدا ھو جاتی ھے اس لیے والدین کو متمتاثرہ سماعت بچے کی ابتدائی تعلیم کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ھوتی ھے
اگر اپ کا نومولود بچے اپ کی اواز پر رسپانس نہ دے تو اور نہ ھی کسی قسم کی اواز کی طرف توجہ دے تو ماں کو چاھیے کہ وہ بچے کی طرف پوری توجہ دے اور کوشش کریں مختلف اشیاء کی اوازیں نکال کر بچے کو اپنی طرف متوجہ کرے اور ان اوازوں کی پہچان کرے
آگر اپ کا بچے کسی بھی اواز یا شور پر رسپانس نہ کرے تو فوری طور پر ای این ٹی ڈاکٹر یا اڈیالوجسٹ سے رابط کریں اور بچے کی سماعت چیک کروائیں اگر اس کے کسی کان میں نقص ھو تو کوشش کریں اڈیومیٹری رپورٹ کے مطابق ہیرنگ ایڈ لگوائیں
ڈیف بچوں سے اسان الفاظ اور مختصر جملے بولے جائیں اور گفتگو کے دوران اصل اشیاء کو بھی دکھایا جائے
اپنے اردگرد موجود اشیاء کے بارے معلومات دی جائے کمرے اور گھر میں موجود اشیاء کے نام لے کر ڈیف بچے کو گفتار خوانی کروانے کی کوشش کریں
ڈیف بچے سے گفتگو کرتے وقت شروع شروع میں ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں جو ہونٹوں سے اسانی سے ادا کیے جا سکیں جیسے گیند کی جگہ بال، الو,بابا ،پھول وغیرہ
متاثرہ سماعت بچوں کو روز مرہ زندگی میں استعمال ھونے والے جملے و الفاظ سکھانےکی کوشش کرنی چاھیے مثلا کھاو ۔میرے پاس او, سو جاو ،اٹھو ،پانی لاو،جاو وغیرہ وغیرہ
ابتدا میں ڈیف بچے کو اپنے گھر والوں کے نام ،کھانے پینے کی اشیاء کے نام اور اپنے اردگرد پڑی اشیاء کے نام بتائے جائیں
اپنے ڈیف بچوں کی ابتدائی تعلیم کے دوران والدین کو چاھیے کہ وہ اپنے بچے سے بھرپور پیار و محبت اور توجہ دیں ان کو اگنور نہ کریں تاکہ ایسے بچے کسی قسم کے احساس کمتری کا شکار نہ ھو جائیں بلکہ ان کے ساتھ باکل نارمل بچوں کی طرح ھی برتاؤ کرنا چاھیے ڈیف بچوں کو زیادہ سے زیادہ عام بچوں کے ساتھ کھیلنے کودنے کے مواقع فراھم کرنا چاہئے اور ان بچوں کو زیادہ ذمہ داریاں سونپی جانی چاھیے تاکہ ان کے اندر اعتماد اور خود انحصاری پیدا ھو
گونگے بہرے بچے کی نفسیاتی ذہنی اور جسمانی ضروریات ایک عام بچے کی طرح ھی ھوتی ھیں اس لئے ڈیف بچوں کو تعلیم و تفریحی مشاغل کی سہولیات فراھم کرنا والدین کی ذمہ داری ھوتی ھے
والدین کو اپنے متاثرہ سماعت بچوں میں خود اعتمادی ، نظم و ضبط اور ڈسپلن کی عادات پیدا کرنی چاھیے تاکہ جب یہ بچے سکول جائیں تو انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ باسانی نظم و ضبط ڈسپلن پر عمل درامد کر سکیں
عام طور پر دیکھا گیا ھے کہ ڈیف بچوں کی اکثریت میں کچھ نہ کچھ سماعت ھوتی ھے اس بقایا سماعت کو استعمال کرنے کے لیے الہ سماعت سب سے زیادہ اھمیت رکھتا ھے الہ سماعت (Hearing Aids ) کی مدد سے ڈیف بچے کسی نہ کسی درجے پر اوازوں کو سن سنتے ھیں اس لئے والدین کی پہلی ذمہ داری یہ ھونی چاھیے کہ اپنے گونگے بہرے بچے کی سماعت کی جانچ کروائیں اور اس کے مطابق اس کو مناسب ہیرنگ ایڈ للگوائیں جس طرح نظر کی کمی کو دور کرنے کے لئے عینک استعمال کرتے ھیں الہ سماعت کے بعد اپنے بچے کو سیپچ تھراپی ، زبان دانی کروائیں تربیت سماعت کے ذریعے ڈیف بچوں کو مختلف اوازوں کی پہچان اور تمیز کروائی جاتی ھے تربیت سماعت ایک کھٹن اور محنت طلب کام ھے لیکن اپنے ڈیف بچے کی نشوونما اور بہتری کے لیے نہایت ضروی ھے
گھر میں ڈیف بچے کی ابتدائی تعلیم و تربیت نہایت ضروری ھے جو انے والی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ھی بلکہ ڈیف بچے کی اچھی تعلیمی پرفارمیس / کارگردگی کا انحصار ابتدائی تعلیم و تربیت پر ھی ھوتا ھے

تحریر ۔۔شہزاد بھٹہ