120

انجمن فروغ اردو ادب کویت کے زیر اہتمام 10 واں عالمی مشاعرہ… رپورٹ: طارق اقبال

معروف شاعر عزیز نبیل اور گہر اعظمی کی کتابوں کی تقریب رونمائی
کویت میں اردو زبان کی ترویج و فروغ میں عبداللہ عباسی کو خراج تحسین
انجمن فروغ اردو ادب کویت کے زیر اہتمام جمعرات 20 جون کو کویت میں 10 ویں عالمی مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا ،یہ تقریب اس لحاظ سے منفرد حیثیت کی حامل تھی کہ اس میں دو مہمان شعراء عزیز نبیل اور گہر اعظمی کی کتابوں کی تقریب رونمائی کی گئی۔تقریب کی صدارت ڈاکٹر صالحہ جواد موسیٰ نے کی، مہمان خصوصی مہمان شاعر گہر اعظمی تھے جبکہ قطر سے تشریف لانے والے ممتاز شاعر عزیز نبیل مہمان اعزازی تھے۔ کمپئیرنگ کے فرائض قطر سے تشریف لانے والے مہمان شاعر ندیم ماہر اور عبداللہ عباسی نے یکے بعد دیگرے انجام دئیے۔مقررین نے انجمن فروغ اردو ادب کے بانی و صدر عبداللہ عباسی کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کویت میں اردو ادب کیلئے تاریخی خدمات سر انجام دی ہیں،وہ 10 عالمی مشاعروں میں 65 سے زائد بین الاقوامی شعراء کو مدعو کر جکے ہیں۔


کارروائی کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت محمد رشید نے حاصل کی، انہوں نے مقدس قرآنی آیات کی تلاوت کے علاوہ ترجمہ بھی پیش کیا۔ حمد باری تعالیٰ سعد سلمان نے پیش کی،
کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے۔
مہمان شاعر ندیم ماہر نے نعتیہ اشعار پیش کئے۔
مدینہ کی فضاؤں سے منور ہو کے لوٹا ہوں
درود پاک سے گویا معطر ہو کے لوٹا ہوں
عزیز نبیل کی کتاب ،آواز کے پر کھلتے ہیں اور گہر اعظمی کی کتاب ،قطرے سے گہر ہونے تک کی مشترکہ طور پر تقریب رونمائی کی گئی۔ کویت میں یہ پہلا موقعہ تھا جب دو مہمان شعراء کی کتابوں کی تقریب پذیرائی کی گئی۔ اس سلسلہ میں تقریب کی صدر ڈاکٹر صالحہ جواد موسیٰ ،مہمان خصوصی گہر اعظمی، مہمان اعزازی عزیز نبیل ، معزز مہمانان محمد عارف بٹ،ڈاکٹر وسیم،اسد بیگ۔



رانا اعجاز حسین سہیل،سائیں نواز اور تقریب کے میزبان عبداللہ عباسی کو اسٹیج پر انے کی دعوت دی گئی۔شرکاء نے تالیاں بجا کر مہمان شعراء کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ریڈیو کویت اردو سروس کی ٹیم کا تعارف سامعین کے لئے ایک سرپرائز تحفے طور پر کرایا گیا۔شرکاء کو بتایا گیا کہ 1974 میں ڈاکٹر صالحہ جواد موسیٰ کی کاوشوں سے ریڈیو کویت اردو سروس کا آغاز کیا گیا۔ریڈیو کویت اردو سروس کی ٹیم کے دیگر ارکان ابوبکر پایولی،انجم فاطمہ،رضیہ اشرف،عبداللہ عباسی،ندا مرزا اور برکت خاں کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔



ریڈیو کویت اردو سروس کے حوالہ سے ایک سلائیڈ بھی پجش کی گئی۔جو کہ ندا مرزا نے بہت محنت سے تیار کیا تھا اس موقعہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے عبداللہ عباسی نے کہا کہ ریڈیو کویت اردو سروس ایک ٹیم کی طرح کام کرتی ہے اور وہ تمام سننے والوں کی محبت 200 گنا کر کے واپس لوٹائیں گے،انہوں نے کہا کہ 45 سال قبل ڈاکٹر صالحہ جواد موسیٰ کی کوششوں سے ریڈیو کویت اردو سروس کا آغاز ہوا تھا ۔ کیک کاٹنے کی رسم ادا کی گئی جس کیلئے معزز مہمانان کو باری باری اسٹیج پر مدعو کیاگیا۔ ڈاکٹر صالحہ جواد موسیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 45 سال پہلے ریڈیو کویت اردو سروس کا آغاز کیا گیا تھا ،الحمدللہ یہ سلسلہ آج بھی بڑی کامیابی سے جاری ہے، انہوں نے حسب روایت عبداللہ عباسی،کوہر اعظمی،عزیز نبیل کو ڈالروں کے ہار پہنائے۔ڈاکٹر صالحہ جواد موسیٰ،گوہر اعظمی،عزیز نبیل،وسیم صدیقی،ماہر ندیم،پیر امجد۔آصف جمال ۔اسد خان،عرفان کریم،پیر امجد حسین ،صالح بروڈ، آصف جمال،محمد عارف بٹ، محمد ریاض اور حافظ محمد شبیر کیلئے یادگاری شیلڈز کا اعلان کیا گیا۔درج ذیل شخصیات کو سخن شناس اور سخن فہم ایوارڈز دینے گئے۔چوہدری خلیل احمد،عابد علی،محمد اقبال، محمد طلحہ احسن ،محمد انعام،ڈاکٹر ریاض،اعجاز احمد،رانا اعجاز حسین،سائیں نواز۔



پروگرام کے اگلے حصہ میں مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا تھا،اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے تقریب کے میزبان عبداللہ عباسی نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ تقریب پذیرائی تھی اس لئے شعراء کی تعداد کم رکھی گئی،مشاعرہ کی صدارت کیلئے ڈاکٹر صالحہ جواد موسیٰ،مہمان خصوصی گوہر اعظمی،مہمان اعزازی عزیز نبیل،معزز مہمانان محمد عارف بٹ،عرفان کریم کو اسٹیج پر انے کی دعوت دی گئی۔ مشاعرہ کی کمپیئرنگ کے فرائض عبداللہ عباسی نے اپنے مخصوص انداز سے انجام دئیے،سب سے پہلے کویت میں مقیم شاعرہ محترمہ نازنین علی کو مائیک پر آنے کی دعوت دی گئی،انہوں نے مٹھی بھر خواب کے عنوان سے نظم پیش کی اور خوب داد سمیٹی،نمونہ کلام نذر قارئین ہے:
کچھ اپنے لئے کچھ اپنوں کیلئے



میں گھر کو چھوڑ آیا ہوں
مٹھی بھر خوابوں کی خاطر
اس پار چلا میں آیا ہوں
قطر سے تشریف لانے والے مہمان شاعر ندیم ماہر نے بڑا خوبصورت کلام پیش کیا اور بھرپور داد سمیٹی:
سرحدیں بن رہی ہیں اب مجھ میں
خود کو تقسیم کر رہا ہوں میں
…..
اگر ہم سے شکایت تھی تو پھر اظہار کرنا تھا
معافی مانگ لیتے ہم خطا تسلیم کر لیتے
…..
ہم بزرگوں کی آن چھوڑ آئے

خاندانی مکان چھوڑ آئے
اس قبیلے میں سارے گونگے تھے
ہم جہاں پر زبان چھوڑ آئے
روٹی کپڑے مکان کی خاطر
ہم روٹی کپڑا مکان چھوڑ آئے
…..
کبھی دیوار کبھی در سے اجازت مانگی

ہم نے ہر بار تیرے شہر سے ہجرت مانگی
ہم بھی کچھ ایسے قلندر تھے کہ ہم نے کئ بار
ریت سے جسم لیا دشت سے وحشت مانگی
عزیز نبیل کویت میں منعقد ہونے والےں10 میں سے 9 عالمی مشاعروں میں شرکت کر چکے ہیں، وہ ہمیشہ میزبان کے طور پر شرکت کرتے رہے ہیں ،پہلی مرتبہ انہوں نے مہمان اعزازی کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے بڑے خوبصورت اشعار پیش کئے،نمونہ کلام نذر قارئین ہے:



سلسلے نور کے میں خاک نشین جانتا ہوں
کتنے سورج ہیں یہاں زیر زمین جانتا ہوں
جان لیتا ہوں ہر ایک چہرے کے پوشیدہ نقوش
تم سمجھتے ہو کہ میں کچھ بھی نہیں جانتا یوں
…..
سرائے عشق میں بیٹھے ہوئے ہیں دل والے

بس اک آخری تہمت کے انتظار میں ہیں
…..
میاں تم دوست بن کر ہمارے ساتھ کرتے ہو

وہی ہمارے دشمن جانی بھی کرتے ہیں
…..
میری مٹی میں محبت ہی محبت ہے نبیل

چھو کے دیکھو تو سہی ہاتھ لگاؤ تو سہی
…..
اتارتے رہو صدقے محبتوں کے نبیل

کسی کسی کو عنایت یہ مال ہوتا ہے
…..



آخر میں تقریب کے مہمان خصوصی گوہر اعظمی کو مائیک پر آنے کی دعوت دی گئی جن کی کتاب قطرے سے گوہر ہونے تک کی تقریب رونمائی کی گئی۔وہ 17 کتابوں کے مصنف ہیں،انہوں نے کہا کہ ابتداء میں وہ صرف حمد و نعت لکھتے رہے،بعد میں انہوں نے حالات کے پیش نظر طنز و مزاح بھی لکھا ،نمونہ کلام نذر قارئین ہے:

نعت
فلاح ان کا مقدر بہشت ان کا نصیب
جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقش قدم پر چلتے ہیں
انہوں نے اپنی نظم پیاری ماں سے بھی خوبصورت اشعار پیش کئے
نیک انسان تم کوبننا ہے
کرتی بچوں کو یہ نصیحت ہے
دور رہتی ہے فکر بچوں سے
ماں اگر زندہ و سلامت ہے
بچپن ، کے عنوان سے ان کی نظم بھی بہت پسند کی گئی
مجھ کو یاد آتا ہے بچپن اپنا
یاد آکے جو مجھ کو تڑپاتا ہے



انہوں نے مزاحیہ کلام پیش کرکے محفل کو کشت زعفران بنا دیا
بیوی ایک شوہر جب خوش جمال رکھتا ہے
پھر وہ چار کا دل میں کیوں خیال رکھتا ہے
گھر میں روز ہی اپنے جو دھمال میں رکھتا ہے
پھر وہ چند گنتی کے سر پہ بال رکھتا ہے۔
…..
کاش اس شیطان کی ہو جاتی اک شادی میاں

دیکھتا پھر کس طرح کرتا وہ شیطانیاں
…..
غصہ پی جانا مرد ہونے کی نشانی ایک ہے

غصہ پی جائے تو وہ شادی شدہ ہو گیا میاں
ڈاکٹر صالحہ جواد موسیٰ نے اپنے صدارتی خطاب میں عبداللہ عباسی کو دسویں عالمی مشاعرہ کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔



تقریب کے میزبان عبداللہ عباسی نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ ہم اردو بولتے ۔سمجھتے۔لکھتے اور اردو میں ہی خواب دیکھتے ہیں اردو امانت ہے جو ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے ذریعے آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرنا ہے محبتیں بانٹتے رہا کیجئے، محبتیں بانٹتے رہنے سے پیار بڑھتا ہے۔ شرکاء کیلئے پرتکلف عشائیہ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں