عوام اور تاجر دشمن بجٹ کے خلاف کراچی کی ریلی صرف ٹریلر ہے، اصل فلم بلاول بھٹو کی قیادت میں جلد چلے گی،عوام اور تاجر دشمن بجٹ کے خلاف کراچی کی ریلی صرف ٹریلر ہے، اصل فلم بلاول بھٹو کی قیادت میں جلد چلے گی، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا ریلی کے شرکاء سے خطاب

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے تحت نکالی جانے والی ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ قائدین کی گرفتاریوں کے باوجود حکومت مخالف تحریک چلائی جائے گی، پیپلز پارٹی گرفتاریوں اور انتقامی کارروائیوں سے خوف زدہ ہونے والی نہیں، عوام اور تاجر دشمن بجٹ کے خلاف کراچی کی ریلی صرف ٹریلر ہے، اصل فلم بلاول بھٹو کی قیادت میں جلد چلے گی، ایم کیو ایم عوام دشمن وفاقی بجٹ اور غریب عوام میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔ سلیکٹیڈ حکومت اور وزیر اعظم یو ٹرن کی وجہ سے عوام اعتماد کھو چکیں ہیں۔

[embedyt]https://www.youtube.com/watch?v=3bgDy9yZWxY[/embedyt]

بلاول بھٹو جولائی میں کراچی میں ایک عظیم الشان جلسہ سے خطا ب کریں گے۔ احتجاجی ریلی کی قیادت پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر اور وزیر بلدیات سندھ سعید غنی، سندھ کے جنرل سیکرٹری وقار مہدی، نائب صدر راشد ربانی، عاجز دھامرہ، کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری، جاوید ناگوری، مرزا مقبول، سردار خان، مان اللہ مسعود، آصف خان، خالد لطیف، شکیل چوہدری، ڈسٹرکٹ صدور ظفر صدیقی، خلیل ہوت، لیاقت آسکانی، اقبال ساندھ، جاوید شیخ، جان محمد بلوچ، سلمان مراد، حبیب جنیدی، جاوید نایاب لغاری، اسلم سموں، راشد خاصخیلی، سلیم سومرو، شاہینہ شیر علی اور دیگر نے کی۔ پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کی کال پر ملک میں بڑھتی مہنگائی، موجودہ حکومت کی ناقص معاشی پالیسی اور موجودہ عوام دشمن بجٹ کے خلاف ”پی ٹی آئی ایم ایف ریلی“ کے عنوان سے ریلی پیپلز سیکرٹریٹ، مزار قائد تا کراچی پریس کلب تک نکالی گئی۔ قبل ازیں کراچی کے چھ اضلاع اور ڈسٹرکٹ کونسل سے وہاں کے ضلعی صدور اور دیگر عہدیداران کی قیادت میں ریلیاں پیپلز سیکرٹریٹ پہنچی اور وہاں سے مرکزی ریلی مزار قائد سے ہوتی ہوئی براستہ صدر کراچی پریس کلب پر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی میں لاکھوں کی تعداد میں موجود شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جس پر ”نامنظور نامنظور، پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ نامنظور“، ”گو نیازی گو“،”عوام کا معاشی قتل عام بند کرو“، ”بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ نامنظور“، سمیت دیگر نعرے درج تھے۔



ریلی کے راستے میں شرکاء پر مختلف مقامات پر عوام کی جانب سے گھروں سے ان پر پھول کی پتیاں بھی نچھاور کی گئی۔ ریلی کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن اور وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ کراچی کے شہریوں اور عوام کا شکرگذار ہوں کہ ظالم حکومت اور ان کے بجٹ کے خلاف یہاں جمع ہوکر یہ پیغام دے دیا ہے کہ اگر عوام دشمن اقدامات کو بند نہ کیا گیا اور موجودہ پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ کو واپس نہ لیا گیا تو عوام ان کو ان کے ایوانوں سے باہر نکال کر گھروں کو بھیج دیں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ موجودہ سلیکٹیڈ حکومت ان کے سر پر تھونپی اور نازل کی گئی ہے اس کا عوام کو اچھی طرح احساس ہوگیا ہے اور عوام یہ بھی جان چکیں ہیں کہ ایسی حکومت کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ اس کے تمام اقدامات عوام دشمن ہی ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ حکومتی درباری وزراء پورا دن یہ لاگ الاپنے میں مصروف ہیں کہ پیپلز پارٹی اپنے قائدین کو چھڑانے کے لئے احتجاج کررہی ہے میں ان سے پوچھتا ہوں کہ یکم مئی کو کراچی کے جلسے میں جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے رمضان کے بعد عوام احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا تو کیا ہمارا شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ہماری بہن فریال تالپور گرفتار تھے۔



جب آصف علی زرداری کو گرفتار کیا گیا تو اس کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو یہ نہیں کہا کہ آپ مجھے بھی گرفتار کرلو لیکن عوام کو ریلیف فراہم کرو اور ان کا معاشی قتل عام بند کرو۔ سعید غنی نے کہا کہ عمران خان کے یوٹرن کی فہرست اتنی طویل ہے کہ اگر اس کو بیان کیا جائے تو دن نکل جائیں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ آئی ایم ایف بجٹ سے قبل پیپلز پارٹی کی قیادت کو گرفتار کیا گیا کہ تاکہ پیپلز پارٹی کو خوف زدہ کیا جاسکے اور جب پیپلز پارٹی مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلے تو یہ تاثر دیا جائے کہ کارکنان بجٹ نہیں بلکہ اپنے قائدین کی گرفتاری کے خلاف نکلیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو گرفتاریوں کے خلاف نہیں بلکہ غریب عوام کے حقوق کی جنگ لڑنے نکلیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے بھی گرفتار کرنا ہے توکرلو لیکن عوام دشمن بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ مانگے تانگے کی حکومت کے پاس بجٹ پاس کرانے کے لئے ووٹ نہیں ہے۔ بجٹ پاس کرانے کے لئے انہیں ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور دیگر اتحادیوں کی حمایت درکار ہے۔



انہوں نے ایم کیو ایم سے سوال کیا کہ تم آئی ایم ایف کے بجٹ کو ووٹ دینا چاہتے ہو یا غریب عوام کے ساتھ کھڑارہنا چاہتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے نیازی بجٹ کو ووٹ دیا تو آٹا اور دیگر روزمرہ کی اشیاء مہنگی اور غریب اپنے بچوں کو روٹی نہیں کھلا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم والوں کو غریبوں سے محبت ہے تو وہ وہ اس غریب دشمن بجٹ کو مسترد کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے آئی ایم ایف سے بجٹ لینے پر خودکشی کا دعوہ کیا تھا۔ شیخ رشید جیسے شخص کو اپنے ساتھ نہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ عمران نیازی نے کہا کہ ایم کیو ایم سے اتحاد کروں تو مجھ سے بڑا منافق کوئی نہیں ہوگا۔ عمران نیازی نے 90 روز میں تمام وعدے پورے کرنے کا دعوہ کیا تھا۔ اس نے 800 ارب ٹیکس جمع کرنے کا بھی دعوہ کیا تھا۔ لیکن ان تمام سے اس نے یوٹرن لے لیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ وزیر اعظم چوروں اور ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کی بجائے علیمہ ایمنسٹی اسکیم لے آئے۔ انہوں نے کہا کہ اب عمران خان کی زبان پر عوام کو اعتماد نہیں ہے۔ اس ملک کے تاجروں اور عام لوگوں کو بھی اس پر اعتماد نہیں ہے اور اب یو ٹرن خان پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے۔



سعید غنی نے کہا کہ نیازی برادری کا مطالبہ ہے کہ گو نیازی گو کا نعرہ لگانے کی بجائے گو عمران گو کا نعرہ لگایا جائے۔ سعید غنی نے کہا کہ نیازی غیرت مند قوم ہے، یہ واحد نیازی ہے جسے نیازی کہنے پر شرم آتی ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو نیازی کہنے سے بھاگنا چاہتا ہے ہم اسے کہتے ہیں کہ وہ خود کو نیازی کہلوائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومتی معاشرتی دہشتگردی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور پہلے ہی پیٹرول، ادویات، روزمرہ کی اشیاء، بجلی اور گیس کے نرخوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا گیا ہے اور اب مزید گیس کی نرخون میں اضافے سے اس ملک کے عوام کی طاقت ہی نہیں رہے گی کہ وہ اپنے روزمرہ کے معمولات زندگی کو برقرار رکھ سکیں۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے کہا کہ کراچی کے لوگوں نے وفاقی بجٹ کو مسترد کردیا ہے۔


کراچی کی ریلی بلاول بھٹو کی ہدایت پر پہلی کارروائی اور پہلا ٹریلر ہے، قائدین کے حکم پر ہم اسلام آباد تک جاسکتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ مہنگائی کے عذاب سے عوام تلملا اٹھی ہے۔ بلاول بھٹو نے عوام دشمن بجٹ کے خلاف گھروں سے نکلنے کا کہا ہے۔ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی گرفتاری اور حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیواریں پھلانگ کر بھاگنے والے نہیں ہیں۔ ہم ریاستی ہتھکنڈوں کا مقابلہ کریں۔ مقررین نے کراچی میں تجاوزرات کے نام پر لوگوں کو گھروں سے بے دخل کرنے اور سرکلر ریلوے کے لئے گھروں کو مسمار کرنے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرین کو متبادل جگہوں کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔