وزیر اعلی سندھ کی ایک اور اچھی روایت ۔سرکاری لائبریری کی کتابیں واپس ۔ لائبریری انچارج سے خود تصدیق بھی کی۔


پاکستان میں مختلف مزاج کے حکمران آتے رہے ہیں ماضی میں بھی کئی مثالیں ملتی ہیں اور آج بھی ۔
ایک طرف ملک بھر میں توشہ خانہ کا چرچا ہے جہاں وزیراعظم عمران خان اور وفاقی حکومت کو اس بات پر تنقید کا سامنا ہے کہ غیر ملکی قیمتی تحائف کی تفصیلات عوام سے کیوں چھپائی جا رہی ہیں۔؟

دوسری طرف آپ کے ملک میں ایسا وزیر اعلی بھی ہے جو سرکاری لائبریری کی کتابیں بھی واپس کرتا ہے اور واپسی کی تصدیق بھی کرتا ہے ۔جی ہاں ۔۔۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ نے ایک اور اچھی روایت قائم کی ہے ۔ان کا رویہ ملاحظہ فرمائیں کہ سرکاری لائبریری سے حاصل کی گئی کتابوں کی واپسی کو انہوں نے خود یقینی بنایا۔ خود اس بات کی تصدیق بھی کی کہ انھوں نے سرکاری لائبریری سے جو کتابیں حاصل کی تھیں وہ کتابیں واپس سرکاری لائبریری کے پاس پہنچ گئی ہیں یا نہیں ۔تفصیلات کے مطابق سکھر بیراج کی تاریخی لائبریری سے سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ جو خود بھی این ای ڈی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ایک قابل انجینیئر ہیں انہوں نے انجینئرنگ کے موضوع پر چندکتابیں جاری کرائی تھیں اور مطالعہ کے بعد ان کو لائبریری میں واپس بھی بھجوا دیا ۔اور پھر سکھر کے ایک دورے کے دوران خود لائبریری گئے اور تصدیق کی کیا تمام کتابیں لائبریری واپس پہنچ گئی ہیں یا نہیں ؟ جب لائبریری کے انچارج نے تصدیق کردی تو پھر وزیراعلی کی تسلی ہوئی ۔یقینی طور پر یہ اچھی مثال ہے جو سندھ کے وزیراعلی نے قائم کی ہے ۔ورنہ حکمرانوں سے کوئی چیز واپس لینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے ۔لیکن علم دوست وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سوال سے قابل تعریف ہیں کہ وہ خود بھی کتابیں پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں آج کے دور میں بھی لائبریری سے کتابیں حاصل کرتے ہیں جو ان کے ذوق مطالعہ کی نشانی ہے ۔
شاباش مراد علی شاہ شاباش ۔۔۔۔۔۔
=========
Report—–Salik-Majeed