پاک بھارت کشیدگی، اقلیتی رکن ڈپلومیسی

خبر ہونے تک
(رفیق شیخ)

   پاکستان کی اپنے جغرافیے اور خطہ کی سیاسی صورتحال کے باعث خصوصی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہورہاہے پاکستان جو پہلے ملکوں کے درمیان عسکری طور پر بفرزون تھا تو اب معاشی طور بھی بفرزون بن رہا ہے یہی وجہ ہے چین کے ون روڈ ون بیلٹ کے سی پیک منصوبے کے بعد سعودی عرب کے بیس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے منصوبے کے علاوہ متحدہ ارب امارات،قطر، ترکی اور ملائشیا کی جانب سے بھی سرمایہ کاری کی کوششیں پاکستان کونہ صرف خطے بلکہ دنیا میں اہمیت دلا رہے ہیں لیکن دوسری جانب بھارت حسب روایت پاکستان کی حیثیت اور اہمیت تسلیم کرنے کے بجائے پاکستان دشمنی پر عمل پیرا ہے۔پاکستان میں جب کبھی ایسا ماحول بنتا وہ دوسرے ممالک کے قریب آتا ہے اورجب کبھی بھارت میں انتخابات قریب آتے ہیں تو بالخصوص بھارتی جنتا پارٹی پاکستان اور مسلم دشمنی کا علم لے کر انتخابی میدان میں اتر آتی ہے، عوام اور خواص کا خون بہانا ، املاک کو نقصان پہنچانا ،تاریخ کو سبوتازکرنا  ان کے لیے جائز ہوجاتا ہے پلوامہ کا واقعہ بھی اسی کا تسلسل یعنی بی جے پی کی انتخابی مہم کا ایک حصہ ہے لیکن اس مرتبہ بی جے پی پاکستان اور مسلم  دشمنی کی اس  حکمت عملی میں بری طرح ناکام ہوئی ہے اور اسے اپنے رویے اور لہجہ کو بدلنا پڑا ہے شاید اس مرتبہ وہ، وہ فائدہ بھی نہ اٹھاسکے جو اس سے قبل اٹھاتی رہی ہے

ستّر سال میں شاید یہ پہلا موقع ہے بھارت کو پاکستان پر الزام تراشی میں منہ کی کھانی پڑی ہے پاکستان دشمنی میں پاگل ہونے والا بھارتی میڈیا خود بھی چیخ اٹھا ہے کہ بھارت کے مقابلے میں عالمی سطح پر پاکستان کی پزیرائی مل رہی ہے بھارت کے واویلے اور الزامات پر اس مرتبہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کا جواب بھی بھرپوراور واضح تھا اور پاکستانی میڈیا نے بھی مثبت کردار ادا کیا بلکہ یہ کہا جائے کہ صف اوآل میں آکر بھرپور کردار نبھایا تو غلط نہ ہو گا شاید اسی وجہ سے بھارتی وزیراؑعظم نریندر مودی کا لہجہ اور موقف بھی بدلا ہے وہ مودی جو کہہ رہا تھا کہ اب بات چیت کا وقت گزرگیا اب جواب دیا جائے گا چند دن بعد ہی وہ کہہ رہے ہیں کہ پلوامہ حملے کا جواب سفارتی اور تجارتی محاز پر دیں گے بھارتی حکومت کے رویے میں تبدیلی کا کریڈٹ تحریک انصاف کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار جو پہلے مسلم لیگ ن کے بھی رکن اسمبلی رہ چکے ہیں لے رہے ہیں جنھوں نے بھارت میں کمبھ میلے میں شرکت کی اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ششما سوراج سے ملا قات کی بقول رمیش کمار انھوں نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا پیغام بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو پہنچایا اس کے بعد ان کے رویے میں تبدیلی آئی۔

ستّر سال میں شاید یہ پہلا موقع ہے بھارت کو پاکستان پر الزام تراشی میں منہ کی کھانی پڑی ہے پاکستان دشمنی میں پاگل ہونے والا بھارتی میڈیا خود بھی چیخ اٹھا ہے کہ بھارت کے مقابلے میں عالمی سطح پر پاکستان کی پزیرائی مل رہی ہے بھارت کے واویلے اور الزامات پر اس مرتبہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کا جواب بھی بھرپوراور واضح تھا اور پاکستانی میڈیا نے بھی مثبت کردار ادا کیا بلکہ یہ کہا جائے کہ صف اوآل میں آکر بھرپور کردار نبھایا تو غلط نہ ہو گا شاید اسی وجہ سے بھارتی وزیراؑعظم نریندر مودی کا لہجہ اور موقف بھی بدلا ہے وہ مودی جو کہہ رہا تھا کہ اب بات چیت کا وقت گزرگیا اب جواب دیا جائے گا چند دن بعد ہی وہ کہہ رہے ہیں کہ پلوامہ حملے کا جواب سفارتی اور تجارتی محاز پر دیں گے بھارتی حکومت کے رویے میں تبدیلی کا کریڈٹ تحریک انصاف کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار جو پہلے مسلم لیگ ن کے بھی رکن اسمبلی رہ چکے ہیں لے رہے ہیں جنھوں نے بھارت میں کمبھ میلے میں شرکت کی اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ششما سوراج سے ملا قات کی بقول رمیش کمار انھوں نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا پیغام بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو پہنچایا اس کے بعد ان کے رویے میں تبدیلی آئی۔

   رمیش کمار کے دعوٰی کو اگر اقلیتی رکن ڈپلومیسی کا نام دیا جائے تو مناسب ہوگا عمران خان کا کیا پیغام تھا وہ یقیناّ اس سے مختلف نہیں ہوگا جو وہ اپنے قوم سے خطاب اور بیان میں دے چکے ہیں لیکن ہندو اقلیتی رکن کا پیغام پہنچانے کے لیے انتخاب اورکمبھ کے میلے کے وقت پیغام پہنچانا دونوں ہی بروقت اوراہمیت کے حامل ہیں یہ فطری بات ہے جب کوئی ایک قومیت،ایک زبان ،اور ایک مزہب کے لوگ ملتے ہیں تو ان درمیان تکلفات ختم ہوجاتے ہیں اور اپنائیت یگانگت  کا ایسا ماحول بنتا ہے کہ دو طرفہ گفتگو کو نہ صرف صبر اور برداشت کے ساتھ سنا جاتا ہے بلکہ اس کا ردعمل بھی مثبت ہوتا ہے شاید ایسا ہی کچھ اس موقع پر بھی ہوا ہے ، بہر حال اقلیتی رکن ڈپلومیسی کو ایک کامیاب ڈپلومیسی کہا جاسکتا ہے۔

بھارت میں بی جے پی کی حکومت خاص طور پرمودی حکومت کا سارا زور پاکستان اور مسلم دشمنی پر چلتا ہے انیس سو بیانوے میں بھی بابری مسجد کو شہید کرکے وہ آنے والے انتخابات جیتی تھی بی جے پی میں اٹل بہاری واجپائی اگر سلجھے اورمثبت سوچ رکھنے والے سیاست داں سمجھے جاتے تھے تو نریندر مودی اتنے ہی الجھے اور منفی سوچ رکھنے والے سیاست داں مانے جاتےہیں جنھوں نے گجرات میں مسلمانوں کا خون بہا کر وزارت عظمٰی کی کرسی کے لیے اپنا راستہ ہموار کیا اور دوہزارچودا کے انتخابات میں پاکستان اور مسلم دشمنی کے ایجنڈے کے تحت ہی وزیراعظم بنے ۔ آج پھر بھارت میں انتخابات قریب ہیں مودی سرکار کے گزرے پانچ سال میں کوئی گراں قدر کارنامہ نہیں ہے لہٰزا انھیں پھر پاکستان اور مسلم دشمنی کا ایجنڈا ترتیب دینا پڑا اس کے لیے پلوامہ کا ڈرامہ تشکیل دیا اور اس کو جواز بناکر ایک طرف بھارت بھر میں مسلمانوں پر تشدد کیا گیا ،پاکستان پر الزام تراشی کی گئی اور دھمکیاں دی گئیں لیکن اس مرتبہ پاکستان کی جانب سے واضح اور ٹھوس ردعمل،اقلیتی رکن ڈپلومیسی اور خاص طور سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان اور سعودی سرمایہ کاری کے لیے پاکستان پر بھرپور اعتماد نے بھارتی حکومت اور خاص طور سے بی جے پی کو بھی یو ٹرن لینے پر مجبور کر دیا ہے پاکستانی قوم اور میڈیا بھی اپنی حکومت اور مسلح افواج کے ساتھ ہم آواز ہو گئی ہے یہی نہیں دنیا میں جہاں جہاں بھارت نے پاکستان مخالف اقدامات کیے پاکستانی بھی اس کا جواب دینے کے لیے میدان میں نکل آئے اقوام متحدہ میں بھی مستقل مندوب نے بھرپور طور پر حقائق پیش کرکے بھارت کے جھوٹ کا پردہ چاک کیا اقوام متحدہ کے صدر اور سلامتی کونسل کے سر براہ سے ملاقات کرکے پاکستان کا موقف پیش پیش کیا اور حقائق سے آگاہ کیا۔پاکستان مستقل طور پر کشیدگی کے خاتمے کی کوشش کررہا ہے لیکن بھارت مسلسل کشیدگی بڑھانے کے اقدامات کررہا ہے بھارت میں مئی میں عام انتخابات ہونے ہیں اور خدشہ ہے کہ بی جے پی انتخابات جیتنے کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے اور اس کا الزام پاکستان پر ڈال سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں