پیپلز پارٹی کی قیادت اپنی اور سندھ کی روایات کے برعکس مہر خاندان کو تقسیم کرنے کے لئے سرگرم

سندھ کے سابق وزیر اعلی اور وفاقی وزیر علی محمد مہر کے انتقال کے بعد ان کی خالی ہونے والی نشست پر ضمنی الیکشن کے لیے پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان مقابلہ متوقع ہے سیاسی مبصرین کے مطابق سندھ کی سیاسی روایات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ باپ کے انتقال کے بعد اگر بیٹا الیکشن لڑ رہا ہے تو اس کی مخالفت نہ کی جائے اور یہ نشست اسی کے پاس رہنے دی جائے ماضی میں پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتیں ان روایات کا خیال کرتی آئی ہیں لیکن اس مرتبہ علی

[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=3bgDy9yZWxY[/embedyt]

محمد مہر کے بیٹے کو پی ٹی آئی نے ٹکٹ دے کر میدان میں اتارا تو پیپلز پارٹی اپنی اور سندھ کی روایات کے برعکس اس کے مقابلے پر دوسرے خاندانی امیدوار کو سپورٹ کرنے کے لیے میدان میں اتر آئی سیاسی مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی یہ اچھی روایت قائم نہیں کر رہی اور میرے خاندان کو تقسیم کرنے کے لئے سیاسی طور پر اپنی حکمت عملی بنا کر میدان میں آگئی ہے جس کا فوٹوز اور علاقے کے سیاسی کارکنوں پر اچھا اثر نہیں آرہا ۔پیپلزپارٹی نے سردار علی بخش مہر اور باری پتافی سے استیفعی د لاکر اس ضمنی الیکشن کے لئے میدان میں سرگرم کیا گیا ہے ۔