حکومت حکمت سے چلتی ہے بدمعاشی سے نہیں!!

 مدار ….  عرفان مصطفیٰ صحرائی

ہم سب ایک تقسیم شدہ معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ہر کوئی سیاسی ہو یا مذہبی،لسانی ہو یا گروہی،کسی نہ کسی بنیاد پر تقسیم کا شکار ہیں ۔تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے ،لوگوںکو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے ،کیونکہ تعلیم ہرفرد کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے ،مگر ہمارے ہاں تعلیم سے شعورنہیں ملابلکہ اس سے انسان کو انسان کا دشمن بنا دیا ہے ۔لوگوں میں تقسیم خوفناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔اختلافات رائے کو نفرت میں تبدیل کرنا ،گالی گلوچ اورذاتی کردار کشی پر اتر آنا معمول بن چکا ہے ۔ماضی میں سیاسی کلچر اس کی زد میں رہا ،مگر جب سے پی ٹی آئی سیاست میں متحرک ہوئی ،ان رویوں کو تقویت ملی ہے ۔عمران خان کا خود طرزعمل اس ناسور کو پھیلانے میں معاون ثابت ہوا ہے ۔وہ دلیل سے نہیں بلکہ گالم گلوچ اور تضحیک آمیز لہجے سے دوسرے کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں ۔اسی لئے ان کے وزراءسمیت کارکن تک کی روش یہی ہے ۔

آج ملک معاشی بحران اورعوام ذہنی اذیت کا شکارہے ،مہنگاہی نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے،ہر فرد غیر یقینی کی حالت میں زندگی گزار رہاہے ۔ہر کوئی دو وقت کی روٹی پوری کرنے کی فکر میں لگا ہے ۔آج پاکستانی شہری جس جانب بھی دیکھتا ہے ،ناامیدی ہی نظر آتی ہے ۔ان حالات میں لوگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں ۔لیکن حکمران اقتدار کے مزے لے رہے ہیں ۔انہیں عام آدمی کے سنگین ترین حالات کا کوئی اندازہ نہیں ۔حکمران اور حزب اختلاف دونوں جانب کے نمائندے کہنے کو تو عوام کی نمائندگی کرتے ہیں،مگر حقیقت میں انہیں ان کیڑے مکوڑوں سے کوئی مطلب نہیںبلکہ ان کا مقصد آقاﺅں کی خوشی اور اپنے مفادات کو یقینی بنانا ہے ۔غریب عوام کو بڑے بڑے فلسفے سنانے والے لیڈر خود تین سو کنال کے گھر میں رہتے ہیں ،یہ حقیقی مشکلات سے نا آشنا ہیں ،انہیں آرام و آسائش کی زندگی میسر ہے ۔انہیں کسی غریب کی حالت زار کا بالکل اندازہ نہیں۔



یہی وجہ ہے کہ وہ جب غریب کو یہ بتاتے ہیں کہ مہنگائی ہونا فائدے میں ہے ،بھیگ مانگنا کتنا اچھا ہے،روپے کی قدر میں تاریخی کمی ایک کارنامہ ہے ،کالا دھن کو سفید کرنے میں کتنے کمالات ہیں ،آئی ایم ایف کو اپنا آپ بیچنے میں کتنی عقل مندی اور دانشمندی ہے ۔عوام یہ سن کر ہوش کھو چکی ہے۔عوام کو 72 برسوں سے بیوقوف بنایا جا رہا ہے اور وہ آج بھی بن رہی ہے۔ آج حزب اختلاف اپنا کردار ادا نہیں کر پا رہی ۔دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کی ماضی کی غلطیوں نے انہیں بری طرح جکڑ لیا ہے ۔حکمران پارٹی کی بری پرفارمنس کے باوجود مختلف اداروں کی سپورٹ نے دلیر کر رکھا ہے ۔ حزب اختلاف کچھ نہیں کر پا رہی ۔تمام بڑی قیادت کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے یا نیب کے ذریعے ریفرنسوں میں مصروف کر دیا ہے ۔وہ اپوزیشن کا کردار ادا کریں یا نیب کے جھمیلوں سے جان چھڑانے کی تگ ودو کریں!یہاں عمران خان کا پاکستان کی تاریخ میں غریب کو مارنے کا بجٹ پیش کر کے فاتحانہ اشارے کرنا بنتا ہے۔



حزب اختلاف کے قائدین کو گرفتار کر کے حکومتی ارکان کی باچھیں کھل رہی ہیں ۔خوشی سے زمین پر پاﺅں نہیں سما رہے ۔لیکن اس سے کیا فائدہ ہو گا؟یہ ان سے کوئی رقم کی وصولی کر سکیں گے ؟جواب ہر گز نہیں ۔کیونکہ ان کی نیت احتساب کی نہیں ہے ۔کیا احتساب ایسے ہوتا ہے ؟عوام کو بار بار بیوقوف بنایا جا رہا ہے ۔حمزہ شہباز شریف کو پہلے نیب نے 85ارب روپے کی کرپشن کا کہا،تین دنوں میں 33ارب ہو گیا اور اب صرف18کروڑ کی بات کی جا رہی ہے ۔کچھ دنوں بعد ضمانت پر حمزہ شہباز باہر ہوں گے ۔حکومتی وزراءمیڈیا پر آ کر کہیں گے کہ ان کے پاس وکیل بہت اچھے تھے ،اس وجہ سے نیب کچھ نہیں کر سکا اور عدالت کو ریلیف دینا پڑا،ویسے یہ چور اور ڈاکوہیں۔میاںحمزہ شہباز شریف نے پنجاب اسمبلی کے فلور پر سینہ تان کر کہا کہ ”میری ایک روپے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو سیاست چھوڑ دوں گا“۔یہ سب دیکھنے اور سننے والوں کے دلوں پر ایک عجیب سی اداسی اور شکستگی کا غبار چھا جاتا ہے ۔عوام کو پہیلیوں میں الجھا کر حکومت اپنے مقاصد پورے کر رہی ہے۔



مسلم لیگ (ن) عتاب میں ہے،اس وقت سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر احسن اقبال کے خلاف تحقیقات آخری مراحل میں ہیں ۔پھر انہیں بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔نیب کے ذریعے جولائی میں مزید بڑی گرفتاریاں ہوں گی۔پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف کی گرفتاری ممکن ہے ۔عمران خان نے ایک اور شوشہ چھوڑا اور انکوائری کمیشن کا اعلان کر دیا ۔ایک طرف عمران خان کا میاں نواز شریف ،میاں شہباز شریف اور آصف علی زرداری کے نام لے کر انہیں نہ چھوڑنے کی دھمکیاں ۔دوسری جانب غیر جانبدار احتساب ۔احتساب کے بنیادی تقاضوں کی نفی کرتا ہے ۔وزیر اعظم کی جانب سے ایسا کمیشن جس کی سربراہی خود کر رہے ہوں ،تو بڑا سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔



ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ معاشی بدحالی ہے ۔اس کے لئے معاشی استحکام کی اشد ضرورت ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ملک میں سیاسی استحکام ہو گا۔لیکن عمران خان جو ملک کے وزیر اعظم ہیں انہیں اس بات کا بالکل ادراک نہیں ہے ۔اس حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا جو کہ ایک نہ صرف غریب کے لئے بلکہ تاجر برادری کے لئے بھی ظالمانہ بجٹ ہے ۔قومی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ وفاقی حکومت نے سالانہ بجٹ پیش کرنے سے قبل تاجر برادری کو اعتماد میں نہیں لیا۔جس سے بد اعتمادی کی فضا نے جنم لیا ہے ۔چینی اور گھی سے لے کر سی این جی تک ہر چیز مہنگی ہونے سے عام آدمی متاثر ہوا ہے وہاں گزشتہ سال چوالیس سو ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل نہیں ہو سکا تھا۔اس سال حقائق سے آنکھیں چراتے ہوئے حکومت نے ٹیکس کا ہدف پانچ ہزار پانچ سو پچاس ارب روپے رکھا ہے ۔جو تاجروں ،صنعت کاروں اور کاروباری برادری کو دھمکانے اور خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے ۔عمران خان نے بہت سے غیر ضروری محاذ ان طاقتوں کے سر پر کھول لئے ہیں ۔جن پر اعتماد کرنا بیوقوفی اور جہالت کے زمرے میں آتا ہے ۔تاجر برادری اور کاروباری طبقے کی بے چینی ملک کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو اور نقصان دے گی۔



ملک میں نفرت و تعصب کی فضا عروج پر ہے ۔یہ نفرتیں تشدد کی راہ اپنا رہی ہیں ۔ان سب کے باوجود ابھی بھی ملک میں روشن امکانات موجود ہیں ، ان کی صحیح پہچان اور برمحل استعمال ہی فلاح و نجات کا واحد راستہ ہے ۔حکمت کا تقاضا ہے کہ اس ابتر ماحول کو بہتر بنانے کے راستے ڈھونڈے جائیں اور ان کی بھر پور نشان دہی کی جائے ،تاکہ ملک کے امن پسند و انصاف پرور افراد کے لئے روشنی کی کرن نمودار ہو اور راہ عمل فراہم ہوسکے ۔حکومت حکمت سے چلتی ہے بدمعاشی سے نہیں ۔