حکومت مخالف اتحاد کی حکمت عملی ( گذشتہ سے پیوستہ)

پِیامبر …. قادر خان یوسف زئی

ایم کیو ایم پاکستان سے اپوزیشن جماعتوں کو بظاہر کوئی امیدنہیں ہے کہ وہ اپنی بکھرے انتظامی ڈھانچے سے نکل کر حکمراں اتحاد سے باہر نکل سکے ۔ بجٹ کی منظوری کے لئے ایم کیو ایم کے ’[ تحفظات “ سامنے آچکے ہیں ، جس پر حکومت نے فوراََ ازالے کے احکامات بھی جاری کردیئے ہیں ۔ایم کیو ایم پاکستان شومئی قسمت سے اپنے بدترین سیاسی مخالف جماعت کے ساتھ اتحاد ی ہے وہ ا س موقع کو” فوراََ “ضایع نہیں کرنا چاہتی ۔ کیونکہ ایم کیو ایم پاکستان ابھی تک اپنے انتظامی بحران سے باہر نہیں نکل سکی اور سندھ میں پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر سخت اپوزیشن اتحادی کا کردار ادا کررہی ہے ۔ ایم کیو ایم پاکستان کا اس موقع پر تحریک انصاف کی اتحادی ہونے میں ” فائدے “ زیادہ ہیں اس لئے ممکنہ فوائد کو ”نقصان“ میں بدلنے کے لئے ایم کیو ایم پاکستان کا اپوزیشن جماعتوں کا ساتھ دینا فی الوقت خارج از امکان نظر آتا ہے۔

تاہم اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان ہاﺅس تبدیلی کے نتیجے میں ایم کیو ایم پاکستان کے ” کچھ“ دیرینہ مطالبات مان لئے جائیں تو ایم کیو ایم پاکستان جمہوریت کی بقا و سلامتی کے لئے بڑی ” قربانی “ دینے سے دریغ نہیں کرے گی کیونکہ ایم کیو ایم پاکستان کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ انہوں نے جو فیصلہ بھی کیا وہ ” قوم “ کے بہتر” مفاد “ کے لئے کیا ۔آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر کے لئے اسپیکر کو لکھے جانے والے خط میں ایم کیو ایم کے اراکین کے دستخط برموقع ہے ۔ جس سے حکومت ایم کیو ایم کا ” معنی خیز پیغام “ سمجھ گئی ۔ پھر کسی ممکنی احتجاجی تحریک میں ایم کیو ایم کی شمولیت کے لئے مولانا فضل الرحمن اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔



تاہم اس وقت سب سے اہم مسئلہ عوام الناس کا ہے ۔ کیونکہ عوامی رجحان میں اس وقت موجودہ حکومت کے خلاف تمام تر غصہ و تحفظات ہونے کے باوجود بڑا احتجاج کرنے کی تحریک نہیں پائی جاتی ۔ شائد اس کی وجہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے باہمی اختلافات اور پھر موجودہ احتسابی معاملات میں اجتماعی بیٹھک پر عدم اطمینان ہے۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنان اپنے رہنماﺅں کو ہمیشہ دودھ میں دھلا سمجھتے ہیں اس لئے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور رہنماﺅں کی گرفتاری پر اگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان سڑکوں پر نکلتے بھی ہیں تو اس سے پاکستان کی خاموش اکثریت فی الوقت ساتھ دینے میں تامل کا مظاہرہ کرسکتی ہے۔ کمر توڑ مہنگائی ، بڑھتی بے روزگاری اور ناگفتہ معاشی حالات کے باوجود عوام کا اعصابی تناﺅ و احتجاج” باہر“ نکلنے کے لئے تیار نظر نہیں آرہا ۔ حکمران جماعت نے اقتدار میں آنے کے بعد جو بیانیہ دس مہینوں سے بنایا ہوا ہے اس کے بعد عوام تحریک انصاف کوسیاسی جماعت کم ، ”فنانس ریکوری پارٹی“ زیادہ سمجھتی ہے۔ پی ٹی آئی نے دوران اقتدار صرف قرضے لینے پر توجہ مرکوز رکھی اور ان کا موقف رہا کہ انہیں خزانہ خالی و بدحال معیشت وارثے میں ملی ۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین رہنماﺅں کی گرفتاری کے بعد ابھی تک کوئی ایسا فیصلہ نہیں آسکا کہ ان سے حکومتی دعوﺅں کے مطابق اربوں روپے واپس لئے جاسکیں۔



بجٹ اجلاس میں تواتر سے بد نظمی کے بعد بالاآخر ایک معاہدے کے تحت تقاریر کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ، سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی اپنی ہی حکومت کے بجٹ پر تنقید کرکے واضح پیغام دے دیا ہے کہ مہنگائی کا ایشو مستقبل میں حکومت کے لئے پریشان کن ہوسکتا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی حکومت میں جاری سیاسی بے چینی اور پارلیمنٹ میں ٹینٹشن کو ڈیپریشن کہہ کر مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔ یہ حکومت کے لئے نوشتہ دیوار ہے کہ وہ ان اشاروں کو سمجھے ۔
نیب کے مقدمات کا فیصلہ کب ہوتا ہے ۔ اس میں بھی کافی وقت درکار ہوگا ۔ اگر چند مہینوں میں ان کے خلاف کسی مقدمے کا فیصلہ نہیں آتا اور کوئی ” لوٹی “ گئی قومی خزانے کی رقم جمع نہیںکرائی جاتی تو تحریک انصاف کی سیاست جو پہلے ہی ریلے کٹوں کی بدولت قائم ہے ، دھڑام سے ازخود ہی گرجائے گی ، کیونکہ اپوزیشن رہنماﺅں کی گرفتاری کے بعد یقینی طور پر اقتدار میں بیٹھے ایسی شخصیات بھی ہیں جن کے خلاف نیب انکوئریاں کررہا ہے اور کچھ مکمل ہوچکی ہیں ، اگر ان کی گرفتاریوں کا سلسلہ اسی طرح شروع ہوا جیسا اپوزیشن کے خلاف جاری و ساری ہے تو یقینی طور پر حکمراں جماعت کی صفوں میں اتحاد قائم نہیں رہے گا ۔



اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی اگر حکمراں جماعت کے احتسابی ادارے” الیکٹ ایبلز “کو گرفتار کرے تو اس پر زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ اس گلستان کا انجام کیا ہوگا ۔حکمراں جماعت کے لئے اس وقت سب سے بڑا چیلنج اپوزیشن جماعتیں نہیں بلکہ بیورو کریٹ ہیں ۔ حکومت کو سب سے بڑا خطرہ بیورو کریٹ سے ہوسکتا ہے کیونکہ ذرائع کے مطابق یہی صورتحال سامنے آرہی ہے کہ بیورو کریٹس پر دباﺅ ہے کہ وہ اُن منصوبوں کو آشکار کریں جس میں کک بیکس لی گئی ہوں ۔ اب نہ جانے یہ مشورہ حکومت کو کس نے دیا ۔ تمام منصوبے تو خود سرکاری ملازمین کے ہاتھوں سے ہی گزر کر جاتے ہیں اور بہتی گنگا میں سب سے پہلے کرپٹ بیورو کریٹ ہی ہاتھ دھوتے ہیں ، بھلا وہ اپنے پیروں پر کہلاڑی کیوں ماریں گے ۔ کون نہیں جانتا کہ صاحب اقتدار کو قانون کی کمزوریوں اور ان سے بچنے کے تمام راستے قانون بنانے والے ہی بتاتے ہیں۔ اپوزیشن سیاسی جماعتوں کی جانب سے عوام کو حکمراں جماعت کے خلاف سڑکوں پر لانے کے لئے اب بھی کافی وقت و دقت ہوگی ۔ اے پی سی کا لائحہ عمل واضح ہے ۔ مناسب یہی ہے کہ ایسالائحہ عمل بنایا جائے جس میں عوام کو پریشانی کا سامنا نہ ہو تو بہتر ہوگا ۔



مولانا فضل الرحمن کو حکومت مخالف اتحاد میں کلیدی حیثیت حاصل ہے اگر اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمن کے حکومت گرانے کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے تو احتجاجی تحریک کی کامیابی کے امکانات کافی معدوم نظر آتے ہیں ۔اے پی سی میں بڑی اپوزیشن سیاسی جماعتوں کا موقف کو پہلے خود باہمی اتفاق کی ضرورت ہے۔مولانا فضل الرحمن اسلام آباد لاک ڈاﺅن کی کال دے چکے ہیں ۔ اے پی سی بھی جون کے آخر میں متوقع ہے لیکن سیاسی ماحول کو مزید گرم کرنے کے لئے ستمبر تک کا ٹائم فریم ظاہر کرتا ہے کہ مولانا صاحب بھی سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات عوام کو سڑکوں میں لانے کے لئے ناکافی ہیں ۔ مہنگائی کا جوبن ہوگا تو دم دما دم مست قلندر ہوگا ۔