59

ہتھیاروں کی عالمی تجارت امن کے لئے خطرہ

پیامبر …. قادر خان یوسف زئی

اسٹاک ہولم میں قائم امن پر تحقیق کرنے والے انسٹیٹیوٹ سِپری کے مطابق 2009 سے 2013کے مقابلے میں دنیا بھر میں2014سے لے کر2018 تک ہتھیاروں کی تجارت میں تقریبا 8فیصد اضافہ ہوا۔ ہتھیاروں کی فروخت کے کاروبار میں عالمی قوتوں نے خصوصی اہداف مقرر کر رکھے ہیں ، تخفیف اسلحہ کے بجائے جدید ترین اسلحہ سازی کسی بھی ملک کے لئے دفاعی ضروریات کی اہمیت کو بڑھاتا ہے ، لیکن دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ ہتھیاروں کی عالمی تجارت میں ایسے ممالک کو ہدف بنایا جاتاہے جو کسی نہ کسی طرح عالمی قوتوں کے مفادات کو پورے کرنے کی کوشش بھی کرتے نظر آتے ہیں یا پھر مالی طور پر اتنے مستحکم ہوتے ہیں کہ انہیں جنگی ماحول میں الجھا کر ہتھیاروں کی تجارت میں اپنے وسائل خرچ کرنے پڑتے ہیں ۔ اس وقت پوری دنیا میں امریکا اسلحہ فروخت کرنے والا سرفہرست ملک ہے۔ جو اپنے من مانی شرائط پر ہتھیاروں کے فروخت کے معاہدے بیک وقت کرتے نظر آتا ہے۔

اس وقت امریکا اور روس کے درمیان جدید ترین دفاعی نظام کی فروخت میں مقابلے میں ہتھیار خریدنے والے ملک پر امریکا اور روسی دباﺅ ڈھکا چھپا نہیں ہے ، گو کہ امریکا کے بعد اسلحہ برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک بالترتیب روس، فرانس، جرمنی اور چین ہیں۔ امریکا،، فرانس، جرمنی کے جدید ترین طیارے، ٹینک کسی بھی حکومت کے لئے اہمیت کے حامل ہیں تو روس کا جدید ترین دفاعی بلاسٹک سسٹم ایس۔400 کئی ممالک کے لئے خصوصی اہمیت و دلچسپی کا سبب بنا ہوا ہے ۔ روسی ایس ۔400 اور ایس۔ 500 میزائل سسٹم ریڈاروں سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ایس۔ 400 اور ایس۔ 500 میزائل سسٹم کو ریڈاروں، مصنوعی سیارچوں، ڈرونوں اور جاسوسی طیاروں کے لئے پوشیدہ بنایا گیا ہے۔واضح رہے کہ اگست 2017 میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزامات کے بعد روس کے خلاف کئی طرح کی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ اس کے تحت روس کی 39 کمپنیوں سے تجارت پر پابندی لگائی گئی ہے۔ان میں وہ دفاعی کمپنی بھی شامل ہے جو ایس-400 دفاعی میزائل شیلڈ بناتی ہے۔ امریکی پابندی کے ضابطوں کے تحت ان روسی کمپنیوں سے سودا کرنے والی کمپنی اور ملک بھی پابندی کے دائرے میں آئیں گے۔



امریکا کی جانب سے روسی ایس۔ 400 دفاعی نظام کی فروخت انا کا مسئلہ بناہوا ہے اس کا شدید ترین اظہار اُس وقت سامنے آیا جب ترکی نے روس کے ساتھ روسی ایس۔ 400 معاہدہ کرلیا جس کے ردعمل میں امریکا نے اپنے نیٹو اتحادی ملک ترکی کو F -35جدید جنگی طیاروں کی فروخت روک دی اور ایف 35کے لئے دی جانے والے ٹریننگ کو بھی منسوخ کرتے ہوئے ترکی کو دھمکی دی کہ ہم سے ایف35 خریدو یا پھر روس سے روسی ایس۔ 400 ۔ ترکی نے امریکا کو سخت ردعمل دیا ہے ۔ امریکا نے اس سال کے اوائل میں روس سے میزائل دفاعی نظام ایس -400 کی خریداری پر اصرار کے ردعمل میں ترکی کو لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن کے ساختہ ایف 35 لڑاکا جیٹ کے آلات مہیا کرنے کا عمل روک دیا تھا ۔ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ”روس سے ایس- 400 دفاعی نظام کے خریدنے کے بارے میں جو فیصلہ کرلیا گیا ہے اب اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے“۔’ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ہم یہ دفاعی نظام خریدیں گے بلکہ یہ کہہ رہا ہوں ہم نے یہ دفاعی نظام حاصل کرلیا ہے اور ہمارے ہاتھوں میں ہے۔”صدر ایردوان نے کہا کہ ایس- 400 دفاعی نظام قیمت کے لحاظ سے بھی مناسب ہونے کے ساتھ ساتھ ساتھ اسے مشترکہ طور پر سے تیار کرنے کے بارے میں یقین دہانی کروانے کے بعد ہی ہم نے اس سمجھوتے پر دستخط کئے ہیں۔یہاں قابل دلچسپ صورتحال یہ بھی ہے کہ امریکا نے بھارت کی جانب سے ایس ۔400کی خریداری کے معاہدے پر اتنا سخت ردعمل نہیں دیا جتنا اس نے ترکی اور سعودی عرب کے خلاف دیا تھا ۔ بھارت نے 5 ارب ڈالرز کی خطیر رقم سے جدید ترین دفاعی فضائی نظام ایس۔ 400 کی خریداری کے لیے روس سے معاہدے کو آخری شکل دے چکا ہے، یہ جدید ترین میزائل سسٹم روس کے علاوہ صرف چین اور ترکی کے پاس ہیں اور اب بھارت بھی اس میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ دفاعی امور کے ماہر راہول بیدی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ”یہ پاکستان کے لیے بہت تشویش کی بات ہوگی، ایس ۔400 آنے کے بعد بھارت پاکستان پر اور بھی بھاری پڑے گا، دراصل بھارت نے امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری شروع کی تھی تو پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات بڑھنے لگے تھے۔ ایسے میں بھارت کو ڈر تھا کہ روس پاکستان کو ایس۔ 400 میزائل نہ دے دے تو بھارت نے روس کے ساتھ اس سودے میں یہ شرط بھی رکھی ہے کہ وہ پاکستان کو ایس 400 میزائل سسٹم نہیں دے گا“۔



دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہتھیار خریدنے والے ممالک میں سعودی عرب پہلے نمبر پر ہے۔ لیکن سعودی عرب کو بھی امریکا نے ایس ۔400 دفاعی سسٹم معاہدے پر سخت دباﺅ ڈالاہوا ہے۔ ایس۔ 400 سسٹم کی خریداری سعودی اینٹی میزائل ایئر ڈیفنس سسٹم میں ترقی کی مترادف ہے۔سعودیہ اس وقت پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم استعمال کررہا ہے ، لیکن امریکی پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے بلاسٹک میزائلوں کو مکمل طور پر روکنے میں ناکامی کا شکار نظر آرہا ہے۔ حالیہ دنوں سعودی عرب کے دو ائیر پورٹ پر حوثی باغیوں کی جانب سے بلاسٹک میزائل حملوں سے جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ سعودی حکام کی پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم سے مایوسی جبکہ یمنیوں کی روسی اور مشرقی میزائلوں کی طرف توجہ بڑھنے سے سعودیہ روس سے انہی میزائلوں کے توڑ یعنی کہ ایس۔ 400 ڈیفنس سسٹم کی خریداری کررہا ہے۔موجودہ دستاویزات کے مطابق یہ ڈیفنس سسٹم پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم سے دو گنا زیادہ طاقتور ہے۔اس ڈیفنس سسٹم کی خریداری کی وجہ در اصل یمنی فورسز کے یمامہ محل اور ائیر پورٹس پر حملہ اور اس کے سعودی حکام پر پڑنے والے اثرات ہے۔ جس نے انہیں یہ سسٹم خریدنے پر مجبور کردیا ہے۔شاہ سلمان کا بطور سعودی بادشاہ، روس کے پہلے سرکاری دورہ میں روس سے ’ایس 400‘ ایئر ڈیفنس سسٹم، کورنیٹ اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل سسٹم اور متعدد راکٹ لانچرز خریدنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا ۔سعودی عریبین ملٹری انڈسٹریز (ایس اے ایم آئی) نے کہا کہ ’ان معاہدوں سے سعودی فوج اور ملٹری سسٹم انڈسٹری کی ترقی اور اسے جدید بنانے میں مدد ملے گی۔ایس اے ایم آئی کے بیان میں کہا گیا کہ ’مفاہمت کی یادداشت میں کورنیٹ اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل سسٹم، متعدد جدید راکٹ لانچرنز اور خودکار گرینیڈ لانچرز کی مقامی پروڈکشن کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہے۔



‘ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان 110ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے ہوئے تھے لیکن شام کی جنگ میں امریکا کی جانب سے عرب ممالک سے معاوضہ طلب کرنے اور سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے بجائے سعودی عرب پر پابندیوں نے سعودیہ کو روس و دیگر عالمی قوتوں کی جانب جانے پر مجبور کردیا ۔ روس کے ساتھ جب سعودیہ فرما ں روا نے دفاعی معاہدے کئے تو امریکا نے اس کے اگلے دن ہی سعودی عرب کو جدید تھاڈ میزائل دفاعی نظام فروخت کرنے کی منظوری دے دی، اس نظام میں یہ صلاحیت ہے کہ یہ کسی بھی ٹیکنالوجی مثلاً جنگی ہتھیاروں کو تباہ کر سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ 15 ارب ڈالرز کا جدید دفاعی میزائل فروخت کرے گا اس سے سعودی عرب اور خلیج کی سیکورٹی کو ایران اور دیگر علاقائی خطرات کے خلاف بہتربنانے میں مدد ملے گی۔خیال رہے کہ امریکہ کی جانب سے یہ اعلان سعودی عرب کے روس سے ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے کے اعلان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ گذشتہ دنوں کانگریس کی جانب سے پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون نے لاک ہیڈ مارٹن کارپویشن کو سعودی عرب سمیت بعض ممالک کو 2 ارب 40 کروڑ ڈالر مالیت کے تھاڈ میزائل فروخت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔سعودی عرب اور امریکی حکام کے درمیان گذشتہ سال نومبر میں اس ضمن میں سودا طے پایا تھا۔ اس کے تحت سعودی عرب لاک ہیڈ مارٹن کے ساختہ 44 ٹرمینل، ہائی آلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) لانچرز، میزائل اور ان سے متعلقہ آلات خرید کرے گا۔ پینٹاگون نے کہا ہے کہ سعودی عرب تھاڈ میزائلوں کی خریداری کے لیے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر میں سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم ادا کرے گا۔ بیان کے مطابق طے شدہ سمجھوتے کے تحت سعودی عرب کو اس کے زیر استعمال موجودہ ازکار ِ رفتہ تھاڈ میزائلوں کی جگہ نئی تھاڈ ٹیکنالوجی مہیا کی جائے گی اور اس کے میزائل نظام کو جدید بنایا جائے گا۔



ہتھیاروں کی عالمی تجارت کے حوالے سے سِپری کی رپورٹ کے مطابق2014سے لے کر سن دو ہزار اٹھارہ تک جتنے بھی ہتھیار فروخت ہوئے، ان میں سے36فیصد امریکا نے برآمد کیے۔ یوں 2009سے لے کر 2013 تک کے مقابلے میں امریکی ہتھیاروں کی فروخت میں 6 فیصد اضافہ ہوا۔امریکا نے مجموعی طور پر100سے کچھ کم ممالک کو ہتھیار فروخت کیے جبکہ مجموعی طور پر ان ہتھیاروں کا نصف حصہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو فروخت کیا گیا۔ اسی طرح دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ہتھیار برآمد کرنے والا ملک روس ہے، جس نے تقریباََََ 28ممالک کو اسلحہ بیچا۔ دنیا بھر میں ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے ہر پانچویں ڈیلیوری روس نے کی۔2014 سے لے کر2018 تک دنیا میں ہتھیاروں کے5بڑے برآمد کنندہ ممالک امریکا، روس، فرانس، جرمنی اور چین رہے۔بین الاقوامی سطح پر جرمن ہتھیاروں کی فروخت میں13 فیصد اضافہ ہوا۔ بیرونی ممالک نے خاص طور پر جرمن آبدوزوں کی خرید میں دلچسپی کا اظہار کیا۔امریکا کے ہر چار ہتھیاروں میں سے ایک سعودی عرب نے خریدا۔ اس طرح2014 سے لے کر 2018تک دنیا میں سب سے زیادہ ہتھیار سعودی عرب نے ہی درآمد کیے۔ اس طرح مشرق وسطیٰ کے ممالک نے اس عرصے میں ماضی کے چار برسوں کے مقابلے میں دو گنا ہتھیار خریدے۔سپری کی اس رپورٹ کے مطابق دو ہزار چودہ سے لے کر دو ہزار اٹھارہ تک بڑے جنگی طیاروں، ٹینکوں اور میزائلوں جیسے بھاری ہتھیار زیادہ فروخت کیے گئے جبکہ دستی بموں اور رائفلوں جیسے چھوٹے ہتھیاروں کی فروخت میں کمی آئی۔ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کی وجہ سے خطے کے امیر ممالک میں اسلحہ خریدنے کی دوڑ میں بھی مزید اضافہ ہوا۔



اسٹاک ہولم میں قائم امن پر تحقیق کرنے والے انسٹیٹیوٹ سِپری کی رپورٹ عالمی امن کے لئے خطرے کی نشان دہی کرتی ہے اور مختلف ممالک میں جنگی ماحول پیدا ہونے کے بعد اس کے براہ راست فائدے کے رجحانات کو بھی بڑی حد تک واضح کررہی ہے کہ امریکا امن کے قیام کے لئے سنجیدگی سے کوشش کیوں نہیں کرتا ، اسی طرح سلامتی کونسل کے مستقل اراکین روس، فرانس، جرمنی اور چین بھی ہتھیاروں کی عالمی تجارت میں اپنی اجارہ داری قائم کئے ہوئے ہیں۔ مشرق وسطی اس وقت سلامتی کونسل کے مستقل اراکین ممالک کے لئے ہتھیاروں کی فروخت کی سب سے بڑی منڈی بنی ہوئی ہے ۔ ان حالات میں سعودی عرب ، قطر ، متحدہ عرب ممالک میں ہتھیاروں کی خریداری کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ امریکہ نے خلیجی ممالک میں بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 2017 میں قطر کو 36 ایف 15جنگی طیارے فروخت کرنے کا معاہدہ کیا۔ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس اور ان کے قطری ہم منصب خالد بن محمد العطیہ نے 12ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے سودے کو حتمی شکل دی تھی۔امریکی کانگریس نے بھی 72 ایف 15 طیاروں کی فروخت کے 21 ارب ڈالر مالیت کے معاہدے کی منظوری دی تھی۔واضح رہے کہ قطر اور امریکہ میں اس معاہدے کے حوالے سے کئی سال قبل اتفاق رائے ہو گیا تھالیکن اس معاہدے پر عمل درآمد ایسے وقت ہو ا، جب چار عرب ممالک سمیت کئی ریاستیں قطر سے سفارتی روابط منقطع کیے ہوئے ہیں۔قطر نے روس کے ساتھ بھی دفاعی معاہدہ کیا ہوا ہے۔



جس پر سعودیہ عرب نے اپنے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا ۔سعودی عرب کے فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز نے خبردار کیا ہے کہ اگر قطر نے روس سے فضائی دفاعی نظام خریدا تو سعودی عرب اس کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔ فرانسیسی اخبار لی موندے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے فرماں رواں شاہ سلمان نے فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کے نام ایک خط ارسال کیا تھا جس میں انہوں نے روس اور قطر کے مابین جدید ترین دفاعی نظام کے حصول کے لیے جاری مذاکرات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ فرانسیسی صدر کے نام لکھے گئے خط میں شاہ سلمان نے فرانس سے قطر پر دباوٗ ڈالنے کا مطالبہ کیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں قطر کی جانب سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایس-400 میزائل دفاعی نظام کے حصول کی کوششوں پر سخت تشویش ہے جو خطے میں سعودی عرب کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب قطر نے ترکی سے BMC آرمرڈ فورسز گاڑیاں اور 40 Altay طرز کے ٹینک دو سال کے عرصے میں خرید نے ہیں۔مجموعی طورپر قطر ترکی سے فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں سمیت 250 بھاری جنگی آلات خریدے گا۔تا حال قطر اور ترکی میں اس غیرمعمولی ڈیل کی قیمت سامنے نہیں آئی۔ ترکی میں Altay دفاعی پروجیکٹ اپنی نوعیت کا ٹینکوں کی تیاری کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ یہ ٹینک الیکٹرانک کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے لیس ہوگا اور اس پر 120 ملی میٹر دھانے والی بندوق، بکتربند شیلڈ اور دیگر دفاعی آلات نصب ہوں گے۔ اس وقت قطر جدید ترین دفاعی نظام سے لیس ہے اور دنیا کے جدید ترین دفاعی نظام اور ہتھیاروں کی خریداری کی وجہ سے عرب ممالک کے بائیکاٹ کے دباﺅ سے باہر نکل آیا ہے۔



امریکا نے جہاں مشرق وسطی میں جنگی صورتحال سے فائدہ اٹھایا ہے تو دوسری جانب ایشیا میں بھی ممالک کے درمیان اسلحہ کی دوڑ شروع کرانے کے لئے مختلف ترغیبات دینے کو وتیرہ بنا لیا ہے۔ امریکا نے بھارت کو جنوبی و مشرقی ایشیا میں پولیس مین کا کردار ادا کرنے کے لئے کئی پرکشش دفاعی معاہدوں کی پیش کش کی جس میں گزشتہ دنوں ایک اور ترغیب بھی دی گئی۔ امریکا نے مسلح ڈرونز کے ساتھ ساتھ نے بھارت کو فضائی اور میزائل دفاعی نظام کی فروخت کی بھی پیشکش کی ہے۔امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ بھارت کو اپنی بہترین دفاعی ٹیکنالوجی پیش کرنے کیلئے تیار ہے، بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے پایا تو اس کی مالیت 2 ارب 50 کروڑ امریکی ڈالر ہوگی۔واضح رہے کہ مودی اور ٹرمپ کے درمیان جون 2017 میں بھارت کو نگرانی کرنے والے ’گارڈین ڈرونز‘ کی فروخت پر اتفاق ہوا تھا۔ دوسری جانب بھارت کاروس سے ایس 400 دفاعی میزائل نظام کی خریداری کا معاہدہ طے پا چکا ہے۔2010 میں بھارت اور روس نے تیس بلین ڈالر سے زیادہ کے دفاعی معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں جو بھارت کی دفاعی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ ہے۔ دونوں ملک مل کر بھارتی فضائیہ کے لئے پانچویں جنریشن کے جنگی طیارے تیار کریں گے۔اکتوبر 2018 میں بھارت اور روس کے درمیان خطرناک ترین طیارہ شکن میزائل نظام ایس-400 کے لیے 5 بلین امریکی ڈالر کا معاہدہ بھی طے پا گیا ہے۔ وزیراعظم مودی اور روس کے صدر پوتن نے معاہدے پر دستخط کئے نیز بھارت نے روس سے تیسری آبدوز لیز میں لینے کا معاہدہ کیا ہے جو 2025 میں فراہم کی جائے گی۔جبکہ انڈیا اور فرانس بھی ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں جس کے تحت دونوں ملک بحرِ ہند میں تعاون کو فروغ دیں گے۔



فرانسیسی وزیرِ اعظم امانوئل میکخواں اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والے اس معاہدے میں دونوں ملک ایک دوسرے کے جنگی جہازوں کے لیے اپنے بحری اڈے کھول دیں گے۔ بھارتی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل سے 70 ملین ڈالر کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل خرید رہا ہے۔یہ اعلان اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے انڈیا کے دورے سے قبل کیا گیا تھا۔براک میزائل جسے رافیل ایڈوانسڈ سسٹمز نے بنایا ہے بھارت کے پہلے ایئرکرافٹ کیریئر کے لیے استعمال کیا جائے گا جو ابھی زیرِ تعمیر ہے۔اسرائیل اسلحے کی فروخت کے حوالے سے انڈیا کا ایک اہم سپلائیر بن گیا ہے اور ہر سال اسے اوسطاً ایک ارب ڈالر کا فوجی ساز و سامان فروخت کرتا ہے۔ دونوں ممالک نے تقریباً دو ارب ڈالر کے ایک فوجی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت اسرائیل کو انڈیا کو درمیانی مار کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، لانچر اور مواصلاتی ٹیکنالوجی سپلائی کرنا تھا۔ان حالات میں اگر پاکستان کی صورتحال دیکھی جائے تو تمام تر نامساعد حالات کے باوجود پاک سر زمین کے دفاع کے لئے مسلح افواج خود انحصاری کی پالیسی کے تحت مقامی طور پر جدید ہتھیار بنا رہی ہے۔تاہم روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق معاہدے کے تحت پاکستان کا روس کے ساتھ 9 ارب ڈالرز کا دفاعی معاہدہ کرنے کا فیصلہ، معاہدے کے تحت پاکستان روس سے جنگی طیارے، ہیلی کاپٹرز، ائیرڈیفنس میزائل سسٹم، ٹینک اور جنگی بحری جہاز خریدے گا۔پاکستان نے 10 سال کے عرصے کے دوران سب سے زیادہ ہتھیار چین سے خریدے ہیں۔



پاکستان نے 2008 سے 2018 کے درمیان چین سے 6 ارب ڈالرز سے زائد کے ہتھیار خریدے ہیں، جب کہ پاکستان نے روس سے بھی جدید جنگی ہیلی کاپٹرز سمیت دیگر کچھ ہتھیار خریدے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق اگر واقعی پاکستان اور روس مذکورہ دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دینے میں کامیاب ہوگئے، تو یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور اہم ترین دفاعی معاہدہ ہوگا۔ تاہم پاکستان کو اس معاہدے کی تکمیل کے سلسلے میں امریکا کی شدید مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔پاکستان کا دفاعی بجٹ بھارت و دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے تاہم اس کے باجود پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود اپنی مدد آپ کے تحت جدید میزائل بنائے۔ پاکستان کے پاس زمین سے زمین پر کارروائی کرنے والے جدید میزائل ہیں جو پاکستان نے خود بنائے ہیں۔میدان جنگ میں کارروائی کرنے والے میزائل میں نصر ہتف – 9، ہتف-1،مختصر فاصلے پر موجود ٹکانوں پر حملہ کرنے والے میزائل میں غزنوی،ابدالی-1،غوری-1،شاہین-1،درمیانی فاصلہ طے کرنے والے میزائل میں غوری-2،شاہین-2،شاہین-3،کروز میزائل میں بابر/ہتف 7، ٹینکوں کے خلاف حملہ کرنے والے میزائل میں بکتر شکن،ہوا سے زمین پر کارروائی کرنے والے H-2 SOW،H-4 SOW،رعد،بکتر شکن برق اور فضائی میں کارروائی کرنے والے میزائل،عنزہ شامل ہیں۔شاہین سوم (شاہین III) پاکستان کا جدید ترین درمیانی حدِ ضرب والا بیلسٹک میزائل (ایم آر بی ایم) ہے جس کی رینج 2750 کلومیٹر/ 1700 میل ہے اور یہ اپنے ہدف کو 22,226 کلومیٹر فی گھنٹہ (آواز سے 18 گنا زیادہ) تیز رفتاری سے تباہ کرسکتا ہے۔بھارت کو کسی قسم کی فوج کشی سے باز رکھنے کے لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس ’ٹیکٹیکل‘ جوہری ہتھیار موجود ہوں۔



بھارت کا دفاعی بجٹ66ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں پاکستان کے دفاعی اخراجات 11 ارب 40 کروڑ ڈالر رہے، جس کے بعد پاکستان دنیا بھر میں سب سے زیادہ دفاعی اخراجات کرنے والے ملکوں کی فہرست میں 20 ویں نمبر پر تھا۔ اس فہرست میں بھارت چوتھے نمبر پر ہے۔بھارت کے جنگی جنون کے مقابلے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ انتہائی کم ہے ۔ اس کے باوجود دنیا کی چوتھی بڑی فوج کو پاکستان نے اپنے عزم اور دفاعی قوت سے ہر محاذ پر شکست دی ہے۔ ہمیں پاکستانی مسلح افواج کی دفاعی ضروریات کو ملکی سلامتی کے لئے مزید بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ مسلح افواج کی دفاعی ضروریات پر تنقید کرنے والے پاکستان سے مخلص نہیں ہیں۔ بلکہ ان کا ایجنڈاپاکستان کو اپنے دیرینہ دشمن کے مقابلے میں کمزور کرکے بھارتی مذموم عزائم کی سازشوں کو کامیاب بنانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں