78

پاکستان کمیونٹی کی بلا تفریق خدمت کی، ہمیشہ سب کیلئے دروازے کھلے رکھے، کویت میں پاکستانی سفیر غلام دستگیر کا الوداعی خطاب

رپورٹ … طارق اقبال
نمائندہ خصوصی جیوے پاکستان ڈاٹ کام 
پاکستان بزنس سینٹر کویت کی جانب سے پاکستان کے سفیر غلام دستگیر کے اعزاز میں ایک پرتکلف عشائیہ الوداعی تقریب کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔اس موقع پر پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں سمیت حاضرین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر سبکدوش ہونے والے پاکستانی سفیر غلام دستگیر کی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا خیرمقدم کیا۔غلام دستگیر نے اپنے خطاب میں تمام منتظمین اور حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جتنی میری تعریفیں کی گئی ہیں اتنی باتیں مجھ میں نہیں ہیں،

لہذا تعریف کرنے والوں کی باتوں پر مت جائیے گا انہوں نے کچھ زیادہ ہی تعریف کردی ہے انہوں نے کہا کہ یہاں گزرنے والے تین ساڑھے تین سال میری زندگی کا سرمایہ ہیں، بہت یاد گار وقت گزرا ہے جب میں آیا تھا تو یہاں کے تین چار بڑے مسائل کا مجھے بتایا گیا تھا، میں نے اپنے دور میں  بلاتفریق خدمت پر یقین رکھا اپنے دروازے سب کے لیے کھول دیے اور پوری کوشش تھی کہ جو بھی مسئلہ سامنے آئے اسے ترجیحی بنیاد پر حل کیا جائے اور پاکستان کا نام  اونچا رہے پاکستان کی نمائندگی کرنے آئے تھے اور کرتے رہے،



حکومت پر پارٹی کسی کی بھی ہو پرانی حکومت میں بھی  کمیونٹی  کی خدمت کی اور نئی حکومت کے دور میں بھی کمیونٹی کے مسائل پر توجہ رکھی میری پوری کوشش تھی کہ تمام تقریبات اور پروگراموں میں شرکت کروں، اگر  کسی مصروفیت کی وجہ سے  تقریب میں شریک نہیں ہو سکا تو یہ دانستہ نہیں تھا میں نے یہاں کوئی پارٹی بازی نہیں کی بلکہ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے تمام کمیونٹی کی خدمت کی ہے۔ تین بڑے مسائل تھے ویزے کے مسائل ،سفارت خانے کی عمارت کا مسئلہ اور پی آئی اے کی پروازوں کی بندش ۔دستاویزی ریکارڈ گواہی دے گا کہ میں نے اپنے دور میں ان تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے پوری سنجیدگی سے کوششیں کیں اسلام آباد اور کویت کے سرکاری اجلاسوں اور ملاقات میں ہر جگہ یہ معاملہ اٹھایا، مسائل کا حل دراصل کویت کی حکومت کے پاس ہے۔



جہاں تک سفارتخانے کی عمارت کا تعلق ہے فنڈز کی کمی ہے اور ابھی دو سال تک اس پر تاخیر ہوگی جبکہ پی آئی اے کی پروازیں شروع کرنے کے لیے بھی پی آئی اے کے سی ای او اور چیئرمین سے بات کی ہے لیکن ان کے پاس جہازوں کی کمی ہے جیسے ہی کمی دور  ہو گی یہاں پر فلائٹوں کی بحالی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ میں یہاں سے ابوظہبی جارہا ہوں اور جن لوگوں کے ساتھ میرا رابطہ رہا ہے ان سب لوگوں کے لیے میرے دروازے کھلے رہیں گے ۔آخر میں انہوں نے فر د اً فر د اًنام لے کر منتظمین کا اور پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے اپنے دور میں بھرپور تعاون کرنے والوں کا بھرپور شکریہ ادا کیا ۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں