مولانا فضل الرحمن کو جیل میں نواز شریف سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی

سابق وزیراعظم نواز شریف سے جیل میں ان کے بھائی شہباز شریف اور بیٹی مریم نواز نے ملاقات کی ہے لیکن نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان سمیت مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ کے دیگر رہنماؤں کو ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی ۔شہباز شریف اور مریم نواز نے کوٹ لکھپت جیل میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور ان کی صحت کے بارے میں تفصیلات سے آگاہی حاصل کی اور  ملکی اور سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=3bgDy9yZWxY[/embedyt]

سابق وزیراعظم نواز شریف سے مسلم لیگ نون  کے پارٹی رہنما اور مولانا فضل الرحمن سمیت ڈاکٹر عدنان کی ملاقات کی کوشش کی گئی لیکن اجازت نہ ملنے کی وجہ سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ نواز شریف کے لئے 20 جون کا دن بھی کوئی اچھی خبر نہ لا سکا اور نیب کی نواز شریف کو ضمانت پر رہا نہ کرنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیاد پر سزا معطلی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔



عدالت کے سامنے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پیش کی گئی تھی جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن کیانی نے نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ سنایا، فیصل آباد ہائی کورٹ کے مطابق نوازشریف کو طبی بنیادوں پر ضمانت نہیں مل سکتی نواز شریف نے اپنے وکیل کے ذریعے بیماری کی وجہ سے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کرنے کی استدعا کی تھی۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ کیا نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے ۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو شریانوں میں بندش کی وجہ سے کسی بھی وقت ہارٹ اٹیک کا خطرہ ہے۔



ان کی پیچیدہ بیماریوں کے ماہر ڈاکٹروں سے علاج کی تجویز ہے نواز شریف کے دل کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کی ضرورت ہے ۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ سمجھا جائے کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے ۔اس پر نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں نے ایسا لکھا ہے، سزا معطلی کے دوران نواز شریف کے ٹیسٹ ہوئے تھے۔
دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے ضد پکڑ لی ہے کہ علاج ملک سے باہر ہی ہوگا ۔ آج کا عدالتی فیصلہ قانون کے مطابق ہے نواز شریف ایک سزا یافتہ شخص ہے وہ بار بار عدالت سے غیر معمولی رعایت مانگ رہے ہیں علاج کرانا نواز شریف کا حق ہے لیکن صرف لندن سے علاج کرانا یہ کونسا انسانی حق ہے ؟۔



دوسری طرف سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت اور نائب صدر مسلم لیگ نون اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو نشانہ بنا رہی ہے آج تک جو الزامات لگائے گئے ان پر کیا ہوا آپ سب عوام جانتی ہے کہ کس طرح سیاسی انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مسائل کی جڑ گزشتہ الیکشن ہے جن میں زبردست دھاندلی کی گئی ۔