اوبر اور کریم سمیت آن لائن ٹیکسی سروس پر سیلز ٹیکس لگانے کا فیصلہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) حکومت سندھ نے آن لائن ٹیکسی سروس  اوبر کریم دیگر آن لائن ٹرانسپورٹ سہولت فراہم کرنے والی کمپنیوں اور ان کے رائڈرز کی خدمات، درزیوں، آن لائن شاپنگ پر 13 فیصد صوبائی سیلز ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ سندھ حکومت نے اپنی آمدنی میں اضافے کے لیے خدمات پر بعض ٹیکسز کی شرح میں اضافہ اور خدمات کے بعض شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔

[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=ji6Vk0vVtyI[/embedyt]

صوبائی سیلز ٹیکس کے نفاذ اور اس کی شرح میں ردو بدل اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فنانس بل 2019-20 منظوری کے لیے سندھ اسمبلی کے ایوان میں پیش کیا۔ سندھ فنانس بل میں آن لائن رائڈ کمپنیوں کے لیے کاریں، رکشہ اور موٹر سائیکل چلانے والوں کو بھی سیلز ٹیکس دینے کا پابند بنانے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ آن لائن رائڈنگ سروس کے لیے ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے والوں کو بھی صوبائی سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ کمرشل اسپورٹس کلب، گیمنگ سینٹرز، بچوں کے جھولوں اور عوامی تفریح کے مقامات انڈور سوئمنگ پولز، واٹر پارکس کو بھی 13 فیصد سیلز ٹیکس دینا ہوگا . فنانس بل کے مطابق انشورنس ایجنٹس اور انشورنس بروکرز کو بھی سندھ سیلز ٹیکس کے دائرے میں شامل کرلیا گیا ہے۔



سندھ حکومت نے کامرس خدمات پر بھی سیلز ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز پیش کی ہےفنانس بل میں یکم جولائی سے خریدوفروخت کے لیے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز مہیا کرنے والوں پر ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔
ای کامرس سروس فراہم کرنے والوں اور لین دین کی سہولت فراہم کرنے والوں کو بھی ٹیکس دینا ہوگا جبکہ بھاری تعمیراتی مشینری بلڈوزر، روڈ رولرز، کرینوں اور کھدائی کی مشینوں سمیت ملبہ اٹھانے والی مشینوں کاروں اور گاڑیوں کی لیزنگ اور ہائر پرچیز کی سہولت فراہم کرنے والوں پر بھی صوبائی سیلز ٹیکس عائد ہوگا علاوہ ازیں تعمیرات کے لیے سائٹ تیار کرنے والی کمپنیوں مٹی ہٹانے اسٹرکچر و عمارتوں کو منہدم کرنے والی کمپنیوں اور افراد کو بھی صوبائی سیلز ٹیکس کے دائرے میں شامل کرلیا گیا ہے زمین میں کھدائی، پانی کی بورنگ اور معدنیات اور تیل و گیس کے علاوہ دبی ہوئی چیزوں ریتی بجری کو نکالنے والے بھی صوبائی سیلز ٹیکس کے دائرہ کار میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ زیرزمین پائپ بچھانے والوں زمین بازیاب کرانے والوں کو بھی صوبائی سیلز ٹیکس نیٹ میں شامل کرلیا گیا ہے۔



اسی طرح فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی سیمینار ورکشاپس منعقد کرنے والوں کو بھی صوبائی سیلز ٹیکس دینا ہوگا خصوصی تربیت فراہم کرنے والے کمرشل اداروں کورسز کرانے والوں کو بھی سیلز ٹیکس دینا ہوگا کھیلوں کی کوچنگ کورٹس سے استثنی حاصل ہوگا اور کچرا اور فضلہ جمع کرنے والے اداروں کچرے اور اسکریپ کی ٹرانسپورٹیشن کرنے والوں پر بھی صوبائی سیلز ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سندھ فنانس بل میں سرد خانوں اور برف خانوں پر بھی صوبائی سیلز ٹیکس لاگو ہوگا پھل، دودھ، سںزیاں، مرغی گوشت دیگر مائع جات اور گیسز اسٹور کرنے والوں کو بھی صوبائی سیلز ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ پراسیسنگ یونٹس کے کولڈ اسٹوریج، کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔ سندھ فنانس بل کی اسمبلی سے منظوری کے بعد یکم جولائی 2019 سے خدمات کے مذکورہ مختلف شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرلیا جائے گا اور مذکورہ شعبوں سے وابستہ ادارے کمپنیاں اور افراد سالانہ صوبائی سیلز ٹیکس کی ادائیگی کے پابند ہونگے۔