وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ صدارت میں پولیو کے خاتمے کی صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس

 اجلاس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرہ پیچوہو، وزیر بلدیات سعید غنی، چیف سیکرٹری سندھ ممتاز شاہ، آئی جی پولیس ڈاکٹر کلیم امام، پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، صوبائی سیکرٹریز، تمام ڈویژنل کمشنرز، یونیسیف کی ٹوگلی ڈروپ ڈائون، ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر محمد عابد رحمان اور دیگر کی شرکت،  وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہہماری بہترین پولیو ویکسینیشن کے باوجود اس سال 2 کیسز ظاہر ہونا شدید افسوس کی بات ہے، ہماری اپنی قوم اور عالمی برادری کے ساتھ پولیو کے خاتمے کی کمٹمنٹ تھی، لیکن ابھی تک ہدف حاصل نہیں ہو رہا، ہمیں حکمت عملی تبدل کرنی ہوگی،  پولیو کے خاتمے پر ہمیں مزید فوکس کرنا ہے اور محنت کرنی ہے۔

[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=ji6Vk0vVtyI[/embedyt]

سندھ میں فروری کے دوران لیاری میں بی بی صفیہ، اپریل کے دوران لاڑکانہ میں بی بی فضہ اور عبدالنثار کو پولیو کے کیسز ظاہر ہوئے، یہ شدید تکلیف کی بات ہے۔   وزیر اعلیٰ سندھ نے پولیو ورکرز کی تربیت کو مزید بہترکرنے کی ہدایت دی۔ کمشنرز خود حصہ لیں اور ہر راوٗنڈ کی تفصیلات دیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی کے گڈاپ ، گلشن ٹاوٗن،  بلدیہ، لانڈھی، بن قاسم، سائٹ، لیاقت آباد اور صدر ٹاوٗن کے علاقوں میں ابھی پولیو وائرس موجود ہے۔



 
سکھر، جیکب آباد، حیدرآباد، دادو اور قمبر کے مختلف علاقوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ان علاقوں میں پولیو کے وائرس کو ختم کرنے کے اقدامات کرنے کی ہدایت دی، اپریل میں کراچی میں 251806 بچوں کو پولیو ویکسین دینے سے والدین نے انکار کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بچوں کے والدین کی طرف سے پولیو ویکسین سے انکار پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ جو والدین بچوں کو پولیو ویکسین سے انکار کرتے ہیں ان کے خلاف فوری مقدمہ دائر کرکے کارروائی کی جائے۔