سندھ اسمبلی میں مالی سال 2019-20ءپر عام بحث تیسرے روز بھی جاری

کراچی (نامہ نگار خصوصی) سندھ اسمبلی میں مالی سال 2019-20ءپر عام بحث تیسرے روز بھی جاری رہی،طویل بحث میں حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب کے ارکان نے بھرپور طریقے سے حصہ لیا تحریک انصاف کی رکن رابعہ اظفر نظامی نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے ارلی چائلڈ تعلیم کا اعلان تو کیا ہے مگر اس کا معیار کاتعین نہیں کیا گیا،اسکولوں میں استاد نہیں ٹی سی ایف کا سسٹم بھی لیا گیا مگر اسے چلانے کی صلاحیت موجود نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ارلی چائلڈکی 16 اسکیمیں رکھی گئی ہیں جو 2016 سے چل رہی ہے مگر بجٹ دستیاب نہیں ،اسکول اسکیمز میں پانچ اسکیم اسکول اپ گریڈ کرنے کے لیئے رکھی گئی ہیں مگر 2008 سے آج تک مکمل نہیں ہوئے۔پیپلز پارٹی کے رکن سرفراز حسین شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھٹو سے بلاول تک عوام کی خدمت کی ہے ،ڈالر، پیٹرول اور گیس سمیت ہر چیز کی قیمت آسمان تک پہنچ چکی ہے ۔سندھ حکومت کے اسپتالوں میں بہتری آئی ہے مزید بہتری کی بھی ضرورت ہے۔

[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=we9Cr2qXHxo[/embedyt]

ایم کیو ایم کے رکن صداقت حسین کا کہنا تھا کہ کراچی خاص کر کورنگی کے عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ 16سال تک کے بچوں کو تعلیم دینا لازم ہے مگر کورنگی کے ڈھائی لاکھ بچوں کے لئے چھ اسکول ہیں اورکورنگی کی تیس لاکھ آبادی کے لیئے ایک اسپتال ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی عوام کو سکون ملے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہمارے حصے کا بجٹ نہیں دے سکتی تو ہم پر حق حکمرانی بھی چھوڑ دے ،ہم یہ کہنے میں آزاد ہیں کہ متروکہ سندھ سے قبضہ ختم کیا جائے۔پیپلز پارٹی کی رکن سراج قاسم سومرونے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ کہا جاتا ہے تھر کے حالات خراب ہیں میں کہتا ہوں وہاں حالات اتنے اچھے نہیں تو اتنے برے بھی نہیں،تھر کی ڈیڑھ سوسالہ تاریخ میں موجودہ خشک سالی تاریخ کی بدترین خوشک سالی رہی ہے ،جب بارش ہوتی ہے تو تھر میں مور بھی ناچتے ہیں چرند پرند بھی خوش ہوتے ہیں مگر قحط مشکلات کا سبب ضرور ہے۔انہوں نے کہا کہ تھر خود اندھیروں کا شکار ہے مگر اب ملک کو روشن کرنے چلا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تھر ہی ہے جس سے فیصل آباد روشن ہوا ہے اور وہاں کی صنعتیں چل رہی ہیں۔



سراج قاسم سومرو نے کہا کہ تھر میں اگر مشکل ہے تو وہ پانی نہ ہونے کے باعث ہے تھر میں لوگ پیسے چوری نہیں کرتے البتہ پانی ضرور چوری ہوتا ہے۔تھر میں اب ترقی ہونے لگی ہے اور اگر تھر میں پہلی سڑک بنی تو وہ 1994 میں پیپلز پارٹی نے بنائی ،آج تھر میں دو ہزار کلومیٹر روڈ، چھور میں پانی کی لائین اور دیگر لائینیں بنائی گئیں،تھر میں آر او پلانٹ نہ ہوتے تو قحط سالی کے نقصانات مزید زیادہ ہوتے۔انہوں نے بتایا کہ ننگر پارکر میں تین نئے ڈیمز بنا ئے جارہے ہیں،تھر پاکستان کو بدل رہاہے انشااللہ پورے پاکستان کو روشن کرےگا لیکن یہ بھی بتایا جائے کہ پاکستان کب تھر کو بدلے گا،وفاقی حکومت تھر کو وسائل نہیں دے رہی،اسے چاہئے کہ تھر کو اون کرے۔جی ڈی اے کے رکن اسمبلی عارف مصطفیٰ جتوئی نے اپنی تقریر میں کہا کہ سندھ کے معاشی حالات اتنے خراب تھے تو صوبے کے اثاثے کوڑیوں کے مول کیوں فروخت کئے ۔گنے اور گندم کے ریٹ مقرر کرنے میں تاخیر کی جاتی ہے ،خواتین کسانوں کے لئے زمینیں نہیں ہیں لیکن کراچی میں ایک بزنس ٹائیکون کو پچیس ہزار ایکڑ زمین دے دی گئی ۔انہوں نے سوال کیا کہ اگر سندھ حکومت کے پاس پیسے نہیں ہیں تو یہ سندھ بینک میں کہاں سے سرمایہ کاری کرتے ہے ،اومنی گروپ کو نواز نے کے لئے بیمار صنعتوں کی بحالی پر اربوں روپے رکھے جارہے ہیں۔عارف جتوئی نے یہ بھی کہا کہ سندھ حکومت کے پاس پیسہ نہیں ہے تو سندھ بنک میں سرمایہ کاری کیوں کی جارہی ہے ،سندھ بنک دیوالیہ ہوچکا ہے۔



سندھ حکومت کا ترقیاتی فنڈ کہاں جارہا ہے۔ایک ارب روپیہ کہاں چلا گیا؟سب پیسے اومنی گروپ میں گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے چھ ہزار نوکری دینے کا اعلان کیا کیا اس سے مسئلہ حل ہوگیا،ہر سال 14 لاکھ نوجوان کو روزگار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ سندھ میں ہیپاٹائٹس کیوں پھیل رہا ہےمحکمہ صحت کیا کررہا ہے۔بجٹ میں570 گاوں کو بجلی دینے کی بات کی ہے۔یعنی ہرماہ صرف تین گاوں کوبجلی دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ خوراک پر 80ارب روپے کا قرضہ ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ انھیں پیسے کم کیوں مل رہے ہیں2008 میں پیسے کم ملے تھے تو کہا کہ معاشی حالات خراب ہیں کیونکہ اس وقت ان کا وزیر اعظم تھا۔پیپلز پارٹی کی خاتون رکن اسمبلی رکن ہیر اسماعیل سوہو نے کہا کہ نیب کاروائی کررہا ہے کئی سیاستدانوں پر مقدمات ہیں مگر بتایا جائے مخالفین کو کیوں گرفتار کیا ہے ؟اس موقع پر انہوں نے پرویز خٹک، علیمہ خان، فردوس عاشق اعوان اور دیگر کی تصاویر ایوان میں لہرادیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ہیں نیب کے فرشتے انکے خلاف کیوں کاروائی نہیں ہورہی ہے بتایا جائے کیوں ؟ انہوں نے کہا کہ کہا گیا والدہ کے علاج کے پیسے نہیں تھے جس کے باعث شوکت خانم اسپتال کا خواب دیکھا گیا،ہمیں بھی ایسی سلائی مشین دی جائے کہ یم بھی ار ب پتی بن جائیں۔کہا جاتا ہے پانچ ہزار لوگوں کو قتل کیا جائے تو مسائل حل ہوجائیں گے، غریبوں پر کیوں ٹیکس لادے جارہے ہوگدھا گاڑی والے نے کیا قصور کیا ہے اس پر بھی ٹیکس لگادیا گیا ہے عوام کا تو تیل نکال دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے رکن محمد ریاض حیدر نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسمبلی میں آیا تو سنا تعلیم پر ایمرجنسی لگائی گئی ہے۔سندھ حکومت نے جن اسکیموں کا اعلان کیا اس سے بننے والے منصوبے پندرہ سال سے قبل مکمل نہیں ہونگے،تھر میں قائم کئے جانے والے سے75 سے زائد اسکولوں کے کام میں خردبرد کی گئی جس کی تحقیقات کی جائےمیرے ترقیاتی منصوبے نظر انداز کیا گیا پانی کا بحران ہے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔



ایم کیو ایم کے رکن ہاشم رضا زیدی کا کہنا تھا کہ اس بجٹ کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ عصبیت اور تعصب کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔گیارہ سالوں کی طرح بارہواںبجٹ بھی ماضی کا حصہ ہے۔تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ڈاکٹر سنجے پاروانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پورے سندھ کے اسپتالوں کا دورہ کیا لیکن بہت برا حال دیکھ کرافسوس ہوا،اسپتالوں میں ادویات دستیاب نہیں ہیں،کراچی کے کارڈیو اسپتال میں مشینیں خراب پڑی ہیں،خوراک کی مد میں سندھ حکومت 14کروڑ روپے صوبے میں خرچ کرنے کا بجٹ رکھا گیا,صوبے میں خوراک کی صورتحال تشویش کا باعث ہے.جی ڈی اے کے رکن اسمبلی ڈاکٹر رفیق بانبھن نے عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ فیض گنج میں اسکول چھت کے بغیر اور میرے حلقے میں گرلز اسکول بغیر دروازے کے چل رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میںکہا گیا سیف کو اسکول دے رہے ہیں تعلیم بہتر ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ سیف کے جو اعداد و شمار بتائے جاتے ہیں وہ غلط ہیں کیونکہ وہاں بچے کم داخل ہوئے ہیں مطالبہ کرتا ہوں انکوائری کرائی جائے ،سیف کو پیسوں کی ادائیگی بچوں کی تعداد پر ملتی ہے مگر جعلی اور دگنے اعداد و شمار دکھا کر محکمہ تعلیم کو لوٹا جارہا ہے ۔ ڈاکٹر رفیق بھانبھن نے کہا کہ تعلیم مفت دی جارہی ہے تو پھر یہ کیا معیار ہے کہ ہر میں شہر ٹیوشن سنٹر بنا ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ فیض گنج میں ٹراما سنٹر بنارہے ہیں تین سال گذر چکے ہیں کہاں گیا ٹراما سنٹر کیوں نہیں بنا اس کا کون جواب دے گا۔انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں تو ایمبولینس بھی میسر نہیں لوگ حادثے کا شکار ہوں یا بیمار وہ مر سکتے ہیں مگر انہیں علاج نہیں مل سکتا۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن پروین بشیر نے کہا کہ بی بی کی شہادت کے بعدآصف علی زرداری کے ایک نعرے نے ملک سے محبت جگادی، آصف علی زرداری کانام تاریخ میںسنہری لفظوں میں لکھاجائے گا ۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ملک کومعاشی بحران کے سواکچھ نہیں دیا اور تبدیلی کے نام پر عوام کو افلاس وبھوک دی ،یتیم بچوں اور بیواوں سے ان کا نوالہ چھین لیاگیا۔پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر عبدالکریم سومرو نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے متوازن بجٹ پیش کیا مگر وفاقی حکومت نے تو غریبوں سے روٹی بھی چھین لی ۔انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت کو گرفتار کیا گیا تو بلاول موجود ہیں وہ نہیں تو آصفہ موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دلیر اسپیکر اور شرجیل میمن پر بھی مقدمات بناکر گرفتار کیا گیا کریم سومر و نے کہا کہ ہم بتا دینا چاہتے ہیں ہمیں گرفتار کریں یا ماردیں مگر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔



تحریک انصاف کے رکن اسمبلی رابستان خان نے کہا کہ بجٹ پر بڑے بڑے عدوے کئے گئے ہیں حالت یہ ہے کہ میرا حلقہ ضلع غربی کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج لوگ پیپلز پارٹی سے مایوس ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ انہوںنے پیپلز پارٹی کو رد کیا اور تحریک انصاف کو ووٹ دیا،کہا گیا عمران خان کنٹینر پر چڑھاہوا ہے ، انہوں نے کہا کہ میں بتاتا ہوں ہاں کنٹینر بالکل بن رہا ہے جس میں ہم ان سب چوروں کو بند کرکے سمندر میں پھینک دیں گے۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عزیز جونیجو کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ نے بہت اچھا بجٹ دیا ہے مگر میرے حلقے میں پانی کے مسائل ہیں،پانی کی لائننگ کرادی جائے اوراسپتال کو اپ گریڈ کیا جائے۔انہوں نے سندھ میں نیب کی جانب سے امتیازی سلوک روا رکھنے کی بھی نشاندہی کی ۔ جی ڈی اے کے رکن اسمبلی وریام فقیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ یہ گیارہواں بجٹ ہے مگر ہمارے علاقے کو علاقہ غیر سمجھا جاتا ہے جہاں سڑکیں نہیں ہیں۔اسپتالوں میں دواﺅں اور ڈاکٹرز کی بھی کمی ہے، قدری گیس ہمارے علاقے سنجھورو سے نکلتی ہے مگر دس سال سے اس علاقے کی ترقی کے ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا،ضلع کو نسل بھی فنڈز سے محروم ہے۔انہوں نے کہا کہ میر ے حلقے میں کوئی ایک روڈ بھی سلامت نہیں ہے ، ہمارا گزر بسر زراعت پر ہے لیکن کسانوں کے لئے نہ کھاد ہے ، نہ پانی ہے اور نہ بیج ہے۔پی پی رکن رانا ہمیر سنگھ کی تقریر کے دوران صوبائی وزراءمکیش کمار چاولہ، سعید غنی، تیمور تالپور آپس میں گفتگو کرتے رہے جس پر رانا ہمیر سنگھ برہم ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ میں کس کو سنا رہا ہوں کون سنے گا، صوبائی وزرا کی آپس میں گفتگو کررہے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ آپ کو سب سن رہے ہیں آپ بولیں،پی پی رکن رانا ہمیر سنگھ کی تقریر پر اپوزیشن اراکین نے ڈیسک بجائے۔اپنی تقریر میں انہوں نے تھر کے مسائل پر روشنی ڈالی۔ان کا کہنا تھا کہ تھرپارکر میں بچوں کی ہلاکت کا ایشو بڑھتا جارہا ہے اور کم نہیں ہورہا اور یہ سلسلہ روکنالیڈی ہیلتھ ورکرز کے بس کی بات نہیں،انہوں نے کہا کہ تھرپارکر کو یونیورسٹی ملنا اچھا اقدام ہے اسے سراہتے ہیں یہ کام پہلے ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ ناراکینال بند باند ھ کر بنائی گئی اور اس کی ڈی سلٹیشن نہیں کی گئی اسے ری ماڈلنگ کی جائے ،صوبے کے کینالز میں ڈی سلٹنگ ہوئی ہے مگر چالیس دن تک پانی نہیں پہنچتا ہے اسے بھی ری ماڈلنگ کیا جائے۔انہوں نے اپنی تقریر کے دوران پیپلز پارٹی پر یہ کہتے ہوئے تنقید بھی کردی کہ وہ شہید بے نظیر بھٹو کے سیاسی وژن سے ہٹ گئی ہے اور سندھ حکومت کو عوام کے مسائل اور پریشانیوں کا احساس نہیں۔پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شہریار شر نے اپنی تقریر میں کہا کہ سندھ کے بجٹ میں ترقی کے بڑے دعوے کئے گئے آئیں آپ کو اپنے حلقے میں سڑک دکھاﺅں کیا حال ہے جہاں ہر طرف مسائل ہی مسائل ہیں۔



انہوں نے کہا کہ میرے حلقے کی میں نہروں کو پانی نہیں آخر کب ملے گا،اسپتال میں سامان نہیں ٹراما سنٹر بند پڑا ہے جو مریض آتا ہے کہا جاتا ہے چلو رحیم یارخان جاﺅ،آخر اسپتالوں کی کب حالت بہتر ہوگی ،سندھ سندھ کہنے والے بتائیں دس سال سے سندھ میں زہریلا پانی چھوڑا جارہا ہے آخر سندھ کے ساتھ یہ ظلم کیوں ہے۔پیپلز پارٹی کی خاتون رکن سعدیہ جاوید نے بجٹ پربحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم کیوایم کو مشورہ دیا کہ وہ سندھ کی سیاست میں مہاجر کارڈ استعمال کرناچھوڑ دے۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا یہ شکوہ درست ہے کہ ٹرانسپورٹ کے لئے فنڈز کم مختص کئے گئے ہیں جنہیں بڑھانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کو شہباز ایئر بیس واپس دلانے، ایران گیس اور سی پیک منصوبہ دینے والے مرد حر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم کے رکن عبدالباسط نے اپنی تقریر میں کہا کہ جب حقوق سے محروم کیاجائےگا صوبے کی آوازبلندہوگی ،صوبے کامطالبہ کرناکوئی غلط بات نہیں،جب آپ نہیں سنبھال پائینگے تو ہمیںہی سنبھالناہوگا،اب احتساب کاعمل شروع ہوگیا،کراچی سمیت سندھ کو جس نے لوٹا وہ انجام کوپہنچ رہے ہیں۔پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی فقیر شیر محمد بلالانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے وزیر اعظم تھرپارکر آئے سو آر او پلانٹ کی تنصیب کا اعلان کیا مگر کھودا پھاڑ نکلا چوہا، موصوف وزیر اعظم نے جو باتیں کیں فیصلے ان کے برعکس کئے ،کہا لوٹے ساتھ نہیں لیں گے۔



آج آدھی حکومت لوٹوں پر مشتمل ہے ،ہم احتساب کے حامی ہیں مگر انتقام کے لئے نہیں،انشاءاللہ یقین ہے ہم نیب سے آزاد ہوکرخر سرخرو ہونگے۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی جام اویس بجار خان جوکھیو نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ کو بہترین بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں،میرے حلقے دھابے جی میں پانی سمیت دیگر مسائل ہیں حل کیئے جائیں۔ ایم کیو ایم کی رکن اسمبلی بلقیس بانو کا کہنا تھا کہ کراچی شدید پانی بحران کا شکار ہے ،جو پانی ہے وہ بھی صاف میسر نہیں،پانی سے امراض پھلتے ہیں ،نگلیریا کا مسئلہ بھی اسی صاف پانی نہ ملنے سے ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ کے کسی بھی شہر میں بدامنی آج بھی قائم ہے اور اسٹریٹ کرائم عذاب بنا ہوا ہے ،ریاست کی مہ داری ہے کہ وہ امن قائم کرے ۔بعدازاںڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی کا اجلاس کل جمعرات کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا۔