پاکستان مسلم لیگ ن سندھ میں کون کیا کھیل کھیل رہا ہے؟

پاکستان مسلم لیگ ن سندھ کی قیادت کے اندرونی حالات کا ایک جائزہ

کون کتنے پانی میں ہے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان مسلم لیگ نون اس وقت اپنے ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے ۔۔۔۔۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔ پیپلز پارٹی اور اس کے بعد جنرل مشرف کے دور میں مسلم لیگ نون کے کارکنوں اور رہنماؤں نے قربانیاں بھی دیں سختیاں بھی برداشت کی جیل بھی کاٹی مقدمات کا بھی سامنا کیا۔ لہذا یہ مقدمہ بازی اور گرفتاریاں مسلم لیگ نون کے اکثر رہنماؤں اور نظریاتی کارکنوں کے لئے نہیں ہے۔ وہ سیاسی انتقام کی آگ میں جل کر کندن بن چکے ہیں۔ انہیں معلوم ہے ان کی قیادت کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں بھی ایک وقت ایسا آیا تھا جب ان کی قیادت کو ان سے دور کر دیا گیا تھا اور کہا جاتا تھا کہ کے اس پارٹی کی قیادت کا سیاسی باب ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔ لیکن انسان کو سوچتا ہے اور قدرت کو کچھ اور منظور ہوتا ہے۔ جس نواز شریف کے لئے قانون منظور کرکے تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے سے روکا گیا۔ جس نواز شریف کو وطن واپسی پر جہاز میں بٹھا کر واپس بیرون ملک بھیجا گیا ہے۔ وہ نواز شریف تیسری مرتبہ پاکستان کا وزیراعظم کی بنا۔ اس نے پاکستان کو ایٹمی دھماکے کرکے نیوکلیئر طاقت بھی بنایا اور پاکستان کو ایشین ٹائیگر کی راہ پر گامزن بھی کیا۔ نواز شریف کے چاہنے والے آج بھی نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے میں مسلم لیگ نون سیاسی طور پر بہت پیچھے جا چکی ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں۔ قیادت کی اپنی غلطیاں ہیں۔غلط حکمت عملی ہے۔ سندھ کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا۔ سندھ کو عملی طور پر پیپلز پارٹی کے حوالے کردیا گیا۔ اپنے کارکنوں کی آواز دبا دی گئی۔ اپنے رہنماؤں اور عہدیداروں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا۔ یہ اور بہت کچھ اور بھی ہے۔ پارٹی کی اندرونی گروہ بندی ایک دوسرے کو نیچا دکھانا۔ پارٹی کو پستی کی طرف لے گیا۔ آج مسلم لیگ نون کو سخت چیلنجوں کا سامنا ہے۔ کراچی سے کشمور تا اس کے لیڈر اور کارکن پریشان ہیں مسلم لیگ نون ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا نہیں کر سکی جس کا سندھ میں بہت کھلا موقع ملا ہوا ہے۔شہری علاقوں میں ایم کیوایم کے کمزور ہونے کا فائدہ بھی مسلم لیگ نون بھرپوراندازسے نہیں اٹھا سکی۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہیں کہ مسلم لیگ نون کے لیے میدان صاف نہیں تھا کیونکہ اس کے لیے سیاست کو شجر ممنوعہ بنایا جا رہا تھا صرف فوکس مسلم لیگ نون کی قیادت کے خلاف تھا لیکن حکومت کے دوران مسلم لیگ نون میں خود بھی غلطیاں کیں اور سندھ کو وہ اہمیت نہیں دی جو وقت کا تقاضا تھا۔ نواز شریف سمیت مسلم لیگ نون کے ایم رہنماؤں نے کبھی بھی کراچی میں قیام کرنے ہیں اور یہاں پر زیادہ وقت گزارنے کے بارے میں نہیں سوچا اندرون سندھ بھی اپنے لوگوں کو اکیلا چھوڑ دیا اور پھر اس رویے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ماضی میں بڑے بڑے نام مسلم لیگ نون کے ساتھ جوڑے ہوئے تھے ایک ایک کر کے سب الگ ہوتے گئے پھر بھی سبق نہیں سیکھا۔ کراچی میں بھی اہم مسلم لیگی رہنما خود کو غیر فعال اور غیر متحرک ہونے سے نہ بچا سکے مایوسی کا شکار ہوکر سیاست سے الگ ہوگئے یا دوسری پارٹیوں میں جا بیٹھے۔ کس کس کا نام لیں۔ سید غوث علی شاہ۔ کیپٹن حلیم صدیقی۔ سردار عبدالرحیم۔ ہمایوں خان۔ عرفان مروت اور ناجانے کتنے نام ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پارٹی پر پیراشوٹرز کا قبضہ ہوچکا ہے۔ یہ پیراشوٹرز کون ہے کہاں سے آئے ہیں۔2018 کے الیکشن میں جن لوگوں کو کراچی سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ دیئے گئے ان کو پارٹی میں کتنے لوگ جانتے ہیں یہ بھی ایک سوال ہے اور وہ ٹکٹ ہولڈرز خود کتنے کارکنوں کو جانتے ہیں۔ کن علاقوں میں گئے ہیں۔ اپنے حلقے بھی پہچانتے ہیں یا نہیں؟ آج پارٹی کے فیصلے جن ہاتھوں میں ہیں۔ ان کی وفاداری مشکوک تو نہیں ؟ ان میں سے اکثر لوگوں نے مشکل وقت میں پارٹی کا ساتھ نبھایا ہے لیکن کچھ تو نووارد ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کو سلام کرنا چاہیے کہ انتہائی مشکل وقت میں پارٹی میں آئے ہیں اور پوری استقامت سے کھڑے ہیں محمد زبیر۔ مفتاح اسماعیل۔ اشتیاق بیگ ڈٹے ہوئے ہیں۔ لیاری سے پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر سابق ایم این اے شاہ جہاں بلوچ بھی مسلم لیگ نون میں آگئے ہیں انہوں نے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں نواز شریف سے ملاقات کرکے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ شاہ محمد شاہ نے مسلم لیگ نون سے ان کی تنظیم توڑ دی تمام عہدے ختم کر دیئے گئے۔ ایسا کرنا وقت کی ضرورت تھی ۔۔۔۔لیکن اب آگے کیا ہو گا۔ کیا 25 رکنی کمیٹی معاملات کو صحیح طریقے سے چلا سکتی ہے۔ سلیم ضیاء۔ محمد زبیر۔مشاہداللہ خان۔ مفتاح اسماعیل۔ خواجہ طارق نذیر۔ علی اکبر گجر۔ اشتیاق بیگ۔ اسد جنیجو جیسے تجربہ کار اور ذہین لوگ پارٹی کو میسر ہیں تو توقع کی جانی چاہیے کہ وہ پارٹی کو منظم طریقے سے آگے لے کر چلیں گے۔ لیکن ابھی تو ہر طرف غیر یقینی اور مایوسی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ پارٹی میں اس وقت جو لوگ سر گرم اور فعال ہیں یا جن کو ٹکٹ دیے گئے تھے ان کے نام یہ ہیں۔

شاہ محمد شاہ، سلیم ضیاء، محمد زبیر، مفتاح اسماعیل، علی اکبر گجر، اسد جونیجو، خواجہ طارق نذیر، ،اشتیاق بیگ، ماروی میمن، بلال اعجاز شفیع، امداد چانڈیو، زین انصاری، غلام مصطفی ایڈووکیٹ، منور، ضیا، راجہ انصاری، خواجہ غلام شعیب، رانا احسان، امان اللہ خان، سورۃ تھیبو، ملک محمد تاج، پروین بشیر، خالد ممتاز، وسیم وہرہ، عصمت انور محسود، سلطان بہادر، عاشق گجر، دوست محمد فیضی، فیاض علی پٹھان، عبدالجلیل بروھی، سعید آفریدی، صالحین تنولی، امتیاز خان، آدم اسحاق، عادل نذیر تنولی، طارق محمود ، شیخ یاسر عدیل ، چوہدری محمد جمیل، حاجی محمد اقبال، صوبہ خان، تنویر خان، رانا افتخار، محمد اسلم خٹک، نور بروھی، امیر فیاض، محسن جاوید ڈار، محمد جہازیب عالم، زرین شاہین، محمد بابر خان

سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ نون سندھ میں آخر ہو کیا رہا ہے۔ شاہ محمد شاہ اور دیگر دوست کیا فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے ذہن میں کیا ہے وہ پارٹی کی مرکزی لیڈرشپ کو کیا پیغام پہنچا رہے ہیں۔ اگر پارٹی نے اپنے سیاسی مخالفین سے لڑنا ہے تو سب سے پہلے اپنے اندرونی لڑائیوں پر قابو پانا ہوگا۔ اس وقت تو یہ شکایات ہیں کہیں چہرے ایک دوسرے سے ملنا پسند نہیں کرتے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کے روادار نہیں ہیں۔ ہر پارٹی میں ایک دوسرے سے شکایات ہوتی ہیں لوگ ایک دوسرے سے ناراض بھی ہوتے ہیں لیکن پارٹی کی ناراضگیاں پارٹی کے اندر رکھی جاتی ہیں اور پارٹی کے مخالفین سے مل جاتا ہے۔ مسلم لیگ نون کو صوبائی سطح پر اس وقت ایک منظم فعال اور سرگرم اور متحرک قیادت کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ نون کے پاس بہت اچھے اچھے نام ہیں ان کے پاس تجربہ بھی ہے ذہانت بھی ہے صلاحیت بھی ہے۔ لیکن کمی ہے تو ایک ڈائریکشن کی۔ ابھی یہ طے نہیں ہے کہ پارٹی کا بیانیہ کیا ہے۔ جو بیان یا نواز شریف نے الیکشن سے پہلے دیا تھا وہی میاں نیا ہے یا حالات بدل چکے ہیں۔ یہ بھی طے نہیں ہے کہ آنے والے دنوں میں پارٹی کی قیادت مریم نواز کے ہاتھ میں ہو گی یا فیصلے شہباز شریف ہی کریں گے۔ جب تک پارٹی کیا حال ہے کی عادت پر چھائے ہوئے گہرے بادل چھٹ نہیں جاتے صوبائی سطح پر بھی عہدے داروں اور کارکنوں کو واضح فیصلے کرنے میں مشکلات کا سامنا رہے گا۔ پارٹی کے صوبائی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حالات مشکل ضرور ہیں لیکن سب کے حوصلے بلند ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
اگلی قسط جلد شائع کی جائے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں