پی ٹی آئی کی حکومت ملک میں ایک کروڑ سے زائد گھروں کی طلب سے استفادہ حاصل کرے، محمد حنیف گوہر

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز اینڈ کامرس انڈسٹری کے سابق نائب صدر اور ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز آباد کے سابق چیئرمین محمد حنیف گوہر نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے پی ٹی آئی حکومت کو چاہیے کہ ملک میں ایک کروڑ سے زائد گھروں کی طلب سے استفادہ حاصل کرے ۔

[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=we9Cr2qXHxo[/embedyt]

کسی بھی ملک میں صنعتی اور معاشی انقلاب لانے میں صرف تعمیراتی شعبہ ہیں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے ٹیکسٹائل سمیت پانچ برآمدی صنعتوں کی ضروری ٹنگ مراد ختم کرنے سے ملکی برآمدات پر انتہائی منفی اثرات پڑیں گے۔ حنیف گوہر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اس وقت شدید مالی بحران سے دوچار ہے لیکن سات ہزار ارب روپے کے بجٹ میں 3 ہزار ارب روپے کا خسارہ ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر اور تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر ہے جو ملکی معیشت کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔



وزیراعظم عمران خان ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے سخت جدوجہد کر رہے ہیں پاکستان کی تاجر برادری بھی وزیراعظم کی بھرپور مدد کرنا چاہتی ہے لیکن اس کے لیے حکومت کو کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ بیس لاکھ رہائشی یونٹس کا شارٹ فال ایک سنہری موقع ہے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت کو تعمیراتی شعبے کو درپیش مسائل حل کرنا ہوں گے وزیراعظم کے 50 لاکھ سستے گھروں کی اسکیم میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ قائم کرنی ہوگی ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے سازگار بنانا ہوگا تعمیراتی شعبے کی ترقی کے لئے حکومت کو یکساں اور محفوظ پالیسیاں متعارف کرانا ہوگی حنیف گوہر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے پالیسی ساز اداروں کے ساتھ آباد کے بھرپور رابطوں کے باوجود تعمیراتی شعبے کو درپیش مسائل حل نہیں ہو سکے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعمیراتی پروجیکٹ کی اپروول کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔



جس کے باعث سرمایہ کار بالخصوص غیرملکی سرمایہ کار تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری سے کتراتے ہیں جس کے لیے حکومت کو فوری طور پر پورے ملک میں ونڈو آپریشن نظام متعارف اور بڑے شہروں میں کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں اس وقت بلند عمارتوں کی تعمیرات پر غیر اعلانیہ پابندی ہے جس کے لئے وفاقی حکومت کو سندھ میں مداخلت کرنی ہوگی اس کے ساتھ ساتھ ریئل سٹیٹ کے لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات لانا بھی ناگزیر ہو گیا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ فکس ٹیکس رجیم کو دوبارہ نافذ کرے پہلے بھی ایف ٹی آر کو سازش کے تحت ختم کیا گیا ایف ٹی آر نظام سے شفافیت اور کرپشن کا خاتمہ ہوگا حنیف گوہر نے کہا کہ ٹیکسٹائل لیدر کارپٹ اسپورٹس اور سرجیکل گوڈز سے زیرو ریٹنگ مراد واپس لینے کی خبریں آ رہی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دس برسوں سے پاکستان کی برآمد کی گروہ زیرو ہورہی ہے جبکہ مجموعی 25 ارب ڈالر کی برآمدات میں 13 ارب ڈالر صرف ٹیکسٹائل انڈسٹری کا حصہ ہے اگر ان سے زیرو ریٹڈ مراد واپس لی گئی تو ملکی برآمدات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے پی ٹی آئی کی معاشی ٹیم کو اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔