اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں تقریر مکمل کرتے ہوئے حکومت کا بجٹ مسترد کر دیا

قومی اسمبلی میں 3 روز کی ہنگامہ آرائی کے بعد بدھ کے روز ماحول نسبتاً بہتر رہا اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنی تقریر مکمل کر لی انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بجٹ کو مسترد کردیا اور آصف علی زرداری سمیت گرفتار ارکان اسمبلی کی بجٹ اجلاس میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔


[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=we9Cr2qXHxo[/embedyt]


قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری اس ملک کے صدر رہے ہیں انہوں نے گیارہ سال جیل میں گزارے لیکن وہ ہر کیس میں بری ہوئے اور ہم آج بھی ہر فورم پر لڑرہے ہیں اور آصف زرداری بری ہوں گے بلاول کا کہنا تھا کہ نوابشاہ لاہور جنوبی اور شمالی وزیرستان کے عوام کو کیسے اس بجٹ عمل سے باہر رکھا جا سکتا ہے جو کچھ چل رہا ہے وہ جمہوریت اور اسے وہ ان کی توہین ہے افسوس کے ساتھ یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اسپیکر کی کرسی سے جو وعدے کئے گئے ہیں وہ پورے نہیں ہوئے آصف زرداری اور دیگر ارکان جو گرفتار ہیں ان کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں۔



شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں طویل خطاب کیا اور ماضی کی کارکردگی اور موجودہ حکومت کے بجٹ پر گفتگو کی ان کا کہنا تھا کہ خدا خدا کرکے یہ موقع آیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی بات سنیں گزشتہ دنوں ایوان کا جو وقت آیا ہوا وہ اس ایوان کی روایت کے منافی ہے ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری خواجہ سعد رفیق محسن داوڑ اور دیگر گرفتار رکن اسمبلی کے ایوان کے رکن ہیں ان کی ایوان میں موجودگی یقینی بنائی جائے ۔شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں 2013 میں بجلی کے بحران دہشتگردی کے خاتمے میں اور ملک میں بجلی کے نئے کارخانے لگانے اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے معیشت کو استحکام دینے کے حوالے سے متعدد اقدامات کا تفصیلی حوالہ دیا۔