نئے مالی سال کے بجٹ میں لوکل گورنمنٹ کے تحت صوبے بھر کی 96 اسکیموں میں سے صرف 77 اسکیمیں کراچی کے لئے ہیں، سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی کے ترقیاتی کاموں کے لئے آئندہ مالی سال میں 22.5 ارب روپے کی رقم مختص کردی گئی ہے جبکہ میئر کراچی کا یہ کہنا کہ صرف 1.6 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں یہ عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ اس وقت سندھ اور بالخصوص کراچی میں ایم کیو ایم تحریک انصاف کی بی ٹیم بن کر کام کررہی ہے اور ماضی میں جس طرح وہ کسی کے اشاروں پر کام کرتی رہی اب وہ کام تحریک انصاف کی ایماء پر کررہی ہے تاکہ وہ ان کے سامنے اپنی تابعداری ثابت کرسکیں۔


[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=ji6Vk0vVtyI[/embedyt]


ملک کا وزیر اعظم خود یہ کہے کہ ارکان کے پروٹیکشن آرڈر نہیں جاری کئے جائیں، یہ چور ڈاکو ہیں ان کو اسمبلی میں نہیں آنا چاہیئے اور اپوزیشن کو ایوان میں بولنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے تو پھر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس ملک میں آئین، قانون، اسمبلی اور جمہوریت کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں اس وقت لوکل گورنمنٹ کے تحت 107 اسکیموں پر کام جاری ہے جبکہ نئے مالی سال کے بجٹ میں لوکل گورنمنٹ کے تحت صوبے بھر کی 96 اسکیموں میں سے صرف 77 اسکیمیں کراچی کے لئے ہیں۔



انہوں نے کہا کہ کراچی کے لئے نئے مالی سال کے بجٹ میں اس سال کی صرف الوکیشن جو محکمہ بلدیات کی اسکیموں کی ہے وہ 22.5 ارب روپے جبکہ دیگر تمام محکموں کی مل کر 52.6 ارب روپے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی میں واٹر اینڈ سیوریج کے مسائل کے حل میں انتہائی سنجیدہ ہے اور خود وزیر اعلیٰ سندھ بھی اس سلسلے میں متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ورلڈ بینک کے اشتراک سے 5 سال کے دوران صرف واٹر اینڈ سیوریج کی اسکیموں پر 1.5 ارب ڈالر خرچ کرے گی، جس کے بعد ہمیں امید ہے کہ پرانے اسٹریکچر کی تبدیلی اور پمپنگ اسٹیشنوں کی حالت زار کی بہتری کے بعد پانی اور سیوریج کے مسائل میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔



ایک سوال کے جواب میں وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ ہمارے سیاسی مخالفین حقائق کے برخلاف عوام کو غلط معلومات فراہم کرکے سیاسی پوائنٹ اسکورننگ کرنا چاہتے ہیں جبکہ حقائق تمام کے سامنے ہیں اور بجٹ میں پیش کردہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ مئیر کراچی نے گذشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ سندھ حکومت نے بجٹ 2019-20 میں کراچی کے لئے صرف 1.6 ارب روپے رکھیں ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بجٹ میں 22.5 ارب روپے کی الوکیشن کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سیاسی مخالفین اپنی سیاسی پوائنٹ اسکورننگ کے لئے کچھ بھی کرتے رہیں لیکن ہم نے عوامی خدمت کا جو وعدہ کیا ہے اور کراچی کے عوام سے کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کرتے رہیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں متعدد بار کہہ چکا ہوں کہ اس وقت سندھ اور بالخصوص کراچی میں ایم کیو ایم تحریک انصاف کی بی ٹیم بن کر کام کررہی ہے اور ماضی میں جس طرح وہ کسی کے اشاروں پر کام کرتی رہی اب وہ کام تحریک انصاف کی ایماء پر کررہی ہے تاکہ وہ ان کے سامنے اپنی تابیعداری ثابت کرسکیں۔



انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کراچی میں پانی، سیوریج اورصفائی ستھرائی کے ازخود مسائل کھڑے کرتی ہے اور پھر اسی پر احتجاج کرواتی ہے اور یہ ان کی ماضی کی بھی روایت رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب عوام کے سامنے ان کا اصل چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے اوراب ان کے اس طرح کے ہتھکنڈوں کو کراچی کے عوام اچھی طرح سمجھ چکیں ہیں۔ آصف علی زرداری اور دیگر ارکان قومی اسمبلی کے پروٹیکشن آرڈر کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اگر وزیر اعظم خود یہ کہے کہ ان کے پروٹیکشن آرڈر نہیں جاری کئے جانے چاہئے۔ اگر وزیر اعظم یہ کہے کہ یہ چور ڈاکوں ہیں ان کو اسمبلی میں نہیں آنا چاہیئے اور خود وزیر اعظم یہ کہے کہ اپوزیشن کو ایوان میں بولنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے تو پھر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس ملک میں آئین، قانون، اسمبلی اور جمہوریت کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فاسٹسٹ سوچ کے حامل وزیر اعظم ہیں اور ان کی نظر میں آئین، قانون اور جمہوریت کی کوئی حیثیت نظر نہیں آتی۔ رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور کے پروٹیکشن آرڈر کے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی نے قانون کے تحت ان کے آرڈر جاری کردئیے ہیں اور اب نیب نے اس پر عملدرآمد کرنا ہے۔