چوبیس ہزار ارب کا قرضہ لینے کی تحقیقات کرنے والا آگیا، ڈپٹی چیئرمین نیب حسین اصغر کمیشن کے سربراہ ہوں گے

چوبیس ہزار ارب روپے کے قرضوں کی تحقیقات  کے لیے حکومت نے ڈپٹی چیئرمین نیب حسین اصغر کو چیئرمین کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے،  وزیراعظم عمران خان نے بجٹ کے بعد قوم سے خطاب کے دوران گزشتہ دس سالوں میں سابقہ حکومتوں کی طرف سے لیے گئے قرضوں کی انکوائری کرانے اور کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔


[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=ji6Vk0vVtyI[/embedyt]


جو قرضوں کے استعمال اور ان میں کرپشن کی تحقیقات کرے گا وزیراعظم نے قوم سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ اب تک ان پر ملک کو مالی بحران سے نکالنے کا دباؤ تھا لیکن اب وہ ملک کو تباہی کے دھانے پر پہنچانے والوں کو نہیں چھوڑیں گے انکوائری کمیشن کے ذریعے پتہ لگایا جائے گا یہ چوبیس ہزار ارب روپے کا قرضہ کیسے چڑھا اور کہاں خرچ ہوا قوم کو پتہ ہونا چاہیے۔



وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میری جان بھی چلی جائے ان چوروں کو نہیں چھوڑوں گا پاکستانی قوم کا مجھ پر اعتماد ہے ایف بی آر کو ٹھیک کروں گا ۔واضح رہے کہ حسین اصغر سابق پولیس افسر ہیں اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن پنجاب بھی رہ چکے ہیں۔