اپوزیشن جماعتیں چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر متفق

پاکستان میں اپوزیشن کی بڑی جماعتیں چیئرمین سینیٹ کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ اپنی مرضی کا نیا چیئرمین لانے اور وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر متفق ہوگئی ہیں چیئرمین سینٹ کی شخصیت کے نام کی منظوری اور اے پی سی کی تاریخ کااعلان وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کی رضامندی سے کیا جائے گا۔


[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=ji6Vk0vVtyI[/embedyt]


پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت پر مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی اور حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کے لیے ایک ایسی بلانے کے معاملات پر اتفاق ہوچکا ہے ۔مولانا فضل الرحمان سے شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی تفصیلی ملاقات اور مشاورت ہوئی ہے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان بھی تفصیلی مشاورت ہو چکی ہے بڑی جماعتوں کے قائدین نے اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل سے اے پی سی میں شرکت کی درخواست کی گئی ہے۔



جس پر انہوں نے مثبت جواب دیا ہے ابوشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت ملک کے معاشی مسائل سمیت عوام کے مسائل حل کرنے کی واضح دوست سندھ دینے میں ناکام نظر آتی ہے اور حکومت کی نااہلی اور ناکامی کی وجہ سے ملک اور قوم کی مشکلات اور مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے لہذا اس حکومت کو مزید وقت نہیں دیا جاسکتا ملک کو بچانے کے لئے قومی ایجنڈا بنانا ہوگا ۔موجودہ حکومت میں ملک چلانے کی صلاحیت نہیں ہے۔