عمران حکومت کا ایک اور چھکا، برطانیہ سے اسحاق ڈار کی واپسی کا معاہدہ ہونے کا دعویٰ

نیب کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر اپنے اہل خانہ کے نام پر 83 کروڑ سے زائد کے اثاثے بنانے کا الزام ہے جو ان کی آمدن سے کہیں زیادہ ہیں عزادار کا احتساب ہونا چاہیے کیونکہ ان کے اثاثے سے ان کی آمدن کے مطابقت نہیں ہے ۔اسحاق ڈار کی گرفتاری سے اس لیے بچے ہوئے ہیں کہ وہ موجودہ حکومت آنے سے پہلے ہی لندن چلے گئے تھے۔ اب پی ٹی آئی کی حکومت نے ایک اور چھکا لگاتے ہوئے یہ دعوی کر دیا ہے کہ اسحاق ڈار کو برطانیہ سے واپس لانے کے لیے برطانوی حکومت سے معاہدہ ہو گیا ہے ۔جلد اسحاق ڈار کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور پیروں میں پاکستان کے حوالے کر دیا جائے گا۔


[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=ji6Vk0vVtyI[/embedyt]


پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے زیادہ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ برطانوی حکام سے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی واپسی کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو گئے ہیں بس اب حوالگی کی دستاویزات پر دستخط ہونا باقی ہیں جس کے بعد اسحاق ڈار ہوں میں اسٹیٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور پھر پاکستان کے حوالے کیا جائے گا ان کے مطابق یہ رسمی کارروائی جلد مکمل کر لی جائے گی ان سے پہلے فواد چوہدری نے چودہ جون کو کہا تھا اسحاق ڈار اور حسن نواز حسین نواز کی حوالگی کے لئے کاروائی کا آغاز جلد ہو جائے گا ۔



حکومتی شخصیات کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران برطانیہ کے محکمہ داخلہ کے ساتھ اسحاق ڈار حسن نواز اور حسین نواز کی واپسی کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے اور حکومت کو مثبت جواب ملا ہے۔
اسحاق ڈار کو سپریم کورٹ نے 2017 میں اشتہاری قرار دیا تھا جب وہ مبینہ طور پر علاج کے لیے لندن میں موجود تھے اور سماعت کے دوران عدالت نہیں آئے تھے ان کی غیر حاضری کی درخواست کو عدالت میں 30 اکتوبر 2017 کو مسترد کر دیا تھا۔