سندھ اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر عام بحث دوسرے روز بھی جاری

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر عام بحث دوسرے روز بھی جاری رہی۔سندھ اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے پی ٹی آئی کی خاتون رکن سدرہ عمران نے کہا کہ سندھ کا بجٹ دیکھ کر لگتا ہے جیسے صوبے میں ہرطرف مونو ٹرین، ہیلی کاپٹر اور نجانے کیا کیا چل رہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں ٹرانسپورٹ پر رقم ایک فیصد رکھی گئی ہے اور خواب یلو لائن اور ریڈ لائن نجانے کیا کیا دکھائے گئے تھے ،ای گورننس پر رقم نہیں ہم کس طرح شفافیت اور بہتر گورننس رفارمز لائیں گے۔


[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=ji6Vk0vVtyI[/embedyt]


انہوں نے کہا کہ صوبے کے 60 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں اور بجٹ ایلوکیشن صرف سات فیصد کی گئی ہے،288 ارب کے بجٹ میں ترقی کے دعوے کئے گئے ہیں اور کہا گیا62 میگا منصوبے رکھے گئے ہیں لیکن کراچی کے لئے واٹر سپلائی کے لئے صرف 9 ملین رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گڈاپ میں انجنیئرنگ کالج کے لئے جو بجٹ رکھا گیا ہے اسے تو دیکھ کر لگتا ہے ترقی صرف پیپلز پارٹی کے حلقوں میں ہی ہورہی ہے۔پیپلز پارٹی رکن شازیہ عمر نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے سندھ کی30 سے زائد اسکیموں کو رد کیا اس کے باوجود تنقید سندھ کے بجٹ پر کی جاتی ہے حالانکہ وفاق کی ناانصافیوں کے باوجود سندھ کا بجٹ متوازن اور خوش آئند ہے۔اس بجٹ میں حکومت سندھ نے تعلیم ،صحت اور امن و امان کو اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے جو قابل ستائش اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ میٹرک انٹر تک فیس کی معافی تعلیمی شعبے کی بہتری کی جانب ایک انقلابی قدم ہے جو بہتر نتائج دے گا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ سے کراچی کے تین بڑے اسپتال چھین لئے گئے مگر بجٹ میں رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔ایم کیو ایم کی خاتون رکن منگلا شرما رکا کہنا تھا کہ بجٹ میں ہندووٗں کے لئے کم منصوبے رکھے گئے ہیں۔



ہندو بچیوں کو مذہب کے نام پر ور غلاکر مذہب تبدیلی کرایا جارہا ہے۔بھوک، غربت اور مصائب کے بہانے ان بچیوں کو مذہب تبدیل کرایا جاتا ہے ۔سندھ حکومت نے اب تک منارٹی کمیشن کیوں نہیں بنایاکم سن بچیوں کی شادیوں کو روکنے کے قانون پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا؟ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف مسلم بچیوں کو کاری کرکے قتل کردیا جاتا ہے دوسری طرف ہندو بچیوں کو پسند کے نام پر ہار پہنائے جاتے ہیں،بلاول بھٹو کے ہولی منانے سے ہندووں کے مسائل حل نہیں ہوتے ۔تقریر کے دوران منگلا شرما نے سندھ کی تاریخ اور ثقافت پر بات کرنے کی کوشش کی تواسپیکر نے سندھ کی ثقافت پر بات کرنے پر انہیںروک دیا اور کہا کہ آپ بجٹ پر بات کریں سندھ کی تاریخ کا آپ کو پتہ نہیں تو بات کیسے کررہی ہیں؟پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نوید انتھونی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے ملک بھر میں سیاسی بے چینی کی فضا پیدا کی جارہی ہے ۔انہوں نے اقلیتوں کے لئے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں اضافی کوٹہ مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔



انہوں نے وزیر بلدیات سے درخواست کی کہ وہ اقلیتی عبادت گاہوں کے مسائل حل کریں۔جی ڈی اے کے رکن اسمبلی معظم عباسی نے صوبائی بجٹ پر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بجٹ کی کتاب دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ سندھ دبئی یا سنگاپوربن گیاہے لیکن زمینی حقائق دیکھیں تو سندھ ملک کے دیگرحصوں سے پچاس سال پیچھے چلا گیا۔موجودہ حکومت نے شہیدوں کے شہر لاڑکانہ کا جو حشر کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے ،لاڑکانہ میں گندے پانی کے تالاب ہیں،بلاول بھٹو الیکشن جیتنے کے بعد سے لاڑکانہ واپس اپنے حلقے میں نہیں آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ میں گندے پانی کاعذاب کچرہ ہے ،لاڑکانہ۔کے مسائل کے حل کے لئے سوچ رہے ہیں کہ گانا گاناسیکھ لیں،معظم عباسی نے کہا کہ سندھ حکومت اپنے گیارہ سال کا حساب دینے کو تیارنہیں وفاقی حکومت سے کیوں حساب مانگ رہی ہے؟انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں50 کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن کی ہوئی ہے اور ایل ڈی اے کے ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں۔




پیپلز پارٹی کی خاتون رکن کلثوم چانڈیو نے اپنی بجٹ تقریر میں جی ڈی اے کے معظم عباسی کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور کہا کہ آپ کے خاندان پر پی پی کا احسان ہے آپ لوگوں کو پی پی نے زمین سے اٹھا کر آسمان پر پہنچایا تھا اس ایوان میں غلط بیانی سے تو کام نہ لیں، بلاول بھٹو عید پر لاڑکانہ میں تھے اور انہوں نے وہاں اکرکنوں سے عید بھی ملی اور عوام سے ان کے مسائل بھی معلوم کئے کلثوم چانڈیو نے کہاکہ سندھ میںتنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافہ ان کو ہضم نہیں ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تبدیلی سرکار کے وزیر اعظم ہاﺅس کے بجٹ میں اضافہ مگر عوام کے لئے کچھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ چینی مہنگی کیوں نہیں ہوگی آخر نااہل ترین کے استاک کو بھی تو فروخت کرنا ہے۔کلثوم چانڈیو نے وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے 22 کروڑ عوام پریشان ہیں اور اگر کوئی آرام میں ہے تووہ ہمارا وزیر اعظم ہے جوآدھی رات کو قوم سے خطاب کرتا ہے۔انہوں نے سوال کی اکہ کہاں ہیں وہ ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر کون سے سیارے پر بنایا جارہا ہے ،بلین ٹری اور پشاور میٹرو کا کیا بنا؟سندھ تباہ ہے تو کے پی کے اور پنجاب سے لوگ سندھ کیوں آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غریبب عوام کے پیسوں پر لندن جایا جارہا ہے میچ دیکھے جارہے ہیں اب تو عمرے پر سابقہ شوہر بھی ساتھ لے جائے جارہے ہیں۔پی ٹی آئی ارکان نے کلثوم چانڈیو کی تقریر پر سخت اعتراض کرتے ہوئے شور شرابہ شروع کردیا تاہم انہوں نے وفاقی ھکومت پر تنقید جاری رکھی اور کہا کہ کیا۔



مدینے کی ریاست میں ایسا ہوتا ہے کہ عوام بوجھ برداشت کریں اور حکمراں موج منائیں۔تحریک انصاف کے رکن شبیر قریشی نے اپنے خطاب مین کہا کہ ہم کراچی کے لئے پیسے کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے وفاق سے فنڈ نہیں ملتا،کراچی کو خیرات کے طور پر رقم دی جاتی ہے ،کہا جاتا ہے کہ لوگ آتے ہیں اور تقریر اس لئے کرتے ہیں کہ ٹھاکر خوش ہوگا،جناب ٹھاکر خوش یہاں نہیں اس طرف ہوتا ہے جہاں بولنے سے وزارتین ملتی ہیں۔اسپیکر اپوزیشن لیڈر پر تنقید کرتے ہیں کہتے ہیں ایسا اپوزیشن لیڈر نہیں دیکھامیں کہتا ہوں آج کراچی میں ہمارے آج یہ تیس ہیں اسی اپوزیشن لیڈر کی وجہ سے ہے پہلے اس ایوان میں ہمارے صرف تین ارکان تھے ۔ان ہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے تعلیم کے لئے بڑا کام کیا ہے گھوسٹ اسکول کس نے بنائے ؟پانچ ہزار اسکول اب بھی گھوسٹ ہیں اسکول مویشیوں کے فارم بنے ہوئے ہیں۔شبیر قریشی نے کہا کہ کراچی ان کو ووٹ دے گا جو کراچی کے لئے لڑے گا آپ کے ہاتھوں سے تو لیاری بھی چلاگیا۔بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم کیو ایم کی رکن شاہانہ اشعر نے کہا کہ گیارہ سالوں میں حکومت نے کیا کیا ہے نہ پینے کا پانی ہے نہ بجلی ہے سڑکیں تباہ ہیں،عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے ٹینکر مافیا کو سرپرستی کی اور حکومت خاموش ہے ۔انہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی کی بڑی تعریف کی جاتی ہے بتایا جائے وزیر صحت صبح کے وقت اسپتال گئی ہیں مریض تڑپ رہے اور ڈاکٹر گپ شپ میں لگے ہوتے ہیں،صوبے میں سندھ پبلک سروس کمیشن بنا مگر وہ اپنے بچوں کو پاس کررہے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ تعلیم پر بجٹ رکھا جاتا ہے کیا وزیر تعلیم نے کبھی اسکولوں کا دورہ کیا ہے ،اسکولوں میں نہ پنکھے ہیں نہ بہتر عمارت قوم کے معمار کس حال میں ہیں۔پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی پیر مجیب الحق نے کہا کہ وزیر اعلی اور پیپلز پارٹی کی حکومت مبارکباد کی مستحق ہے جس نے ان حالات میں عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے۔



ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے عوام پر ٹیکسوں کا بہت زیادہ بوجھ ڈالا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں غیر ملکی قرض 16 ارب ڈالراور ن لیگ کے دور میں 20ارب ڈالر لئے گئے لیکن اب گیارہ ماہ میں 36 ارب ڈالر تک قرض بڑھادیئے گئے ہیں،کمیشن بنانے والے بتائیں گیارہ ماہ مین گیارہ ارب کہاں گئے ڈالر کی بڑہتی قیمت سے مشکل حالات پیدا ہوگئے ہیں،ملک کی معاشی گروتھ دباﺅ کا شکار ہے اس سے حالات خراب اور بارہ ارب سرکلر ڈیٹ پہنچ چکا ہے۔جی ڈی اے کی خاتون رکن نسیم راجپر نے اپنی تقریر میں کہا کہ سندھ میں جو ابتری ہے اس پر حکومت کی کوئی کارکردگی نظر نہیں آتی ،تعلیم اور صحت پر اربوں روپے بجٹ قوم کے بچے تعلیم سے محروم اور علاج میسر نہیں لوگ ایڈز میں مبتلاءہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دس ماہ گر چکے ہیں مگر حکومت نے عوام کے اہم مسائل پر نوٹس نہیں لیا جاتا ،نوشہرو فیروز میں اسپتال اپ گریڈ نہیں کیا جارہا۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے ٹیل میں پانی کی شدید کمی ہے جس سے لوگوں کی فصلیں تباہ ہورہی ہیں۔



ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی راشد خلجی نے اپنی تقریر میں کہا کہ شہری سندھ میں احساس محرومی بڑھ رہاہے ،ایم کیوایم کو دہشت گردکہنے والے وزرا بتائیں آصف زرداری ووٹ لینے کیوں نائن زیرو گئے تھے ،حیدرآباد کے اسپتالوں میں سہولیات ناپید ہیں اور وہاں ٹرانسپورٹ کا بھی کوئی نظام نہیں ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ پیپلزپارٹی بتائے کیا سندھ میں کوئی ایک ماڈل یونین کمیٹی ہے؟انہوں نے شکوہ کیا کہ حیدرآباد میں آگ سے جھلسنے والے مریضوں کے لئے کوئی برنس وارڈ نہیں، اب تک سندھ کے جتنے بھی بجٹ آئے ہیں ان سے عام آدمی کو نہیں کچھ لوگوں کو ضرور فائدہ پہنچا ہے،سندھ کا موجودہ بجٹ بھی عوام دوست نہیں ہے۔تحریک انصاف کے رکن عدیل احمد نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ ہم نے کے پی کے میں لوکل گورنمنٹ کا نظام لائے تو تیس فیصد 40 ارب روپے لگائے اور نظر بھی آتے ہیں۔مگر سندھ میں لوکل گورنمنٹ کو ایک سے دو فیصد رقم رکھی جاتی ہیں،کورنگی ضلع میں اکتیس اسکیمیں رکھی گئیں مگر ایک بھی مکمل نہیں ہوا،میٹرو برج شاہ فیصل پر مرمت کا کام نہ ہونے سے حادثات روز کا معمول بن گئے ہیں۔




انہوں نے کہا کہ ڈرگ روڈ پر شاہ فیصل کالونی کا متبادل کراسنگ کا راستہ نہیں دیا گیا جس سے چھ لاکھ آبادی متاثر ہے۔عباسی شہید اسپتال کی ایکسٹینشن کے لئے بھی بجٹ میں رقم صرف چھ فیصد رکھی گئی اس کا مطلب تکمیل کے لیے بیس سال درکار ہوں گے۔پیپلز پارٹی کے شاہد تھیم نے کہا کہ گزشتہ دس مہینوں سے جس انداز میں حکومت چل رہی ہے کیا اس طڑح مدینے کی ریاست چلتی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور عوام بھی اب اس حکومت سے بیزار ہیں۔پی ٹی آئی کے کریم بخش گبول نے کہا کہ ہم سندھ اسمبلی سے منسلک اسپیکر چیمبر کو سب جیل بنانے کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ کل یہ نہ ہو کہ کہیں اس معزز ایوان ہی کو سب جیل قراردیدیا جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسپیکر کے چیمبر کو سب جیل قرار دینے کا حکم نامہ واپس لیا جائے۔پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی تاج محمد ملاح نے بجٹ پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کو امن و سکون دیا۔



انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی ، ایم کیو ایم کے حق پر ڈاکہ ڈال کر اس ایوان تک پہنچی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی حزب اللہ بگھیونے فریال تالپور کو لاڑکانہ کے لئے شجر سایہ دار قراردیا اور کہا کہ آصف علی زرداری مرد مجاہد ہیں جو جیلوں سے گھبرانے والے نہیں۔پیپلز پارٹی کی خاتون رکن فرحت سیمی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے لئے سیاسی آزمائشیں کوئی نئی بات نہیں ہماری لیڈر شپ جیلوں اور مقدمات سے گھبرانے والی نہیں ہے۔پیپلز پارٹی کی ایک اور خاتون رکن شاہینہ شیر علی نے بھی بجٹ پر عام بحث میں حصہ لیا اور انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں ٹیکسوں کی بھر مار کرکے عوام سے دو وقت کی روٹی بھی چھین لی گئی ہے لیکن افسوس کہ پی ٹی آئی کے اتحادی اس ظلم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور ان کی زبان سے وفاقی حکومت کی عوام دشمنی کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں نکلتا۔ بعد ازاں اسپیکر نے اجلاس بدھ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا۔