سندھ اسمبلی میں پیر کو مالی سال 2019-20 کے لئے صوبائی بجٹ پر عام بحث کا آغاز

کراچی: سندھ اسمبلی میں پیر کو مالی سال 20۔2019 کے لئے صوبائی بجٹ پر عام بحث کا آغازہوگیا۔بحث کا آغازپیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر سہراب سرکی کی تقریر سے ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے کراچی سمیت صوبے کی ترقی کے لئے بڑی رقم مختص کی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے بڑے دعوے کئے تھے کہ کراچی کو ترقی دیں گے لیکن افسوس کہ کراچی کے تین بڑے اسپتال تحویل میں لینے کا تو بہت شوق تھا مگر ان کے لئے بجٹ بھی مختص نہیں کیا گیا سہراب سرکی نے کہا کہ 162ارب روپے کی باتیں کی گئیں مگر وفاقی بجٹ میں 12 ارب سے زائد رقم نظر نہیں آئی ۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے کئی اراکین قومی اسمبلی میں بیٹھے ہیں ان کو وفاق کے اس اقدام پر بھی آواز اٹھانی چاہیے،کراچی سے گھوٹکی سکھر تک پیپلز پارٹی نے کام کئے مخالفین خراب باتوں کے فوٹو تو فیس بک پر شیئر کرتے ہیں مگر اچھے کاموں کا کوئی ذکر نہیں ہوتا۔



جی ڈی اے رکن رزاق راہموں نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ترقی کے دعوے کئے جاتے ہیں اور وفاق پر رقم نہ دینے کے الزام عائد لگایا جاتا ہے مگرجب وفاق پیسے دیتا ہے تو پیسے فالودے اور رکشے والوں کے اکاﺅنٹس سے نکلتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر سندھ نے ترقی کی ہے تو وہ نظر کیوں نہیں آتی ؟ حقیقت یہ ہے کہ پیسے یا تو استعمال نہیں ہوتے یا لیپس ہوجاتے ہیں یا بیرون ملک منتقل ہوجاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تھر کی ترقی کی باتین کی جاتی ہیں مگر آج بھی تھر کے بچے مررہے ہیں ۔تھر میں ساڑھے سات سو آر او پلانٹ لگانے کی باتیں بتائی جاتی ہیں مگر زمین پر ان کا کوئی وجود نہیں لوگ مفت تنخواہیں حاصل کررہے ہیں۔تھر سے بجلی پیدا ہورہی ہے مگر تھر کے لوگ اندھیروں میں زندگی گذاررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تھر کے لوگوں کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے وہاں ایک بھی میٹرنٹی ہوم نہیں خواتین دائیوں کے ہاتھوں مررہی ہیں کم سے کم اپنے چیئرمین کو تو سچ بتایا جائے۔



رزاق راہموں کا کہنا تھا کہ تھر میں غذائی قلت اب بھی موجود ہے ،تھر میں ایک بھی میٹرنٹی ہوم کے لئے بجٹ میں پیسے نہیں رکھے گئے ،گندم کی تقسیم بھی غیرمنصفانہ ہے،نیب تحقیقات کررہی ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تھر میں آنے والی کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ مقامی نوجوانوں کو روزگار دیں۔پی ٹی آئی رکن بلال غفار نے کہا کہ بجٹ آمدنی کی تقسیم کا نام ہے ،سندھ کے لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ مسلسل 12واں بجٹ میں کیا سہولیات دی گئی ہیں؟صحت تعلیم اورصاف پانی کی سہولیات نہیں سندھ میں کوئی انفراسٹرکچر نہیں 12سال مسلسل حکومت سے یہ نتیجہ نکلا ہے کہ حکومت ناکام ہوچکی ہے ۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ تک نہیں۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پورے پاکستان میں لٹریسی ریٹ بڑھا سندھ میں کم ہوا لوگوں کا معیارزندگی مزید بدتر ہوا ہے ۔



انہوں نے کہا ہماری خواہش تھی کہ وزیراعلی یہ بتاتے کہ تعلیم اورصحت میں کیا کیا ٹارگٹ تھے جوحاصل کئے لیکن یہ نہیں بتایا گیا۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید ذوالفقار شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وفاقی بجٹ کی وجہ سے عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں۔تقریر کے دوران ذوالفقارشاہ کی زبان پھسل گئی اور انہوں نے یہ کہہ دیا کہ سندھ سے پی ٹی آئی کو ایک سیٹ بھی نہیں ملی جس پر پی ٹی آئی کے ارکان نے شور مچایا کہ کراچی بھی سندھ کاحصہ میں ۔جس پر ذوالفقار شاہ کو یہ وضاحت کرنی پڑی کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اندرون سندھ سے پی ٹی آئی کو کوئی نشست نہیں ملی۔ذوالفقار شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عوام دشمن بجٹ پیش کیا ہے۔ایم کیو ایم کے و سیم قریشی نے اپنی تقریر میں کہا کہ وزیربلدیات نے کراچی کو پیاسا کردیا ہے وہ بجائے دلائل دینے اورکارکردگی دکھانے کے صرف ایم کیوایم پر الزامات لگارہے ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ وزیراعلیٰ نے آتے ہی تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کیا تھا،ایک ادیب اوردانشور کو وزیر بنایاجو اپنی تقریر میں کئی مرتبہ غلطیاں کرجاتے ہیں۔



سندھ میں نقل مافیا کو بے لگام کردیا گیا،قابل طلبہ مایوس ہیں کیا یہ ہے ایمرجنسی کا نتیجہ؟ان کا کہناتھا کہ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا تھا کہ پانی کی قلت ختم کی جائے گی لیکن افسوس کہ نارتھ کراچی اورنیوکراچی کا پانی دوسرے ضلع کو دیا گیا۔ویسٹ کو حب ڈیم کا پانی ملنا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہورہا۔۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے لوگ رمضان جیسے مقدس مہینے میں عبادت کے بجائے پانی کی تلاش میں مصروف نظر آتے تھے کربلا کا واقعہ آج بھی تاریخ میں زندہ ہے اورپانی پر قبضہ کرنے والے نیست ونابودہوگئے ۔انہوں نے کہا کہ پانی سے ترسانے کی یہ سازش اس لئے کی جارہی ہے تاکہ روڈ سڑکوں پر آئیں۔قانون نافذ کرنے والوں سے ان کاتصادم ہواورشہر کا امن تباہ ہو۔۔پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی راجہ اظہرنے اپنے خطاب میں کہا کہ اپریل 2018 کو 40ہزارٹن گندم افغانستان کو دی گئی،تھر میں 450بچے وفات پا گئے کیوں کہ بھٹو زندہ ہے۔ان کی اس بات پر ایوان میں موجود پیپلزپارٹی ارکان نے بڑے جذباتی انداز میں نعرے لگائے کہ” زندہ ہے بھٹو زندہ ہے “۔



راجہ اظہر نے کہا کہ 5ملین کی اسکیمز 114ملین پرپہنچ جاتی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں،کاش اسکیمز وقت پر مکمل کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ وزیربلدیات نے میرے حلقے میں کام کروانے کا وعدہ کیا تھا،ایک زیرتعمیر پانی کی اسکیم مکمل کرنے کے بجائے ختم کردی گئی ۔انہوں نے الزام لگایا کہ اسٹاف غیرقانونی کنیکشن دینے میں مصروف ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا جنہوں نے پیپلزپارٹی کو ووٹ نہیں دیا کیا ان کا کوئی کام نہیں ہوگا؟۔ راجہ اظہر نے کہا کہ کراچی جوسب سے زیادہ ریوینیو دیتا ہے وہاں اسکولز میں بینچز تک نہیں ہیں۔۔پیپلز پارٹی کی خاتون رکن غزالہ سیال نے اپنی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کو بدعا دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کریگا یہ سب جیل میں جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ خرم شیرزمان جب الیکشن مہم کے لئے حلقے میں گئے تھے توان کوانڈے مارے گئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف بات کریں گے سننا بھی پڑیگا۔غزالہ سیال نے کہا کہ سندھ حکومت نے بہتر بجٹ پیش کیا ہے،تعلیم کے فروغ کے لئے مثبت اقدمات اٹھائے گئے ہیں،اے ون گریڈ کو ایک لاکھ روپے انعام دیا جائیگا،یونیورسٹی طلبہ کے لئے12اسکالرشپ دی جارہی ہے ۔چھ ہزار نوکریاں دینے کا اعلان خوش آئند ہے،200نئے اسکول قائم کئے جائیں گے ،ملازمین کے لئے وفاق نے پانچ فیصد تنخواہ بڑھانے کااعلان کیا ۔جبکہ سندھ حکومت نے 15فیصد بڑھائی ہے۔



پیپلز پارٹی کی خاتون رکن حنا دستگیر اپوزیشن بلاوجہ صوبائی بجٹ پر تنقید کررہی ہے جبکہ تو وفاقی بجٹ جو عوام دشمن ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے تو ملک کو کھڑا کیا پیپلز پارٹی کو جب ٹوٹا پھوٹا پاکستان ملا تو شہید بھٹو نے اس ملک کو 73 کا آئین دیا۔سندھ اسمبلی ملک کی واحد اسمبلی ہے جہاں سب زبان بولنے والے بیٹھے ہیں ہے کسی اور صوبے کی اسمبلی میں ایسا ماحول نہیں ملے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم دعاگو ہیں سندھ میں امن ہو اور سب مل کر بیٹھیں۔سندھ اسمبلی میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رکن گھنور خان اسران نے کہا کہ اپوزیشن اراکین سندھ کی بات کرتے نہیں تھکتے مگر جب وزیر اعلی ٰنے کہا آﺅ کھڑے ہوجائیں ،جو سندھ کی تقسیم کے حامی تھے وہ اس دن بھی نشستوں پر بیٹھے رہے ۔انہوں نے کہا کہ کہا گیا اقتدار میں آکر وزیر اعظم ہاﺅس کا خرچہ کم کریں گے مگر اقتدار میں آنے کے بعد بجٹ میں دیکھا تو 98کروڑ کا بجٹ ایک ارب سولہ کروڑ کردیا گیا۔اور تو اور وزیر اعظم بیرون ملک دورہ کرتے ہیں تو ایک ٹولہ بھی اپنے ہمراہ لے جاتے ہیں۔صوبائی بجٹ پر تقریر کرتے ہوئے خاتون رکن شہناز بیگم کراچی آنے والے مرکزی حکمران بڑی بڑی تقریریں اور اعلانات کرکے گئے لیکن ہوا کچھ نہیں،وفاق نے سندھ پر ایک اور بم گرایا خان صاحب کو دوسروں کی چیزیں زیادہ پسند ہیں۔اسی لئے انہوں نے سندھ کے تین اسپتال لینے کے لئے نوٹیفکیشن جاری کردیاان کو کیا پتا کہ غریب لوگوں کی مشکلات کیا ہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر واویلا کیا گیا اور جواب میں ہیلتھ کارڈ دینے کا شوشہ چھوڑا گیا اچھی بات ہے مگر کارڈ بھی تو دیں۔



انہوں نے کہا کہ سندہ حکومت نے سرکاری ملازمین کی پندرہ فیصد تنخواہ مین اضافہ کیا، کیا وہ نظر نہیں آرہا۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن وزیر اعلیٰ پر تنقید کرتی ہے لیکن جب بجٹ پیش کیا گیا تو اس وقت تو وہ شور مچارہے تھے۔پیپلز پارٹی کے رکن سید فرخ شاہ نے کہا کہ صوبے کی بجٹ پر بات کی گئی مگر وفاقی بجٹ میں اسپتال چھننے کے باوجود بھی بجٹ مختص نہیں کیا گیا ہے اس کا کسی نے ذکر نہیں کیاوفاق کا بجٹ وفاق کا نہیں آئی ایم ایف کا ہے اور ان کی ہدایت پر ڈالر کے نرخ بڑھائے گئے ،جب سابقہ حکومت گئی تو ڈالر کی قیمت ایک سو تیس روپے تھی، ہماری لیڈر شپ کو بدنام کیا جارہا ہے کہ ڈالر ان کی وجہ سے مہنگا ہوا ہے ،آپ نے تو ملک میں کس چیز کو بخشا ہے انڈہ اور گدھاگاڑی والا بھی نہیں بچا۔پیپلز پارٹی کی تنزیلہ قمبرانی نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کا مقصد حقوق العباد حقوق کا تحفظ کرنا تھا حد یہ ہے کہ اس وقت سابق صدر کو پروڈکشن آرڈر نہیں مل رہا یہ ہے۔



انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کو ایوان میں صرف اس لئے قومی اسمبلی میںآنے سے روکا جارہاہے کیونکہ انکا کچہ چٹھا کھل جائے گا۔انہوں کہا کہ اس بڑا ظلم اور کیا ہوگا کہ سندھ کی ایک نہتی عورت فریال تالپور کو بھی پابند سلاسل کردیا گیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے ایک ورکر سے اتنا ڈر کہ آپکی چیخیں نکل گئیں۔تنزیلہ قنبرانی نے کہا کہ سندھ رویینو پیدا کرتا ہے لیکن پیسے نہیں ملتے ہیں ،ان سے ادارے تو بن نہیں پاتے پرائے منصوبوں پر تختیاں لگائی جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم تو نامور لوگوں کو بٹھاکر بجٹ بناتے ہیں آپ نے تو نکالے گئے لوگوں کو بٹھاکر بجٹ بنایا ہے۔ بعدازاں اسپیکر نے اجلاس منگل کی صبح دس بجے تک ملتوی کردیا۔