78

شاباش کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ … شاباش

گزشتہ جمعہ کی شام کو آگے جی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کے باعث 13 گھنٹے تک کراچی کو پانی کی فراہمی بند رہنے سے پیدا ہونے والی قلت آپ کو دور کرنے کے لیے واٹر بورڈ کی بھرپور کوششیں اور اقدامات رنگ لے آئیں ۔کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر انجینئر اسد اللہ خان کی نگرانی میں واٹر بورڈ کے انجینئرز افسران اور عملے نے ہفتہ اور اتوار کو ہفتہ وار تعطیلات کے باوجود شہر کے کونے کونے تک پانی کی معمول کے مطابق فراہمی کے لیے متعدد اقدامات کیے اور واٹر بورڈ کے کمپلین سینٹر پر موصول ہونے والی فراہمی و نکاسی آب سے متعلق متعدد شکایات کا ازالہ کردیا گیا اس دوران 8 غیر قانونی کنکشن بھی منقطع کئے گئے۔



عام طور پر شہری جب ویک اینڈ پر مختلف ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں ڈر کر رہے ہوتے ہیں یا شاپنگ مالز میں شاپنگ کر رہے ہوتے ہیں یا سنڈے کے روز چھٹی مناتے ہوئے پکنک میں مصروف ہوتے ہیں تب بھی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے افسران اور عملہ شکایت کے ازالہ کے لیے سر گرم ہوتا ہے اور اپنی ہفتہ وار چھٹیوں کی قربانی دے کر شہریوں کو پانی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے اور سیوریج کے مسائل حل کرنے کے لئے سڑکوں اور گلیوں میں خدمات انجام دیتا ہے اپنی ذمہ داری کو محسوس کرنے اور شہریوں کی خدمات انجام دینے والے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے تمام افسران انجینئرز اور عملہ شاباش کا مستحق ہے۔



ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے اہم میچ کے موقع پر جب کراچی کے عوام پاک بھارت کرکٹ میچ دیکھ رہے تھے اس روز بھی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا عملہ شکایات کے ازالے اور شہریوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہا تھا۔عام طور پر جیسے مواقع ہوتے ہیں جب پانی چوری کرنے والے بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور واٹر بورڈ کا عملہ ان پر بھی نظر رکھتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ جمعے کی شام دھابیجی میں کے الیکٹرک کے گریڈ اسٹیشن میں لگنے والی آگ کے باعث کراچی کو پانی فراہم کرنے والے واٹربورڈ کے اہم ترین دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کے 13 گھنٹے طویل بریک ڈاؤن سے پیدا ہونے والی قلت آپ کو دور کرنے اور پانی کی فراہمی معمول پر لانے کے لیے واٹر بورڈ کے انجینیئرز اور افسران نے تمام ممکنہ اقدامات کیے… ہفتہ اور اتوار کو تعطیلات کے باوجود بھی ایم ڈی واٹر بورڈ انجینئر اسد اللہ خان کی ہدایت پر شہر کے کونے کونے خصوصا بلند مقامات تک پانی پہنچانے کے لئے واٹر بورڈ نے تمام تر صلاحیتوں اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے کامیابی حاصل کی ۔واضح رہے کہ بریک ڈاؤن کے باعث د ھا بیجی پمپنگ اسٹیشن سے کراچی کو 345 ملین گیلن پانی فراہم نہیں کیا جاسکتا تھا اور سینکڑوں کلومیٹر طویل لائن خالی ہونے کے باعث واٹربورڈ کو شہر کے لئے پانی کی فراہمی معمول پر لانے کے لیے 75 سے 90 گھنٹے درکار تھے۔



اس کے علاوہ واٹربورڈ کے عملے نے دیگر شکایات کا ازالہ بھی کیا ۔حب ڈیم سے کراچی کو پانی فراہم کرنے والی اب کے نال سے پانی کے بہاؤ کو بڑھانے کے لئے کینال میں پیدا ہونے والے خود رو پودوں جھاڑیوں کا آئی اور پتھروں کو نکال کر کنال کو صاف کر دیا گیا ہے۔
نیشنل ہائی وے ڈاٹ پی کلیم کے قریب پانی کی مین لائن میں پیدا ہونے والے بڑے رساو کا خاتمہ کیا گیا۔
لانڈھی کھڈی اسٹاپ کے قریب 33انچ قطر کی فراہمی آپ کی لائن سے لیے گئے آٹھویں غیر قانونی کنکشن منقطع کئے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں