34

ہاؤسنگ کے شعبے میں کراچی کی ترقی کو امیر ہانی مسلم جیسی شخصیات کے فیصلوں سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا

کم لاگت رہائشی منصوبوں کا اصل کریڈٹ آباد کو جاتا ہے ۔ محمد حنیف گوہر
ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز آباد کے سابق چیئرمین اور پاکستان کے مشہور بزنس مین گوہر گروپ آف کمپنیز کے چیئرمین محمد حنیف گوہر نے کہا ہے کہ ملک میں نئے رہائشی منصوبوں خصوصا ً50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی نیک نیتی سب پر عیاں ہے اور ان کی حکومت ملک میں رہائشی مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ نظر آتی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ پاکستان میں کم لاگت کے رہائشی منصوبوں کا اصل کریڈٹ آباد کو جاتا ہے جس نے تین چار سال پہلے اپنی تجاویز سابق وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کو پیش کی تھیں ۔ ماضی میں عمران خان دو مرتبہ آباد کے پروگرام میں آئے اور پچاس لاکھ گھروں کی بات کرتے رہے لیکن وہ ہمیشہ انیل مسرت کا نام لیتے تھے کہ وہ ان کے دوست ہیں اور بیرون ملک ہوتے ہیں۔



ان کے ذریعے وہ پاکستان میں رہائشی منصوبے بنانا چاہتے ہیں حکومت میں آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹاسک فورس بنائی جس میں 17 لوگوں کو لیا گیا لیکن آباد کو نظر انداز کیا گیا حالانکہ آباد کے ایک ہزار میمبران ملک بھر میں ہیں جو اس کام کو اچھی طرح کر سکتے ہیں ان کو ساتھ لے کر پرائیویٹ سیکٹر سے آباد کے ممبران اچھا رزلٹ دے سکتے ہیں وزیراعظم نے کہا تھا کہ بیروزگارنوجوان ہاؤسنگ سکیم کے ذریعے روزگار لیں گے ساٹھ ڈسٹرکٹس میں ڈیٹا جمع کرنے کی بات کی گئی کراچی کے ضلع بھی اس میں یقینا شامل ہونے چاہیے اگر آپ 50 لاکھ گھر بنانے جارہے ہیں اور سارے گھر آپ دیگر شہروں میں بنائیں گے اور کراچی کو نظر انداز کریں گے تو یہ کراچی کے ساتھ زیادتی ہوگی کراچی میں بھی نئے گھروں کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کسی اور جگہ …انہوں نے کہا کہ کراچی کے سرمایہ کار ماضی میں یہاں کے خراب امن و امان کی وجہ سے دوسرے ملکوں میں چلے گئے تھے جب حالات بہتر ہوئے تو واپس سرمایہ کاری کرنے آئے تو حکومت نے 22 سڑکوں کو کمرشل قرار دیا تھا باہر سے آنے والوں نے ان سڑکوں پر پراپرٹی خریدی اپنی ساری جمع پونجی یہاں لگا دی تاکہ یہاں کمرشل ہاؤسنگ پروجیکٹ بنیں گے لیکن راتوں رات آرڈرز آ گئے یہاں پابندی لگا دی گئی ہے اب آپ سوچیں ان حالات میں انویسٹر پر کیا بیتے گی جنہوں نے ساری زندگی کی جمع پونجی ان پروجیکٹس پر لگائی تھی جہاں عدالتی احکامات کے ذریعے پابندی لگا دی گئی ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہاوسنگ کے شعبے میں ہونے والی ترقی کو امیر ہانی مسلم جیسی شخصیات کے فیصلوں نے بہت نقصان پہنچایا پہلے تو مکمل پابندی لگ گئی پھر این او سی نہیں دیے جا رہے تھے۔



جب سپریم کورٹ سے چھ منزلہ عمارتوں کی اجازت ملی تو اس کے بعد کے الیکٹر ک اور سوئی گیس نے این او سی جاری کر دیے لیکن واٹربورڈ یہ کہہ کر ا ین ا و سی جا ر ی نہیں کر رہا تھا کہ پانی کی کمی ہے اس وقت یہ بات سامنے آئی تھی کہ امیر ہانی مسلم نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو ملا کر تائید کی تھی کہ آپ این او سی جاری نہ کریں ہماری اطلاعات کے مطابق پاکستان میں پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے یو اے ای سے بات چیت ہو گئی ہے اور پانی میٹھا بنانے کے پروجیکٹ لگنے سے آنے والے سالوں میں پانی کی قلت کا مسئلہ حل ہوجائے گا پانچ سال میں یہ معاملہ بہتر ہو جائے گا نئے ہاؤسنگ پروجیکٹ کو بھی بننے میں پانچ سال لگ جاتے ہیں کراچی میں 300 منصوبوں میں لاکھوں گھر بننے ہیں ایک طرف عمران خان چاہتے ہیں ملک میں پچاس لاکھ گھر بنانے دوسری طرف سپریم کورٹ نے بھی چھ منزلہ منصوبوں کی اجازت دے دی تھی اس کے باوجود این او سی جاری کرنے میں واٹر بورڈ نے تاخیر کی اور مزید نقصان ہوا وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت کو کراچی میں ہاوسنگ کے شعبے میں ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔



کراچی کے عوام نے پی ٹی آئی کی حکومت کو ایم این اے اور ایم پی اے کی 24 سے زیادہ سیٹیں جلائی ہیں اگر اس کے بدلے میں وہ کراچی میں ہاوسنگ کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا نہیں کرے گی تو یہ پی ٹی آئی کی کراچی کے عوام کے ساتھ دوستی اور ہمدردی نہیں ہوگی بحریہ ٹاؤن میں بھی پابندیاں لگائی گئی تھی اور وہاں پرویز زیادتی ہوئی تھی کیونکہ بحریہ نے لاکھوں لوگوں کو روزگار دیا اور وہاں بہت بڑی تعداد میں مکانات اس لیے بنائے گئے ان سے لوگوں کو روزگار ملا لوگوں کی سرمایہ کاری ہوئی جب یہ سب کچھ بن رہا تھا تو کیا ادارے سو رہے تھے بحریہ کے لئے یقینا سافٹ کارنر ہونا چاہیے تھا اور بحریہ کو جو عدالتی ریلیف ملا ہے اس انڈسٹری میں اعتماد آئے گا ۔سب کو مل کر کراچی سمیت پورے ملک میں ہاوسنگ کے شعبے کی ترقی اور بہتری کے لیے سوچنا چاہیے کیونکہ یہ وہ شعبہ ہے جو لوگوں کو روزگار تیزی سے دے سکتا ہے اور اس میں کئی انڈسٹریوں کا روزگار ملتا ہے ۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں