47

پیپلزپارٹی نے روزانہ کی بنیاد پر احتجاج کرنے کا اعلان کردیا

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر اوروزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن ملک میں مہنگائی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ، 2019-20 کے عوام دشمن بجٹ اور سند صوبے میں نیب گردی کے خلاف کے خلاف کراچی کے تمام سٹی ایریاز اور ضلع کی سطح پر روزانہ کی بنیاد پر احتجاجی مظاہرے کرے گی جبکہ 23 جون کو پیپلز چورنگی تا کراچی پریس کلب تک احتجاجی ریلی اور جولائی میں کراچی میں احتجاجی جلسہ عام کا انعقاد کررہی ہے، جس سے پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر پارٹی قائدین خطاب کریں گے۔ نیب اس وقت حکومت کا آلہ کار بنی ہوئی ہے اور وہ حکومتی ایماء پر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ اپوزیشن کی تمام جماعتیں جلد ہی عوامی رابطہ مہم کا آغاز کریں گی، جس کے بعد عمران نیازی اور ان کے حواری اس ملک سے بھاگنے میں ہی اپنی عافیت محسوس کریں گے۔



ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری جاوید ناگوری، سردار خان، آصف خان، صوبائی وزیر مرتضیٰ بلوچ، لیاقت آسکانی، ظفر صدیقی، خلیل ہوت، شمشاد قریشی اور دیگر کراچی ڈویژن کے رہنماء بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت ملک میں مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ ادویات، پیٹرول، ڈیزل، بجلی اور گیس کی نرخوں میں اضافے نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ وفاقی بجٹ میں عوام سے جینے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے اور عوام کی روزمرہ کی ضروریات کی اشیاء جس میں چینی، گھی، تیل، سبزیاں، گوشت، مرغی اور مچھلی حتیٰ کہ دالیں تک بھی عوام کی پہنچ سے دور کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہ ہم حالیہ وفاقی بجٹ کو عوام دشمن بجٹ قرار دے چکیں ہیں اور ہم کسی صورت اس بجٹ کو منظور نہیں ہونے دیں گے۔



سعید غنی نے کہاکہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی ہدایات پر ملک بھر میں موجودہ مہنگائی اور حکومتی معاشی دہشتگردی کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کردئیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن نے بھی تمام سٹی ایریاز، ضلعی سطح اور ڈویژن کی سطح پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں کراچی ڈویژن اور ضلعی ڈویژن کے ممبران شامل ہیں۔ اس سلسلے میں گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کراچی کے 44 سٹی ایریاز اور 6 اضلاع میں یعنی 50 روز تک روزانہ ایک مظاہرہ کیا جائے گا جبکہ 23 جون بروز اتوار سہ پہر 3.00 بجے کو پیپلز سیکرٹریٹ تا کراچی پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ اس کے علاوہ جولائی میں کراچی کے کسی بھی ضلع میں پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے تحت احتجاجی جلسہ منعقد کیا جائے گا، جس سے پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور رہنماء خطاب کریں گے۔



سعید غنی نے کہا کہ گذشہ 2 سے 3 برس کے درمیان کراچی میں جتنی بھی سیاسی جماعتوں نے جلسہ منعقد کئے ہیں ہمیشہ پیپلز پارٹی کے جلوسوں نے انہیں مات دی ہے اور اب بھی میں ان تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ جولائی میں ہمارے جلسہ سے قبل یا بعد اپنے جلسے رکھ لیں انشاء اللہ کراچی کے غیور عوام ثابت کردیں گے کہ اب کراچی صرف اور صرف بھٹو اور شہید بی بی اور اس کے بیٹے اور ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو کا ہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ یہ فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے کہ وفاق کی اپوزیشن کی تمام جماعتیں مل کر عوامی رابطہ مہم کا آغاز کب کررہی ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چند ماہ قبل ہی اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ہم رمضان کے بعد سے مہنگائی اور معاشی قتل عام کے خلاف اپنی تحریک کا آغاز کردیں گے۔



ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن کی جماعتیں آپس میں ضم نہیں ہورہی ہیں اور وہ اپنے اپنے نظریہ کے تحت سیاست کریں گی لیکن عوامی رابطہ مہم مہنگائی، موجودہ حکومت کی کٹھ پتلی نیب اور معاشی دہشتگردی کے خلاف ہے۔ کراچی میں پانی کے بحران کے سوال پر انہوں نے کہا کہ کراچی میں پانی کی طلب اور رسد میں نصف سے زائد کی کمی ہے لیکن ہماری کوشش ہے کہ ہم ترسیلی نظام کے تحت شہر کے تمام علاقوں میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنائیں لیکن افسوس گذشتہ 20 سے 25 دنوں سے کراچی میں تحریک انصاف کی بی ٹیم کا کردار ادا کرنے والی ایم کیو ایم جو کہ ایم مافیا کے روپ میں واٹر بورڈ سمیت دیگر شہری اداروں کیں موجود ہے وہ ایک سازش کے تحت وال ٹیمپرنگ کرکے اور پانی کے ترسیلی نظام میں رکاوٹیں پیدا کرکے عوام کو سڑکوں پر لانے کی سازش کررہی ہے۔



انہوں نے کہا کہ صرف گذشتہ 3 روز میں بجلی کے بریک ڈاؤن کے باعث دو بار 72 انچ کی پانی کی لائن دو بار پھٹ گئی ہے اور اس کے باعث بھی پانی کی ترسیلی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ہم آئین، جمہوریت، 18 ویں ترمین، ملٹری کورٹ، انسانی اور عوامی حقوق کی جدوجہد سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اب تک پی ٹیم آئی میں ہمارے جو بھی ارکان شامل ہوئے ہیں وہ صرف اور صرف لانڈری میں دھلنے کے لئے اور اپنے آپ کو نیب کے کیسوں سے بچانے کے لئے شامل ہوئے ہیں اس کے علاوہ کوئی ایک بھی ایماندار ان میں شامل نہیں ہوا ہے اور ہمارے جن جن لوگوں پر نیب نے جھوٹے کیسز بنائیں ہیں وہ آج بھی ان کا مقابلہ کررہے ہیں اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کئے ہوئے ہیں البتہ سندھ میں تحریک انصاف سمیت دیگر اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے متعدد ارکان ہم سے رابطے میں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں