کراچی سرکلر ریلوے کے متاثرین کا معاملہ ایک مرتبہ پھر عدالت میں اٹھایا جائے گا، جسٹس ماجدہ رضوی کی یقین دہانی

سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کی چیئرپرسن جسٹس ریٹائرڈ ماجدہ رضو ی نے کراچی سرکلر ریلوے Circular Railwayکے غریب متاثرہ خاندانوں کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ میں اٹھایا جائے گا اور ان کی پیروی وہ خود کریں گی اور عدالت سے درخواست کریں گی کہ متاثرہ غریب لوگوں کو سر چھپانے کی دوسری جگہ کا بندوبست کرنے کے لئے وقت دیا جائے تاکہ حکومت سندھ ان کے لئے گھر تعمیر کرکے انہیں یہاں سے منتقل کر سکے ۔



یاد رہے کہ اس کراچی سرکلر ریلوے کے متاثرہ خاندانوں کا موقف ہے کہ وہ یہاں کہیں فرصت سے زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے پاس اتنے پیسے اور اتنا سرمایہ نہیں ہے اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ کسی دوسری جگہ پر فوری طور پر سرچھپانے کا بندوبست کرسکیں لہذا انہیں وقت دیا جائے۔ دوسری جانب نے پاکستان ریلوے کا موقف ہے کہ یہ متاثرین دراصل قبضہ گروپ ہیں اور انہوں نے ریلوے ٹریک پر قبضہ کر رکھا ہے اور انہیں عدالت کے حکم پر ریلوے ٹریک سے ہٹانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی عمل میں آ سکے ۔یاد رہے کہ جاپان کی کمپنی نے سروے کرنے کے بعد یہ کہا تھا کہ کراچی سرکلرریلوے اب فزیکل نہیں رہا اور نئے سرے سے ماس ٹرانزٹ منصوبہ بنانا پڑے گا لیکن سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کو بحال کیا جائے۔



لہذا انتظامیہ سرکلر ریلوے کے ٹریک پر بیٹھنے والے خاندانوں اور اسکے 50فٹ دونوں طرف موجود جوئوں اور تعمیرات اور تجاوزات کو گرانے میں مصروف ہے اور بے شمار خاندان کھلے آسمان کے نیچے آگئے ہیں اور شدید گرمی کے موسم میں بھی جارو مددگار پڑے ہوئے ہیں انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن جسٹس ریٹائرڈ مائزہ رضوی نے ان خاندانوں سے ملاقات کی ہے اور کئی مرتبہ وہاں کا دورہ کر چکی ہیں اور مسلسل رابطے میں ہیں اور انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پریشان نہ ہو فکر نہ کریں ان کا معاملہ ایک مرتبہ پھر عدالت کے سامنے اٹھایا جائے گا ۔اور وہ خود عدالت سے درخواست کریں گی کہ متاثرین کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے لئے کچھ وقت دیا جائے تاکہ حکومت اور یہ لوگ خود اپنا بندوبست کرنے کے اقدامات کر سکیں ۔