لیڈر اپنا مقام خود بناتا ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کی کانفرنس کے موقع پر عمران خان کو صدارتی محل جب کہ مودی کو ہوٹل میں ٹھہرایا گیا

بے شک اللہ جسے چاہے عزت دے ۔پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر کر غیز ستان کے صدارتی محل میں ٹھہرایا گیا تھا جب کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو محل سے تیس کلومیٹر دور ایک ہوٹل میں ٹھہرایا گیا بھارت میں اس معاملے پر کافی واویلا ہوا ۔پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے تنظیم کے اجلاس کے دوران روسی صدر پیوٹن اور چینی صدر سمیت تمام رہنماؤں کے ساتھ صدارتی محل میں کرتے ہوئے اہم امور پر گفتگو کی۔
بھارتی میڈیا نے بھی یہ بات خاص طور پر نوٹ کی اور ایک بھارتی صحافی سے چپ نہ رہا جاسکا اور وہ بول پڑا کہ پاکستان کے وزیراعظم کو صدارتی محل دی آ رک . میں ٹھہرایا گیا ہوں جب کہ بھارت کے وزیراعظم سے تیس کلومیٹر دور…آخر ایسا کیوں کیا گیا ۔بھارتی وزیر اعظم مودی کو اورین ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔



تنظیم کا اجلاس شروع ہوا تو تمام علمی رہنمائی کے ساتھ ہال میں داخل ہوئے تھے لیکن عمران خان اور مودی نے غصے کو نظر انداز کیا اور مصافحہ نہیں کیا اجلاس کے آخری مراحل میں دونوں کی ملاقات ہوئی اور پھر بات چیت ہوئی لیکن شروع میں دونوں ایک دوسرے کے لئے اجنبی بنے رہے ۔البتہ عمران خان کو عالمی رہنماؤں کے بالکل درمیان میں جب کہ بھارتی وزیراعظم مودی کو بالکل ایک کونے میں کھڑا رکھا گیا ایک موقع پر جب تمام عالمی رہنما اپنی نشستوں پر کھڑے تھے عمران خان اپنی نشست پر بیٹھ گئے جب ان کا نام پکارا گیا تب وہ اپنی نشست پر کھڑے ہوئے تعظیم سے دل پر ہاتھ رکھا اور پھر دوبارہ بیٹھ گئے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر کافی بحث ہوئی اور یہ سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ عمران خان کو پروٹوکول کا علم نہیں تھا اس سے پہلے سعودی بادشاہ کے ساتھ بھی ان کے رویے پر سوشل میڈیا میں جن کی گئی تھی کہ انہوں نے بادشاہ کے پروٹوکول کا خیال نہیں رکھا اور ان سے بات کرتے کرتے اچانک وہاں سے چلے گئے تھے اور اب شنگھائی تنظیم میں بھی جب سب حکمران اور رہنما کرے سے عمران خان اپنی نشست پر بیٹھے رہے اسے پروٹوکول کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور اس پر تنقید بھی ہوئی ہے لیکن عمران خان کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر عمران خان کی حمایت میں ہوں دلائل دیتے ہوئے یہ بات کی ہے کہ عام لوگوں کے لیے پروٹوکول ہوتا ہے لیکن لیڈر خود اپنا پروٹوکول دیا کرتا ہے لیڈر ہی اپنا مقام خود بناتا ہے عمران خان اس پورے اجلاس میں بالکل منفرد اور جد ا نظر آئے ۔یہی انداز ان کو دوسروں سے ممتاز بناتا ہے کہ وہ پرانی رسموں کی نہ تو پرواہ کرتے ہیں نہ وہ اپنے آپ کو کسی رسم و رواج کا پابند سمجھتے ہیں وہ کھلے ذہن کے آدمی ہیں اور عوامی انداز میں زندگی گزارتے آئے ہیں۔



ایک درخت سوشل میڈیا پر پاکستان کے وزیر اعظم کی حمایت اور مخالفت میں بحث ہو رہی ہے دوسری طرف بھارتی میڈیا نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے کرسی نہ چھوڑنے کے رویہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم کو صرف اور صرف آپ سے پیار ہے کیونکہ بشکیک کی بیٹھک میں جب تمام ممالک کے سربراہان اور میں داخل ہو رہے تھے اور پہلے سے موجود سربراہان ایک دوسرے کے احترام میں اپنی نشستوں پر کھڑے تھے تب پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کھڑے ہونے کی بجائے بیٹھے رہنے کو ترجیح دی اور اپنی کرسی پر براجمان ہوگئے بھارتی ٹی وی چینلز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان عالمی کانفرنس میں شرکت کے آداب تک نہیں آتے یہی وجہ ہے کہ وہ مودی سمیت دیگر ملکوں کے سربراہان کی آمد پر اپنی نشست پر بیٹھے رہے اور کھڑے تک نہیں ہوئے۔



ملک کے اندر بھی سیاسی مخالفین کی جانب سے وزیر اعظم اور پی ٹی آئی پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے حیرت ہے عمران خان شنگھائی تقریب کو پی ٹی آئی کی تقریب سمجھ رہے تھے وزارت خارجہ نے وزیراعظم کو آداب نہیں سکھائے سعید غنی نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے عالمی فورم پر پاکستان کا تماشہ بنایا تھا عقل بازار میں بکتی ہوتی تو عمران خان کو ضرور بھیجتا سعید غنی نے مزید کہا کہ وزیر خارجہ کو ماضی میں ان کی نالائقی پر وزارت سے ہٹا یا گیا تھا۔