جہانگیر ترین کے بغیر عمران خان کتنے دن حکومت چلا سکتے ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ اس بات کی مختلف گورننس کی جانب سے بھرپور کوشش کی جاچکی ہے کہ کسی بھی طرح جہانگیر ترین اور عمران خان کے درمیان اختلافات اور فاصلے پیدا کیے جا سکیں اور انہیں حکومتی معاملات میں ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھا جائے لیکن اب تک ہونے والی ایسی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں وزیراعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کا تعلق دوستی اور اعتماد کا رشتہ بڑا پختہ اور گہرا ہے اس لیے دونوں کے درمیان اختلافات اور فاصلے پیدا کرنے کی کوششیں کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔



اس میں کوئی شک نہیں کہ جہانگیر ترین اگر کوششیں نہ کرتے اور آزاد ارکان کو حکومت کی حمایت پر راضی کرنے کے لیے اپنا کردار ادا نہ کرتے تو شاید یہ حکومت وجود میں نہ آتی یا پہلے دن ہی گزر جاتی سیاسی مخالفین تو ایک دن گن رہے ہیں اور ان کی نظریں ایک ایک ممبر کی حمایت اور مخالفت پر لگی ہوئی ہیں سپریم کورٹ سے جب جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا گیا تو پارٹی کے اندر بھی کچھ لوگ بے حد خوش ہوئے تھے ان کا خیال تھا کہ اب جہانگیرترین کا پتہ کٹ جائے گا اور جہانگیر ترین کی عمران خان کے قریب نہیں آ سکیں گے لیکن ایسا نہیں ہوسکا تمام تر تنقید مخالفت اور اعتراضات کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے جہانگیر ترین پر اعتماد برقرار رکھا اور ان کو سرکاری اجلاسوں میں مشاورت کے لیے بلاتے رہے۔



یہاں تک کہ انہیں کابینہ کے اجلاس میں بھی بٹھایا گیا اور پھر انہیں اہم ترین ٹاسک فورس کا سربراہ بنا کر مالی امور ان کے حوالے کر دیئے گئے جہاں ان کی ہدایات اور رہنمائی میں حکومتی فیصلے ہوتے ہیں بجٹ سازی میں اور ٹیکسوں کی شرح میں کمی یا زیادتی میں جہانگیرترین کا عمل دخل رہا ہے ۔پارٹی ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور جہانگیر ترین ایک دوسرے سے زیادہ دن دور نہیں رہ سکتے دونوں مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور مختلف پارٹی اور حکومتی امور پر مشاورت کا سلسلہ جاری رہتا ہے جہانگیر ترین عمران خان کے انتہائی بااعتماد ساتھی اور انتہائی سنجیدہ مشورے دینے والے شخص ہیں لہذا وزیراعظم ان کی بات کو نظرانداز نہیں کرتے بلکہ ان کے مشوروں پر عمل کرتے ہیں جس موقع پر جہانگیر ترین کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوتے وہاں موجود دیگر شخصیات اپنی عیسائیت کو بڑھانے اور پوزیشن کو نمایاں کرنے کے لیے عمران خان کے سامنے مختلف تجاویز اور مشورے رکھتی ہیں بعض مرتبہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ عمران خان نے وہ مشورے مان لیے ہیں جن کو جہانگیر ترین نے ماضی میں رد کیا تھا لیکن آگے جاکر پتہ چلتا ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین ایک ہی پیج پر ہیں۔



وزیراعظم عمران خان نے کون سے خطاب کرنے کے بعد اپنے قریبی ساتھیوں وزرا اور پارٹی رہنماؤں کو بتایا ہے کہ اب معیشت ٹیک آف کرنے کا وقت آگیا ہے ہم مشکل دور سے گزر آئے ہیں ۔جو کٹھن سفر تھا وہ طے کرلیا ہے اب آگے آسانیاں آنے والی ہیں بنی گالہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم نے مشیر خزانہ فی شیخ وفاقی وزیر عمر ایوب مراد سعید اور چیئرمین ایپی آتشبازی کی موجودگی میں دیگر شخصیات کو آنے والے دنوں کی بہتری کے حوالے سے نوید سنائی اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید جہانگیرترین فردوس عاشق اعوان اور دیگر رہنما بھی موجود تھے شبر زیدی اور آفیس شیخ نے بجٹ کی اہم باتوں کے حوالے سے حکومتی اہداف بتائے دنیا کی ترین نے اجلاس میں زراعت پالیسی سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی اس موقع پر وزیراعظم نے بتایا کہ تحقیقاتی کمیشن کا مقصد چوبیس ہزار ارب قرضوں کا حساب ہے اور تحقیقاتی کمیشن جلد حساب لے گا اجلاس میں بتایا گیا کہ اب معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے کیونکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 30 فیصد کمی آئی ہے وزیراعظم نے بتایا کہ احساس پروگرام کا بجٹ سو ارب سے بڑھا کر 191 آف تک لے گئے ہیں کیونکہ عوام تو غربت کی لکیر سے اوپر لانا پی ٹی آئی کی اولین ترجیح ہے۔



وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے وزارت اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ قرضہ جات کے حوالے سے مجھے ویزا تحقیقاتی کمیشن جواب دہی کے لیے کرپشن کے کیس میں کسی کو بھی طلب کر سکے گا ان کا کہنا ہے کہ بلاول اور مریم کی ملاقات اس لئے ہو رہی ہے کہ دونوں کے باپ کرپشن کی وجہ سے جیل میں ہیں اور دونوں نوجوان لیڈرز کے لیے اب میں نیک خواہشات کا اظہار ہی کر سکتی ہو دراصل وہ اس زرداری اور نواز شریف کے لئے مرضی کا فیصلہ حاصل کرنے کے لیے اداروں پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں لیکن حکومت کسی دباؤ میں نہیں آئے گی عمران خان نے کرپشن کے خلاف ایکشن کے حوالے سے قوم سے جو وعدے کئے انہیں پورا کردیا آدھے لٹیرے اور کرپٹ عناصر جیل جا چکے ہیں باقی لوٹی ہوئی دولت کو بچانے کے لئے ملک سے فرار ہیں ۔اپوزیشن کی بازی جماعتوں کی قیادت اپنے غلط کاموں کی وجہ سے سلاخوں کے پیچھے ہے ۔