کیا فواد چوہدری، عمران خان سے انتقام لے رہے ہیں؟

وزیراعظم عمران خان صحافی سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنے کے واقعے پر وفاقی وزیر فواد چوہدری سے ناراض
وزیراعظم عمران خان نے صحافی سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنے کے واقعے پر وفاقی وزیر فواد چوہدری پر برہمی اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اس واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے۔
یاد رہے کہ فیصل آباد میں شادی کی ایک تقریب میں وفاقی وزیر فواد چوہدری نے سینئر صحافی سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارا اور انہیں دھمکیاں دیں دیگر صحافیوں نے اس موقع پر سمیع ابراہیم کا ساتھ دیا اور انہیں سہارا دے کر کھڑا کیا نیٹ کے وفاقی وزیر فواد چوہدری اپنے گارڈز کے حصار میں تھے ۔فواد چوہدری اور صحافی سمیع ابراہیم کے درمیان کافی دنوں سے لفظی جنگ چل رہی تھی جب دونوں ایک تقریب میں اکٹھے ہوئے تو وہاں یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آگیا۔



شادی کی تقریب میں کہیں نام کو سیاستدان اہم شخصیات اور صحافیوں میں رؤف کلاسرہ ارشد شریف اور فرخ حبیب ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن جیسی شخصیات بھی موجود تھیں سمیع ابراہیم کو اپنے پیچھے شور سنائی دیا انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو فواد چوہدری ان کی جانب آ رہے تھے اور دھمکی آمیز لہجے میں تیری باتیں ہیں ان کو تھپڑ مارا جس سے وہ لڑکھڑا گئے محمد جودہ صافی نے سہارا دے کر گرنے سے بچا لیا فواد چوہدری نے اس میں ابراہیم کو سیکس کر دوں گا جیسی دھمکیاں بھی دی ۔بعد ازاں اس میں ابراہیم نے مقامی تھانے میں فواد چوہدری کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دی لیکن پولیس نے وفاقی وزیر کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ تھپڑ مارنے پر کونسا مقدمہ بنتا ہے ۔وفاقی وزیر کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو دو اداروں میں تصادم سمجھنے کی بجائے دو اشخاص کے درمیان تنازع تصور کرنا چاہیے۔




سینئر اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اس معاملے کا صرف نوٹس لیا ہے۔
سینئر صحافی عارف حمید بھٹی نے وفاقی وزیر فواد چوہدری کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔
کراچی پریس کلب سمیت ملک کے مختلف شہروں میں سمیع ابراہیم کی حمایت اور وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی شروع ہوگئے کراچی پریس کلب پر صحافیوں نے بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے وہ چوہدری کو عہدے سے برطرف کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا اور صحافی سمیع ابراہیم کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا۔



ایک ایسے وقت میں جب کہ مخالف سیاسی جماعتیں عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر چکی ہیں اور وہاں بھی ملک بھر میں ججوں کے خلاف بھیجے گئے ریفرنس کی وجہ سے احتجاج کی کال دے چکے ہیں ان حالات میں وفاقی وزیر کی جانب سے صحافیوں کو اپنے خلاف کرنے اور حکومت کے لئے نئی مشکلات کھڑی کرنا حیران کن ہے ۔وفاقی وزیر فواد چوہدری اس سے پہلے عید کا چاند دیکھنے کے معاملے پر علماء کرام کو بھی حکومت کے خلاف کر چکے ہیں ۔سیاسی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری پی ٹی آئی کی حکومت کی حمایت میں کام کر رہے ہیں یا خلاف؟
کیا فواد چوہدری خود کو وزارت اطلاعات سے ہٹائے جانے کا انتقام تو نہیں لے رہے؟
کیا وہ جان بوجھ کر ایسے کام کر رہے ہیں جن سے حکومت کے لیے مسائل پیدا ہو یا انجانے میں ان سے ایسے کام ہو رہے ہیں؟