لاڑکانہ میں قتل ہونے والے باجوڑ کے 3 محنت کشوں کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات بھی سندھ حکومت برداشت کرے گی. وزیراعلیٰ سندھ

کراچی (24 فروری 2019) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ 13 فروری کو لاڑکانہ میں قتل ہونے والے باجوڑ کے 3 محنت کشوں کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات بھی سندھ حکومت برداشت کرے گی۔ انہوں نے یہ بات آج باجوڑ ایجنسی کے معززین کے ایک وفد سے باتیں کرتے ہوئے کہی جنہوں نے اپنے سربراہ سینیٹر شاہی سید کی سربراہی میں آج وزیر اعلیٰ ہائوس میں ان سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں صوبائی وزیر سعید غنی، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب، وزیراعلیٰ سندھ کے اسپیشل اسسٹنٹ وقار مہدی اور راشد ربانی نے شرکت کی جبکہ باجوڑ کے وفد میں اے این پی کے صلاح الدین ، پی پی پی کے اورنگزنیب ، جے یو آئی (ایف) کےسعید بادشاہ ،جماعت اسلامی کے عبدالمجید ، پی ایم ایل (ن) انورالحق ،پی پی پی کے امیر خان اور اے این پی کے گل افضل شامل تھے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ لاڑکانہ میں باجوڑ کے تین محنت کشوں کا قتل لسانی فسادات اور صوبے کا امن خراب کرنے کی ایک سازش ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے پختون بھائیوں بالخصوص شاہی سید کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس معاملے میں بر وقت مداخلت کرتے ہوئے اس سازش کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ شہیدوں کا شہر ہے اور ان کی نظر میں لاڑکانہ میں باجوڑ کے قتل کیے گئے تینوں محنت کش بھی شہید ہیں ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ پی پی پی کی قیادت آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو کو بھی اس واقعے سے گہرا دکھ پہنچا ہے اور انہوں نے انہیں مجرموں کی فوری گرفتاری کی ہدایت بھی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ کے ڈی آئی جی پنجاب سے ہیں، ایس ایس پی کے پی کے سے ہیں اور ڈی سی سرائیکی یعنی پنجاب سے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم بھائی چارگی ، قومی یکجہتی اور میرٹ پر یقین رکھتے ہیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہوں نے ڈی آئی جی لاڑکانہ جاوید اکبر (جن کا تبادلہ کردیاگیا ہے) اور ایس ایس پی مسعود بنگش کو بلایا ہے تاکہ وہ وفد کو بریف کرسکیں ۔ پولیس افسران نے آئے ہوئے وفد کو بتایا کہ انہوں نے 28 مشکوک افراد کو گرفتار کیا ہے اور اس قتل میں ملوث گروپ کی نشاندہی ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مجرم انڈر گرائونڈ چلے گئے ہیں مگر ان کے روابط پاکستان سے باہر بھی تھے جنہیں ٹریس کیا گیا ہے اور انہیں بہت جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔ سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ سندھ پختونوں کا دوسرا گھر ہے اور سندھی ہمارے بھائیوں کی طرح ہیں ۔ سندھ کے لوگوں نے ہمیشہ ہمیں عزت دی ہے اور بوقت ضرورت ہمارے ساتھ تعاون اور مدد کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اور دیگر قبائلی افراد نے اس کو بطور ایک دہشتگردی کے واقعہ کے طورپر لیا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ وہ لاڑکانہ میں قتل ہونے والے محنت کشوں کے خاندانوں کو معاوضہ دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ معاوضہ زندگی کا نعم البدل تو نہیں ، زندگی ایک قیمتی چیز ہے مگر اس سے متاثرہ خاندانوں کی مدد ہوسکے گی کیونکہ ان کے کمائی کرنے والے افراد نہیں رہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت قتل ہونے والے محنت کشوں کے بچوں کے تعلیمی اخراجات بھی برداشت کرے گی۔ ملاقات کے لیے آنے والے وفد نے وزیراعلیٰ سندھ کا فوری کارروائی اور باجوڑ میں محنت کشوں کے جسد خاکی بھیجنے کے حوالے سے فوری کارروائی کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے صوبائی وزیر سید ناصر شاہ کو تعزیت کے لیے بھیجنے پر بھی ان کا شکریہ ادا کی

اپنا تبصرہ بھیجیں