اہم وفاقی وزراء سمیت طاقتور حکومتی شخصیات کی گرفتاری کا امکان

طاقتور حلقوں سے رابطے میں رہنے والے سینئر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی صفوں میں جلد بڑی گرفتاریاں ہونے والی ہیں عوام بڑی بریکنگ نیوز کے لئے تیار رہیں اب روزانہ کی بنیاد پر بلکہ صبح دوپہر شام کی بنیاد پر گرفتاریاں ہوتی رہیں گی اہم حکومتی وزراء سمیت بااثر اور طاقتور سیاسی شخصیات سلاخوں کے پیچھے جائیگی نیب اور دیگر اداروں کی تیاریاں مکمل ہیں مزید گرفتاریوں سے ملک میں سیاسی توازن قائم رہے گا۔



صرف اپوزیشن جماعتوں کی اہم شخصیات کی گرفتاریاں نہیں ہونگی بلکہ حکومتی اہم شخصیات بھی پکڑی جائیں گی سینئر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری اور فریال تالپور کی گرفتاریوں کے بعد یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے سندھ پنجاب کے پی کے بلوچستان سمیت ملک بھر میں اہم سیاسی اور غیر سیاسی شخصیات جلد گرفتار ہوگی جن میں بعض طاقتور وفاقی وزرا اور اہم حکومتی شخصیات کے نام نمایاں ہیں کچھ شخصیات کو عدالتوں نے ضمانت دے رکھی ہے جیسے ہی ان کی ضمانت مسترد ہوگی یا حفاظتی ضمانت کی مدت پوری ہوگی انہیں حراست میں لے لیا جائے گا کچھ شخصیات کو بیرون ملک سے پکڑ کر پاکستان لانے کی کوششیں بھی تیز کردی گئی ہیں۔



نیب نے پنجاب کے صوبائی وزیر سبطین خان نیازی کو پہلے ہی گرفتار کر لیا ہے ان پر 2007 میں چنیوٹ میں ٹھیک ہے دینے کا الزام تھا جب وہ پرویز الہی کی کابینہ کے وزیر معدنیات تھے ۔سیاسی مبصرین نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ایک اور یو ٹرن کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ نون کی حکومت نے جب علی جہانگیر صدیقی کو امریکہ میں پاکستان کا سفیر تعینات کیا تو عمران خان اور پی ٹی آئی نے اعتراض کر کے حکومت میں آنے کے بعد انہیں وہاں سے ہٹا دیا تھا لیکن اب خود وزیراعظم عمران خان کی منظوری سے علی جہانگیر صدیقی کو سفیر برائے سرمایہ کاری کی اہم ذمہ داریاں سونپ دی گئیں ہیں اور نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا گیا ہے ۔