139

ایف بی آر کی نا اہلی اور 20 سالوں کا کم ترین ریونیو گروتھ ریٹ

تحریر خورشید علی شیخ

ملک میں سیاست کے طلوع و غروب ہوتے مناظر عوام کی عقل و فہم سے بالا تر نظر آتے ہیں. سیاسی بساط کی بازی گری عوام کو ششدر کئے ہوئے ہے تو دوسری طرف موجودہ سیاسی حکومت اپنے بلند و بانگ دعووں کے بوجھ تلے بری طرح کچلی نظر آتی ہے. عوام الناس مہنگائی کے شتر بے مہار جن کے ہاتھوں بے بس اور لب گور ہیں اور سکتے کی کیفیت میں ہیں ہر ماہ دو ماہ بعد نئے منی بجٹ کی آمد نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے. اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں روز بروز آسمان کو چھو رہی ہیں ایک غریب و متوسط طبقے کے لئے ماہانہ بجٹ بنانا ایک کار دارد نظر آتا ہے. پانی، بجلی، گیس، اسکول فیس، گھر کا کرایہ اور کنوینس غرض ہر شہ کے نرخوں میں 200 سے 300 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے. یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے کہ کیا موجودہ حکومت بالکل نااہل ہے یا ان کے درمیان ایسے عناصر در آئے ہیں جو انہیں مثبت سمت میں نہیں بڑھنے دے رہے. مہنگائی کا طوفان اپنی جڑیں مضبوط کرتا جارہا ہے اور حکومت کی نااہلی پر اپنی مہر ثبت کیئے جا رہا ہے تو کچھ بعید نہیں کہ عوام سڑکوں پر نکل آئیں اور ملک خانہ جنگی کا شکار ہو جائے.
افراط زر بھی غریب آدمی کے لئے سوہان روح بن چکا ہے. افراط زر کا تناسب جنوری 2019 میں بڑھ کر 17.19فیصد ہو چکا ہے جو کہ گذشتہ ماہ 16.17 فیصد تھا. یہ ستمبر 2014 کے بعد پاکستان کی اقتصادی تاریخ کا ایک ریکارڈ اضافہ ہے اور اقتصادی ماہرین یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ موجودہ حکومت کے معیشت دان معاشی حساب کتاب میں طفل مکتب ہیں اور ان کے ناقص اقتصادی پالیسیوں کا خمیازہ غریب عوام بھگت رہے ہیں. حکومت میں آتے ہی موجودہ حکومت نے ایف بی آر کے محصولات کی وصولی کے ہدف کو 4000 بلین سے دوگنا کرکے آئندہ پانچ سالوں کیلئے 8000 بلین روپے کردیا ہے. اس ہدف کو کامیابی تک پہنچانے کیلئے محصولات کی وصولی کی شرح اوسط 20 فیصد سالانہ مقرر کی گئی ہے. مگر پہلے سال ہی یہ شرح ہدف سے کم مقرر کی گئی یعنی 14 فیصد رکھی گئی. مگر حسب توقع موجودہ ناتجربہ کار حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ایک نااہل ٹیم کا انتخاب کیا جو ہدف کا صرف 3 فیصد محصول اب تک وصول کر پائی ہے. یعنی فی الوقت یہ کمی گھٹ کر ہدف سے صرف 200 بلین روپے ہے جو کہ بڑھ کر سال رواں کے آخر میں 500 بلین روپے ہوجائے گی. واضح رہے کہ یہ 3 فیصد کا ہدف افراط زر کے تناسب سے بھی بہت کم ہے یعنی منفی سطح پر ہے. یہ شرح گذشتہ 20 سالوں میں کم ترین ہے جو کہ اس چارٹ میں دیکھا جا سکتا ہے (اعدادوشمار پاکستان اکنامک سروے سے لئے گئے) :
Year FBR Revenue Growth over
(Rs. in billions) previous year
FY1999 308.5
FY2000 346.6 12.4%
FY2001 391.3 12.9%
FY2002 404.1 3.3%
FY2003 460.6 14.0%
FY2004 520.9 13.1%
FY2005 590.4 13.3%
FY2006 713.5 20.9%
FY2007 847.2 18.7%
FY2008 1,008 19.0%
FY2009 1,161 15.2%
FY2010 1,327 14.3%
FY2011 1,558 17.4%
FY2012 1,882 20.8%
FY2013 1,946 3.4%
FY2014 2,254 15.8%
FY2015 2,589 14.9%
FY2016 3,112 20.2%
FY2017 3,368 8.2%
FY2018 3,751 11.4%
اس فہرست سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر گروتھ ریٹ 14 فیصد رہا. صرف دو سالوں میں یہ گر کر 3.4 فیصد رہا. مالی سال 2002 میں 9/11 کے واقع کی وجہ سے اور 2013 پی پی پی حکومت کی بلاوجہ ایف بی آر میں تبدیلیوں اور دولت کا بے تحاشہ استعمال سے یہ شرح نمو بری طرح متاثر ہوئی مگر یہ موجودہ 3 فیصد سے زیادہ تھا. بہر حال اس شارٹ فال کی بے تحاشا وجوہات ہیں مگر اندرونی ذرائع انکشاف کرتے ہیں کہ اس کی سب سے بڑی وجہ نااہل انتظامیہ ہے. یہ حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت نے گڈ گورنس، انصاف اور شفافیت کے نعروں کی آڑ میں بہت زیادہ توقعات اور امیدیں وابستہ کر لی تھیں جن افسران کی ایف بی آر میں تعیناتی کی گئی اس میں حد سے زیادہ دوست نوازی، ناجائز سفارش اور میرٹ کا بے دردی سے قتل عام کیا. 29 اگست 2018 کو پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروسز کے ایک افسر کا بحیثیت چیئرمین ایف بی آر تقرر کر کے میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں. ایک جونیئر اور باہر سے آنے والے افسر کے تقرر کو محکمے نے قبول نہیں کیا. رؤف کلاسرا نے اپنے پروگرام “مقابل” میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ موصوف کی جڑیں گذشتہ حکومت کے مشہور منصوبوں صاف پانی، لیپ ٹاپ اسکیم، اورنج ٹرین اور 56 کمپنیز جیسے منصوبوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور یہ نیب کے کئی کیسز میں پیشیاں بھی بھگت رہے ہیں. ان کے اس اہم ترین عہدے پر براجمان ہو نے میں وزیراعظم کے مشیر ارباب شہزاد ہی کی جھلک نظر آتی ہے جن کے یہ قریبی عزیز ہیں. اندرونی ذرائع کے مطابق نئے چیئرمین اپنی تعیناتی کے بعد اپنی قائدانہ صلاحیتیں دکھانے سے قاصر رہے اور ایف بی آر میں اپنی ٹیم بھی نہیں بنا سکے. انہوں نے معاملات کو التوا میں رکھنے اور اہم ایشوز کو سرد خانے کی نظر کرنے کی عادت اپنائی جس کی وجہ سے افسران میں بے چینی، ناامیدی اور کنفیوژن کی صورت حال نے جنم لیا. ان کے بے لچک، سخت گیر اور ہٹ دھرمی والے رویے سے ایف بی آر میں ایک مایوسی نے جنم لیا خصوصاً ممبرز اور ڈائریکٹر جنرلز کے درمیان اختلافات اور خلیج وسیع تر ہوتی چلی گئی جس کا نتیجہ ریونیو کے شارٹ فال کی شکل میں منتج ہوا. بہت سے نااہل افسران کے اہم ترین عہدوں پر تعیناتی نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا جن میں میرٹ کی دھجیاں اڑتی دکھائی دیں. ممبر ایڈمن اور ممبر آئی ٹی جیسے اہم عہدے گذشتہ کئی ماہ سے خالی پڑے ہیں اور ادارے کی کارکردگی کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں. یہاں کسی بھی شعبے میں کسی طرح کی اسٹریٹجی نظر نہیں آتی اور ٹیکس کلیکشن کا سب سے ادارہ مایوسی، ناامیدی اور کنفیوژن کا شکار نظر آتا ہے اور یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کب وزیراعظم اور وزیر خزانہ صحیح اور پروفیشنل افسران کی تعیناتی کرکے ایف بی آر کو تباہی سے بچا تے ہیں محکمے کے محصولاتی اہداف کے حصول کیلئے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں