عمران حکومت ڈیل چاہتی ہے انکار نواز شریف کر رہے ہیں، مشاہد اللہ کا دعویٰ

اب تک وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بار بار یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ کسی کو این آرو نہیں دوں گا۔ اب پہلی مرتبہ پاکستان مسلم لیگ نون کے سینیئر رہنما مشاہد اللہ کی طرف سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ عمران حکومت ڈیل کرنا چاہتی ہے انکار نواز شریف کی طرف سے ہو رہا ہے۔ مسلم لیگ نون کے رہنما مشاہد اللہ خان نے نہیں نواز شریف کے دور حکومت میں غیر ملکی میڈیا کو ایک متنازعہ انٹرویو دینے کے بعد وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے تھے اب ان کی جانب سے میڈیا میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومت اور نواز شریف کے درمیان ڈیل کی باتیں غلط نہیں ہیں کیونکہ حکومت ڈیل کرنا چاہتی ہے لیکن نواز شریف کی طرف سے مسلسل انکار ہے۔



مشاہد اللہ خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے پرویز مشرف کے دور میں بھی ہر قسم کا دباؤ مسترد کر دیا تھا ان کی حکومت بنانے کے بعد ان سے گن پوائنٹ پر بہت کچھ منوانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن نواز شریف اس وقت بھی ڈٹ گئے تھے اور آج بھی نواز شریف اپنے موقف پر قائم ہیں اور حکومت کی ڈیل کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں کیونکہ نواز شریف حکومت سے کسی قسم کی ڈیل نہیں کرنا چاہتے۔
کچھ عرصہ پہلے جب شہباز شریف لندن چلے گئے تھے تو مخالفین نے کہا تھا کہ شہباز شریف کا لندن جانا بھی ڈیل کا حصہ ہے لیکن جب شہباز شریف واپس آگئے اور حمزہ کو گرفتار کر لیا گیا تو یہ طرف سے سامنے آرہے ہیں کہ نواز شریف نے شہباز شریف کو بھی اپنی طرح سختیانی اپنانے کی ہدایت کر دی ہے۔



مسلم لیگ نون کے کارکنوں اور ہمدردوں میں شہباز شریف کا رویہ زیادہ مقبول نہیں ہو سکا اور آج بھی نواز شریف کا بیانیہ ہی زیادہ مقبول اور قابل قبول ہے اس لیے حکومت چاہتی ہے کہ نوازشریف سے ڈیل ہو جائے اور وہ کسی بھی طرح ملک سے باہر چلے جائیں یاد رہے کہ وفاقی وزیر شیخ رشید کی یہ بات بتا چکے ہیں کہ انہوں نے عمران خان سے کہا تھا کہ ان لوگوں کو باہر جانے دو لیکن یہ رشید کے بقول عمران خان نے ان کی بات نہیں مانی ۔دوسری طرف مریم نواز سمیت مسلم لیگ نون کے اکثر رہنما بار بار یہ سوال اٹھا چکے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان بتائیں کہ کس نے کب کہا ں این آر او مانگا ۔مریم نواز کا جلسوں میں شرکت کرنا اور اب حکومت کے خلاف کھل کر بولنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نواز شریف کی جانب سے پارٹی قیادت کو حکومت کے خلاف سخت ترین بیان یا اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جیل میں نواز شریف سے ملاقات کرنے کے بعد مسلم لیگی رہنماوں نے صحافیوں کو بتایا کہ نواز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کا وقت پورا ہو گیا ہے اور اب بہت جلد وہ دوبارہ کنٹینر پر آنے والا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے اہم رہنما کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کے آصف زرداری اور فریال تالپور تو پیسے دینے کو تیار ہوگئے تھے لیکن عمران خان نہیں مانے۔



عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے ان دونوں کا پیسہ نہیں چاہیے میں تو سزا بھی دونگا اور پیسہ بھی لے لوں گا۔اگر سزا دیے بغیر پیسہ لیا تو یہ این آر او کہلائے گا جو میں نہیں کرنا چاہتا۔
جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری نے نہ ماضی میں دباؤ قبول کیا نہ آج دباؤ میں آئے ہیں انہوں نے ماضی میں بھی گیارہ سال جیل کاٹی اور اس وقت بھی جیل کاٹ رہے ہیں انہیں ضیاء الحق اور مشرف جیسے آ مر نہیں دبا سکے تو عمران خان کیا کر لیں گے؟