کیا وزیراعظم عمران خان مولانا فضل الرحمن کو نیب کے ہاتھوں گرفتار کرانا چاہتے ہیں؟

جب سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے یہ کہا ہے کہ میں نے پکے ریفرنسوں کی دھجیاں بکھیر دوں گا ان کے سیاسی مخالفین کی جانب سے سیاسی حلقوں میں یہ سوالات ہو رہے ہیں کہ کیا نیب نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف بھی گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا ہے؟ سیاسی تجزیہ نگاروں کے نزدیک یہ سوال اہم ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان اور ان کی پارٹی پی ٹی آئی کے پی کے میں اپنے سب سے بڑے سیاسی مخالف مولانا فضل الرحمن کو نیب کے ہاتھوں گرفتار کرانا چاہتے ہیں؟ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمن سے سوال کیا گیا کہ سنا ہے آپ کو بھی نیب نے طلب کیا ہے ؟جس پر مولانا فضل الرحمن نے جواب دیا کہ مجھے نیب نے طلب نہیں کیا اور اللہ کا فضل ہے کہ مجھے کوئی طلب بھی نہیں کر سکتا۔



مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ بے شک یہ ہزاروں ریفرنس کریں مجھے نہیں پرواہ…
میں وہ آدمی نہیں ہوں جو اس قسم کے ریفرینس کے سامنے جھک جاؤں گا ۔میں اس طرح کے ریفرنس کی دھجیاں بکھیر دوں گا۔اس ملک میں کوئی شرافت کی سیاست کرے تو اس کو سیاست نہیں کرنے دی جاتی ۔یہ انصاف کے قتل کرنے والے ہیں میں ان کو انصاف کے ادارے تسلیم نہیں کرتا ۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ میں انتقامی کاروائیوں سے ڈرنے والا نہیں ۔میں انہیں چھٹی کا دودھ یاد دلاؤں گا اور ان کی فائلوں کو ان کے سامنے پھینکوں گا اس طرح کی سیاست ہم نے اپنے باپ دادا سے نہیں سیکھی۔ہم نے آزادی حاصل کی اب یہ ہمیں پھر سے غلام بنانا چاہتے ہیں لیکن احتساب تو ہم کریں گے ان اداروں کا۔ دوسری طرف جھوٹا دعویٰ کرنے کے بعد گرفتار ہونے اور جیل کی ہوا کھانے والے معروف صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ مولانا صاحب غصے میں آگئے ہیں کیونکہ ان کو کسی نے کہہ دیا ہے کہ نیب نے آپ کی زمین نے دیکھ لی ہیں۔



ڈیرہ اسماعیل خان میں بہت ساری زمینیں ہیں کسی کو پتہ بھی نہیں گئے زمین پرویز مشرف کے دور کی ہیں یا اس سے پہلے کی ہیں ۔کسی نے ڈرا دیا ہے کہ نیب نے آپ کی زمین نے دیکھ لی ہیں اور آپ کے خلاف کیس بھی بن سکتا ہے جس پر مولانا غصے میں آگئے ہیں۔
سیاسی حلقوں میں مولانا فضل الرحمٰن اور حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی کے حوالے سے تبصرہ ہو رہے ہیں کہ جب سے مولانا فضل الرحمن نے لاک ڈاؤن اسلام آباد اور دھرنا دینے کی بات کی ہے حکومت اور پی ٹی آئی کے لوگ خوف زدہ نظر آتے ہیں کیونکہ یہ بات سب نجیبہ کلو میں مانتے ہیں کہ اگر مولانا فضل الرحمن اپنے لوگوں کے خصوص مدارس کے نوجوانوں کو لے کر اسلام آباد کی طرف چل پڑے تو کوئی ان کو روک نہیں سکے گا اور اگر انہوں نے اسلام آباد میں دھرنا دے دیا تو اسلام آباد لاک ڈاؤن ہو جائے گا اور اگر اداروں کو بیچ میں ڈالا گیا تو صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔



بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت مولانا فضل الرحمن کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کی طرف حالات لے جانے سے پہلے ہی ان کے خلاف کسی بڑی کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے اور مولانا فضل الرحمن کو کسی مقدمے میں پھنسایا جا سکتا ہے جس کا واحد مقصد ان کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے اور دھرنا دینے سے روکنا ہوگا۔
یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے الیکشن کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور انہوں نے الیکشن نتائج پر اعتراض کرنے والی دیگر جماعتوں کو بھی اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کی تھی کہ نتائج کو تسلیم نہ کریں حلف نہ اٹھائیں۔



اس کے بعد وہ خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے اور دوسرے صوبوں میں بھی پی ٹی آئی کو حکومت بنانے سے روکنے کے لیے سرگرم تھے لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے اس وقت ان کی ہاں میں ہاں نہیں ملی تھی اس کے باوجود وہ نواز شریف اور آصف زرداری سے ملاقاتیں اور رابطہ کرتے رہے اور اب پی ٹی آئی کی حکومت گرانے یا حکومت کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک چلانے کے لیے تمام اپوزیشن جماعتیں متفق ہوتی جا رہی ہیں اور کسی بھی احتجاجی تحریک میں آنے والے دنوں میں مولانا فضل الرحمن اور ان کی جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں اور ہمدردوں کا کردار بہت اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مولانا فضل الرحمان ایک انتہائی ذہین اور تجربہ کار سیاستدان ہیں ہر وہ سیاست میں اپنے کارڈ بڑی خوبصورتی سے اور آچھی ٹائمنگ کے ساتھ کھیلنے کے لئے مشہور ہیں اگر انہوں نے نیب اور حکومت کے اداروں کے حوالے سے غصے کا اظہار کیا ہے تو یہ بھی ان کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔