پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور امریکہ کے خلاف بول پڑے

پاکستان کے ایٹم بم کا سہرا مشہور سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سر جاتا ہے جنہیں سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو نے بیرون ملک سے پاکستان بلاکر ایٹم بم بنانے کا ٹرانسفر اوپر تھا اور پھر ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے سائنسدانوں کی ایک بڑی ٹیم کے ساتھ مل کر ذوالفقار علی بھٹو جنرل ضیاء الحق اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور تک ایٹم بم بنانے اور پھر اس کے کامیاب تجربے پر کام کیا لیکن سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں انہیں اچانک ایک دن سرکاری ٹی وی پر پیش کرکے قوم سے معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا اس کے بعد ان کو نظر بند رکھا گیا اور ان کی نقل و حرکت بھی محدود کر دی گئی۔کافی سالوں کے بعد پاکستان کے مشہور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے اور اب اچانک انہوں نے لب کشائی کرتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف اور امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔لاہور ہائی کورٹ میں اپنے مقدمے کی خود پیروی کرنے کے لئے انہوں نے دی گئی ایک درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ مشرف کے دور میں سرکاری ٹی وی پر انہوں نے جو بیان پڑھا تھا وہ جنرل پرویز مشرف اور امریکہ کے دباؤ پر پڑھا گیا تھا۔



محمد مدثر چوہدری ایڈوکیٹ کی سربراہی میں وکلاء کے ایک وقت کی جانب سے جوڈیشل تیار کی گئی اس حوالے سے ڈاکٹر قدیر خان کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ انہیں اجازت دے کہ وہ آزادانہ طور پر نقل و حرکت کر سکیں اور اپنے مقدمے کی پیروی بھی خود کر سکیں۔پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے ان سے جھوٹ بولا اور جھوٹا وعدہ کیا ۔مشرف نے کہا تھا کہ آپ قوم کے سامنے تقریر کر کے معافی مانگ لیں اور کچھ دنوں بعد آپ کی پوزیشن بحال ہوجائے گی لیکن ایسا نہیں کیا گیا ۔حالانکہ سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور مشہور وکیل ایس ایم ظفر بھی اس حقیقت سے واقف ہیں۔ڈاکٹر قدیر کا کہنا ہے کہ جسٹس اعجاز چوہدری نے اس حوالے سے انہیں کچھ ریلیف دیا تھا لیکن بعد میں گزشتہ تین چار سال ہو گئے سیکیورٹی آفیشلز نے ان کی نقل و حرکت کو گھر تک محدود رکھا ہوا ہے مجھے آزادی سے کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں ہے یہ اخلاقی اقدار کے خلاف ہے میں مختلف تقاریب میں شرکت کرنا چاہتا ہوں لیکن مجھے اجازت نہیں دی جاتی۔



ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کی ہے کہ میرے معاملے کا مقدمہ کھلی عدالت میں سنا جائے اسے چیمبر میں بند کمرے میں مت سناجائے۔ڈاکٹر قدیر خان کا کہنا ہے کہ میرے خلاف حکومت پاکستان اور اس کے اداروں نے غیر قانونی طور پر پابندی عائد کر رکھی ہیں میں ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوکر اپنا معاملہ اٹھانا چاہتا ہوں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مجھے یہ موقع دیا جائے ڈاکٹر قدیر خان کی یہ درخواست ایڈوکیٹ مدثر چوہدری اور مرزا حسیب اسامہ کی وساطت سے دائر کی گئی ہے اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان چاہتے ہیں کہ وہ گورنمنٹ کالجز اور یونیورسٹیوں میں لیکچر دیں ان کی درخواست کی سماعت چوبیس جون کو ہوگی۔یاد رہے کہ بھارت نے ایٹمی دھماکے کرنے والے بھارتی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالکلام کو بھارت کا صدر منتخب کیا تھا لیکن پاکستان میں ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قوم سے معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا اور اس کے بعد وہ نظربندی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوئے اور اب ان کی نقل و حرکت محدود ہے۔



سیاسی حلقوں میں یہ تصریح ہوتے رہے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سیکورٹی بہت ضروری ہے کیونکہ ان کی جان کو خطرہ ہے اسرائیل بھارت امریکا سمیت مختلف عالمی قوتیں ان کے پیچھے لگی ہوئی ہیں اگر ان کی سیکیورٹی کا مناسب بندوبست نہ کیا گیا تو ان کو کسی بھی وقت نقصان پہنچ سکتا ہے ۔لیکن خود ڈاکٹرعبدالقدیرخان آئی صورت حال سے اب بیزار نظر آتے ہیں اور وہ آزادانہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔