سیاسی تھپڑوں کی کہانی، پہلے صحافی تھپڑ مارتے تھے آج تھپڑ کھا رہے ہیں، ذمہ دار خود پیرا شوٹر صحافی ہیں

‏صحافی نظام صدیقی نے بھٹو کے سیکریٹری نسیم احمد کو تھپڑ مارا تھا ۔۔۔
 قادری نے بھٹو کے قتل پر ضیا کے مشیر معظم علی کو تھپڑ مارا،  یہ ہوتی تھی جرا ت صحافت اور اب صحافی تھپڑ کھا رہا ہے۔ ذمہ دار کوئی اور نہیں آج کے پیراشوٹ صحافی ہیں ورنہ فواد کی یہ جرا ت۔ کراچی پریس کلب اور صحافی حلقوں میں وفاقی وزیر فواد چوہدری کے ہاتھوں صحافی سمیع ابراہیم کے بھری محفل میں تھپڑ کھانے پر مختلف تبصروں کا سلسلہ جاری ہے سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے پرانے واقعات کی یاد تازہ کی جا رہی ہیں۔



سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں کسی کی جرات اور ہمت نہیں ہوتی تھی کہ صحافی کی طرف انگلی بھی اٹھائے لیکن آج حالات مختلف ہو چکے ہیں اور اس صورتحال کے ذمہ دار خود وہ پیراشوٹ صحافی ہیں جنہوں نے اس مقدس پیشے میں آ کر اپنی بھی عزت گنوا دی اور پیشہ ور اصول پرست صحافیوں کی بدنامی کا باعث بھی بنے ہوئے ہیں۔