یکدم یہ گرفتاریاں! ” اندر کی کہانی “

یکدم یہ گرفتاریاں! آخر اندر کی کہانی کیا ہے؟؟؟
اندر کی کہانی کچھ یوں ہے کہ  نکا کافی دنوں سے ان گرفتاریوں کا مطالبہ کر رہا تھا کیونکہ اس کی ساری سیاست دو نکتوں کے ارد گرد گھومتی تھی…
پہلا یہ کہ میں ہی سب سے زیادہ لائق فائق ہوں، باقی سارے جاہل گنوار، میں آکر ملک کی تقدیر بدل دوں گا۔
دوسرا نکتہ یہ کہ صرف میں ہی صادق امین ہوں، باقی سارے چور اور ڈاکو، میں ہی ان کا احستاب کرسکتا ہوں،  اب دس ماہ میں ساری قابلیت کا بھانڈا تو پھوٹ گیا۔
لیکن اپنی نالائقی کو چھپانے اور سیاست کو بچانے کے لیے وہ صبح شام یہی رونا رو رہے ہیں کہ یہ سب کچھ پچھلے چوروں کی وجہ سے ہوا ہے…
اب جب لوگ اس بات کو مان لیتے ہیں کہ یہ ساری تباہی سابقہ لوگوں کی وجہ سے ہے، تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان کو پکڑ کر پیسہ نکلواتے کیوں نہیں ؟؟؟
نکے کی کشتی اس منجھدار میں پھنس چکی تھی جس سے نکالنے کے لیے وہ “بڑے ابے” سے بار بار مزید گرفتاریوں کی فرمائش کررہے تھے۔ لیکن زرداری صاحب پر ہاتھ ڈالنا اتنا آسان نہیں تھا، کیونکہ زرداری صاحب نے سینٹ اور بلوچستان میں خدمات فی سبیل اللہ پیش نہیں کی تھیں، اس میں بین الاقوامی ضامن موجود تھے، دوسرا چیئرمین نیب کی تقرری میں ملک ریاض کی دلالی بھی شامل تھی۔ لیکن نکے کا اصرار تھا کہ میں اس ڈیل میں شامل نہیں تھا اس لئے یہ میرا درد سر نہیں، لہٰذا میں نے تو سب چوروں کو اندر کرنا ہے۔ اور اسی چکر میں چیئرمین صاحب کو قابو کرنے کے لیے اس کی تفتیش والی ویڈیو جاری کردی گئی۔



لیکن اب لوگ چیئرمین کو ہٹانے کے موڈ میں نہیں تھے، کیوں کہ وہ بھی کافی سارے رازوں کے رازداں ہیں، پھر اکتفا اسی پر ہوا کہ کچھ لے کچھ دے کر بات آگے بڑھائی جائے، نکے کو حکم ہوا کہ وہ گستاخ فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کر دے، چیئرمین صاحب کا ادارہ ان کے حریفوں کے خلاف کارروائی آگے بڑھا دیگا۔ اور اس کے لیے بجٹ کا وقت مختص کیا گیا۔
اب بظاہر تو پروگرام ٹھیک جارہا ہے۔ قوم یوتھ کو بہلانے کو یہ خیال اچھا ہے، الٹا اگر اپوزیشن احتجاج کرے گی تو کہا جائے گا کہ یہ اپنی کرپشن کو چھپانے کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں۔
لیکن آگے کیا ہوگا؟؟؟؟؟
یہ صورتحال زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گی، مہنگائی سے عوام کی چیخیں نکلیں گی، اوپر سے جب تین چار ماہ تک کرپٹوں سے کوئی ریکوری نہیں ہوگی تو پھر منظر نامہ بدل جائے گا۔ نکےکی مقبولیت مزید کمزور ہوگی، پھر ریاست کو دو ممکنہ صورت حال کا سامنا ہوگا۔ یا توا ن کا استعفیٰ دے کر نکل جائے گا، اور نئے انتخابات کی صورت میں حقیقی جمہوریت کا سورج طلوع ہوگا، لیکن اس کے امکانات بہت کم ہیں۔



دوسری صورت میں “بڑے ابے” کو ضیاء اور مشرف کی طرح پراجیکٹ الاٹ کردیا جائے گا، باقیوں کی طرح تحریک انصاف کے پرویز خٹک و دیگر کی پکڑ دھکڑ شروع ہوگی۔ مارکیٹ میں شور ہوگا کہ یہ سیاست دان سارے چور اور لٹیرے ہیں، پراجیکٹ کی مد میں دس پندرہ ارب ڈالرز ملیں گے۔
عوام کو جب تھوڑا سا آکسیجن مہیا کیا جائے گا تو وہ جمہوریت، ووٹ کو عزت وغیرہ بھول کر شکریہ اباجی کے نعرے لگائے گی، جو چند سر پھرے سوشل میڈیا پر ہیں ان کا حساب کتاب کلیئر کر دیا جائے گا، ملک میں کرپٹ اور غدار سیاستدانوں سے پاک ایک پرسکون ماحول دستیاب ہوگا۔
جس میں ابا حضور بڑے اطمینان سے پراجیکٹ پر کام شروع کر دیں گے۔
لیکن اس کا اختتام بہت بھیانک ہوگا …