گجر، محمود آباد اور اورنگی نالوں کے 6500 متاثرہ خاندانوں کی تیسر ٹاؤن میں آبادکاری کا منصوبہ تیار اسکیم -45، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) میں 500 مربع گز مکانات تعمیرکرنے کا پلان مرتب کرلیا گیاہ

کراچی (رپورٹ۔اسلم شاہ)گجر، محمود آباد اور اورنگی نالوں کے 6500 متاثرہ خاندانوں کی تیسر ٹاؤن میں آبادکاری کا منصوبہ تیار
اسکیم -45، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) میں 500 مربع گز مکانات تعمیرکرنے کا پلان مرتب کرلیا گیاہے جسے پی سی ون کی تیاری اور منظوری کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں پلان جمع کرایا جائے گا جس کی تصدیق نئے منیجنگ ڈائریکٹر ایم ڈی اے غلام محمد قائم خانی کی ہے۔
واضع رہے کہ سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کوایک ماہ میں پلان پیش کرنے اور ایک سال کے دوران عملدآمد کا منصوبے بنانے کی ہدایت کی تھی۔

مزکورہ پلان کمشنر کراچی میں سپریم کورٹ جمع کرائیں گے۔ پلان کے تحت نالوں کے ہر متاثرہ خاندان کو دو کمروں کے علاوہ تمام سہولیات کی تعمیر 500 مربع فٹ ہر یونٹ کے احاطہ کے ساتھ کی جائے گی جس پر 9لاکھ روپے لاگت آئے گی۔ اضافی سولر پینل اور دیگر سہولیات میں فی گھرانہ پر ڈیڑھ لاکھ روپے اور منصوبے پر مجموعی لاگت کا اندازہ 6ارب 82کروڑ 50لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔

نئے ایم ڈی غلام محمد قائم خانی کا کہنا تھا کہ منصوبے کی پی سی -1 چند دنوں میں مکمل ہو جائے گا اور یہ سیکریٹری لوکل گورنمنٹ نجم احمد شاہ کے ذریعہ حکومت سندھ کو منظوری کے لئے پیش کیا جائے گابعدازاں سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔
توقع ہے کہ یہ منصوبہ ایک سال میں مکمل ہو جائے گا تاہم متاثرین کی گھروں میں آبادکاری منصوبے کی تکمیل کے فورا بعد ہوگی۔

تین نالوں کی تجاوزات ہٹانے کا عمل تکمیل کے قریب ہے اور متاثرین کو فی خاندان تین لاکھ 60ہزارروپے دیے جارہے ہیں،یہ رقوم ماہانہ کرائے کی مد میں دی جارہی ہیں۔ ان متاثرین اور نالوں کی تعمیرات وفاقی حکومت ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ذریعے پانچ ارب سے ذائد فنڈزخرچ کررہی ہے جس میں ایف ڈبلیو او اور این ایل سی کو تعمیرات کا ٹھیکہ براہ راست دیدیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اورنگی اور گجر نالے آپریشن میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کام کی نگران ہے۔
ادھر منظورکالونی میں نالے کی تعمیرات کا کام تیز ی سے جاری ہے لیکن سندھ حکومت کی توجہ آہستہ آہستہ کم ہوگئی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ کمشنر کراچی اور تین ڈپٹی کمشنرز،اسٹنٹ کمشنر، مختیار کار اور دیگر انتظامی مشینری تجاوزات کے آپریشن سے غائب ہیں۔ عدم دلچسپی کے باعث تجاوزات کے خلاف آپریشن کا تمام تر کنٹرول کے ایم سی سپرد کردیا گیا ہے، اس ضمن میں وفاقی حکومت کے ساتھ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی تین نالوں پر تجاوزات اورتعمیرات کا کام کررہی ہے۔
ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پلان کے مطابق متاثرین خاندانوں کودو کمروں کے گھر کے فلیٹ سائز 24 فٹ 30 فٹ کے لیے آرکیٹیکچرل پلان تیار کیا گیا ہے جس میں پیرامیٹرز کے ساتھ کراس وینٹیلیشن واش رومز 6 فٹ 8 فٹ کے عقب میں ڈکٹ کے ساتھ اور دو کمروں کے پیچھے سائز 10X12 فٹ-برآمدہ اور کچن 10 فٹ بذریعہ 24 فٹ کے علاوہ کھلے صحن کے ساتھ مین گیٹ کی فراہمی ہر یونٹ کی پہچان ہے مزید یہ کہ اگر ممکن ہو تو چار یونٹوں کی چھتیں مل جائیں اور سڑک کے قریب جگہ کا انتخاب اور اس کے علاوہ پینے کا پانی، ہر یونٹ کے قریب دستیاب سیوریج ڈسپوزل فراہم کیا جائے گا۔

تقریبا 250 ہاؤسنگ یونٹس 26 بلاک (حفاظتی مقاصد کے لیے دیواروں والی کمیونٹی) اور ایک سیکٹر میں تقریبا 1000 گھر دستیاب ہونگے۔اس منصوبے میں دوہری سڑکیں کی تعمیر ہوں گے، 3 ایکڑ پر مشتمل بڑے پارکوں کو خاندانوں اور بچوں کے لیے منصوبے میں مختص کیاگیا ہے۔

منصوبے میں اسکول کی عمارتیں مکمل اور فرنیش کی جائیں گی اور اس کا انتظام تعلیم سے متعلق این جی اوز جیسے ٹی سی ایف کو نگرانی اور چلانے کے لئے دیا جائے گا۔

تیسر ٹاؤن منصوبے کے تحت صحت کے شعبے میں، ہسپتال کی مناسب عمارت کی تکمیل تک صحت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تقریبا 6 ایمبولینس فراہم کی جائیں گی۔

فوڈ اسٹریٹ کے لیے زمین بھی مختص کی جائے گی اور 15 حصوں کی لاگت کو شامل کیا جائے گا تاکہ نئے علاقے سے پرانے علاقے تک سبسڈی قیمت پر آمدورفت فراہم کی جا سکے۔ بعد میں یہ انتظام نجی شعبہ کرے گا۔ پک اور ڈراپ پوائنٹس کے ساتھ ٹرانسپورٹ کی پارکنگ کے لیے مناسب جگہیں مختص کی جائیں۔شفٹنگ کے وقت، پانی کی فراہمی اور سیوریج کا نظام مکمل ہو چکا ہے۔

ہر بلاک میں رہائش مکمل ہونے کے بعد اندرونی سڑکیں اٹھائی جا سکتی ہیں،تمام مکانات اور اسٹریٹ نمبرز انسٹال اور مرکزی سڑکیں /اپروچ سڑکیں سائٹ پر پانی کی فراہمی اور سیوریج سسٹم کے ساتھ تعمیر کی جائیں،سکولوں کو شفٹ کرنے سے پہلے مکمل کیا جائے گا تاکہ بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ ان اسکولوں میں تعلیم کی ترجیح متاثرہ خاندانوں کو دی جائے گی۔دو طرفہ سڑکوں پر میڈین نجی شعبے کو نرسریوں کی ترقی اور گرین بیلٹس کی دیکھ بھال کے لیے دیے جائیں۔

منصوبے میں اسٹریٹ سائیڈ شجرکاری اہل ماحولیاتی این جی اوز کو دی جا سکتی ہے،پارکوں اور گرین بیلٹس کو برقرار رکھنے کے عوض کارپوریٹ سیکٹر کو اشتہار کے لیے سائٹس کی تجاویز پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
منصوبے میں ایم ڈی اے کے ذریعہ پارکس بھی تیار اور سنبھالے جا سکتے ہیں