احتجاج جمہوریت کا حسن ہوتا ہے، لیکن جس بدتمیزی کا مظاہرہ اپوزیشن جماعتوں اور بالخصوص اپوزیشن لیڈر کی جانب سے کیا گیا وہ قابل افسوس ہے، سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے کہ ایم کیو ایم والے یہ کہیں کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کو تباہ کردیا جبکہ یہ حقیقت سب کے سامنے عیاں ہیں کہ اس شہر کو تباہ کس نے کیا اور بالخصوص لوکل گورنمنٹ کے اداروں کے ایم سی، کے ڈی اے، واٹر بورڈ، ایم ڈی اے، ایل ڈی اے سب کو ایم کیو ایم نے تباہ کیا۔کراچی میں پانی، سیوریج اور کچڑے کے نظام کو تہس نہس بھی ایم کیو ایم نے ہی کیا اور اس بار بھی انہوں نے رمضان میں انہوں نے پلان کے تحت پانی کے نظام کو ٹمپر کیا۔ اس وقت ایم کیو ایم تحریک انصاف کی بی ٹیم بن کر کام کررہی ہے۔



علیم عادل شیخ اگر کرپشن کا الزام لگائے تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ تحریک انصاف سمیت اپوزیشن جماعت کے بہت سے ارکان ہمارے رابطے میں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ روز ایک بار پھر اپوزیشن بالخصوص تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے طوفان بدتمیزی برپا کیا اور وہ بھی بلاوجہ ایسا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اوپر سے ملنے والے احکامات کی پیروی کررہے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ احتجاج جمہوریت کا حسن ہوتا ہے لیکن جس انداز اور جس بدتمیزی کا مظاہرہ اپوزیشن جماعتوں اور بالخصوص اپوزیشن لیڈر کی جانب سے کیا گیا وہ قابل افسوس ہے اور مجھے تو اپوزیشن لیڈر کے رویہ اور ان کے الفاظوں کے استعمال کے بعد ڈر لگنے لگا ہے کہ وہ کہیں کاٹ نہ لے۔ سعید غنی نے کہا کہ احتجاج دائرے میں رہ کر کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز ان احتجاج کرنے والوں جن میں ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی دونوں کے ارکان اسمبلی شامل تھے انہوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا، جس پر لکھا ہوا تھا کہ ”سندھ کے چور مچائیں شور“ جبکہ شور بھی وہ خود ہی مچا رہے تھے، ہم تو خاموش بیٹھے تھے۔



سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ہی کسی ناراض ارکان نے ایم کیو ایم کا حقیقی چہرہ ان کے سامنے رکھ دیا اور پلے کارڈ بنا کر ان کو دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے کہ ایم کیو ایم والے یہ کہیں کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کو تباہ کردیا جبکہ یہ حقیقت سب کے سامنے عیاں ہیں کہ اس شہر کو تباہ کس نے کیا اور بالخصوص لوکل گورنمنٹ کے اداروں کے ایم سی، کے ڈی اے، واٹر بورڈ، ایم ڈی اے، ایل ڈی اے سب کو ایم کیو ایم نے تباہ کیا اور واٹر بورڈ میں انہوں نے اپنے دہشتگردوں کو نوکریاں دی۔ سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں پانی، سیوریج اور کچڑے کے نظام کو تہس نہس بھی ایم کیو ایم نے ہی کیا اور اس بار بھی انہوں نے رمضان میں انہوں نے پلان کے تحت پانی کے نظام کو ٹمپر کیا۔ سیوریج کا نظام بوریاں اور پتھر ڈال کر تباہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں پانی کے نظام کو آج بھی تباہ کرنے میں ایم کیو ایم کے دہشتگرد ہی یہ کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایم ڈی واٹر بورڈ اور افسران کو اب سختی سے ہدایات دی ہیں کہ وہ اب ان دہشتگردوں کی نشاندہی کریں اور میں عوام سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ جو واٹر بورڈ کے ملازمین کے روپ میں ایم کیو ایم کے دہشتگرد اس شہر میں پانی کے ترسیلی نظام کو تباہ کررہے ہیں ان کی نشاندہی کریں۔



سعید غنی نے مزید کہا کہ پانی کی کمی صرف کراچی نہیں پورے ملک میں ہے اور ہم کراچی کے لئے میسر طریقے سے پانی کی ترسیل کے لئے دن رات کوشاں ہیں لیکن یہ لوگ اس نظام کو تباہ کرکے سیاسی پوائنٹ اسکورننگ کرنا چاہتے ہیں لیکن اب ہم ان کی اس دہشتگردی کو برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایم کیو ایم تحریک انصاف کی بی ٹیم بن کر کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت وفاقی حکومت کے اقدامات کے بعد مہنگائی کا جو سونامی اس ملک میں آیا ہے اور جس طرح کا بجٹ انہوں نے اس ملک کے عوام کو دیا ہے، جس سے عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے ان تمام سے توجہ ہٹانے کے لئے ایم کیو ایم تحریک انصاف کی بی ٹیم کا کردار ادا کرکے صوبہ سندھ میں مختلف اشیوز بنا کر عوام کی توجہ اس آئی ایم ایف کے بجٹ سے ہٹانے میں وفاق کا ساتھ دی رہی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت وفاقی حکومت نے علیمہ خان ایمنسٹی اسکیم دے رکھی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ جب وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ تھے اور جب پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا تھا تو وہ حکومت سے علیحدہ ہوکر احتجاج کرتی رہی لیکن آج وہ کیوں خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم صرف اور صرف اس لئے کررہی ہے کہ شاید پی ٹی آئی آئندہ بلدیاتی انتخابات میں میئر شپ دست دستبردار ہوجائے اور اسی لئے وہ بی ٹیم بن کر کام کررہی ہے۔



ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف والے پیپلز پارٹی کے بغض میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ انہیں کراچی میں پانی کا اشیو ہو یا کوئی بیماری پھیلی ہو انہیں صرف اور صرف پیپلز پارٹی کی حکومت ہی اس کا ذمہ دار نظر آتی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمارا طرز سیاست الزام تراشی کا نہیں ہے ورنہ ایچ آئی وی تو پنجاب کے 5شہروں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن ہم اسے انسانی بیماری تصور کرتے ہیں اور ہم کسی پر اس کا الزام نہیں لگاتے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بھی بجلی کا اشیو ہے اور یہ صوبہ سندھ میں اس سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی غریب آدمی اس شدید گرمی میں اگر بجلی کا بل ادا نہ کرسکے تو اس کی بجلی بند کردی جائے یہ کہی کا انصاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی آسائش نہیں بلکہ ضرورت ہے۔



انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی نجکاری کی پیپلز پارٹی نے مخالفت کی صرف ایک ہی جماعت جو اس شہر کی دعویدار تھی اس نے اس کو سپورٹ کیا اور آج جو صورتحال ہے وہ کے الیکٹرک کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ جو سرکاری ملازم ہیں اور وہ کسی جماعت کے ہیں اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن وہ سرکاری تنخوائیں لے کر اس جماعت کی نوکری کرے یہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب میں ان تمام سرکاری ملازمین کو واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ سرکاری نوکری کریں اور تنخواہ لیں لیکن اب اگر سرکاری تنخواہ لے کر کسی سیاسی جماعت کی نوکری کرکے اس شہر میں پانی اور سیوریج کے نظام کو تباہ کریں گے وہ برداشت نہیں کریں گے۔ ڈی سیلیشن کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کی لاگت زیادہ ہے اور اس سے پانی کی کوسٹ زیادہ ہے اگر شہری واٹر بورڈ کے بل بروقت ادا کردیں تو واٹر بورڈ مالی طور پر مستحکم ہوجائے تو ہم پانی کے مزید منصوبے بشمول ڈی سیلینیشن پلانٹ سب ممکن ہوسکے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے کئی ارکان ہمارے رابطے میں ہیں۔