حکومت کا سرکاری ملازمین کو ساٹھ سال کی بجائے 63 سال کی عمر میں ریٹائر کرنے پر غور۔ وزیراعظم نے رپورٹ طلب کرلی

وفاقی حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ سرکاری ملازمین کو ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائر کرنے کی بجائے 63 سال کی عمر تک کام کرنے دیا جائے اور سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد میں مزید تین سال کا اضافہ کیا جائے اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور دیگر متعلقہ وزارت اور ماہرین سے اسلام مشورے جاری ہیں اور وزیراعظم نے اس حوالے سے رپورٹ طلب کرلی ہے ذرائع کے مطابق اس کی دو اہم وجوہات بیان کی جا رہی ہیں پہلی وجہ معاشی دباؤ ہے ملازمین کو ریٹائرمنٹ کی وجہ سے حکومت کو یکمشت بڑی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔



اس وقت خزانے پر بوجھ ہے اور اگر ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ ہو جاتا ہے تو ریٹائر ہونے والے ملازمین کو بڑی رقوم حکومت کو ادا نہیں کرنی پڑے گی اور یہی ملازمین مزید تین سال کام کرتے رہیں گے ذرائع کے مطابق اس کی دوسری اہم وجہ بعض اہم عہدوں پر آنے والی ریٹائرمنٹ کی تاریخ ہیں جن کو روسی دینے کی بجائے حکومت اس بارے میں غور کر رہی ہے کہ مجموعی طور پر ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد بڑھا دی جائے تبدین شخصیات کو توسیع دینے کی باتیں ہو رہی ہیں ان کو انفرادی طور پر توسیع دینے کی بات نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر نیا قانون بن جائے گا۔