سعد رضوی کو رہا کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری–وکلاء سی سی پی او آفس کے باہر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں کہ شورٹی بانڈز جمع کیئے جائیں.

سعد رضوی کو امن وامان کو خطرے اور دہشت گردی کے خدشہ پر نظر بند کیا گیا تھا۔ جس پر سعد رضوی کے چچا امیر حسین رضوی نے لاہور ہائیکورٹ میں ان کی نظر بندی کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود CCP0 لاہور ضمانتی مچلکے وصول نہیں کر رہا۔
وکلاء 4 گھنٹے سے موجود ہیں لیکن کبھی کوئی بہانہ اور کبھی کوئی ۔
===================
سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود CCPO لاہور ضمانتی مچلکے وصول نہیں کر رہا ۔ جب تک ضمانتی مچلکے وصول نہیں کرتا تب تک CCPO دفتر میں ہی بیٹھے ہوئے ہیں ۔
#TLPLawyers
————————–

ڈپٹی کمشنر لاہور نے پاکستان کی مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لبیک کے سربراہ سعد حسین رضوی کو رہا کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

وفاقی نظر ثانی بورڈ نے بھی حکم دیا کہ سعد رضوی اگر کسی دوسرے کیس میں ملوث نہیں تو رہا کیا جائے۔ تاہم دوسری جانب کوٹ لکھپت جیل حکام کے مطابق ابھی تک سعد رضوی کی رہائی سے متعلق کوئی روبکار موصول نہیں ہوئی۔ لہذا آج بروز ہفتہ ان کی رہائی ممکن نہیں البتہ اگر پیر تک محکمہ داخلہ کی جانب سے باقائدہ روبکار کی صورت میں حکم موصول ہوتا ہے تو انہیں رہا کر دیا جائے گا۔

ٹی ایل پی وکلا وفاقی نظر ثانی بورڈ کے احکامات لے کر سی سی پی او آفس پہنچے لیکن احکامات وصول نہیں کیے گئے۔

ادھر کوٹ لکھپت جیل کے باہر کالعدم ٹی ایل پی کے کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی ہے۔ جیل کے باہر موجود کارکنوں نے تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کو ساتھ لیے بغیر جانے سے انکار کر دیا ہے۔

سعد رضوی کو امن وامان کو خطرے اور دہشت گردی کے خدشہ پر نظر بند کیا گیا تھا۔ جس پر سعد رضوی کے چچا امیر حسین رضوی نے لاہور ہائیکورٹ میں ان کی نظر بندی کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

عدالت عالیہ نے کیس پر سماعت مکمل ہونے کے بعد یکم اکتوبر کو حکم سنایا کہ سعد حسین رضوی کو رہا کیا جائے۔

لیکن ڈپٹی کمشنر لاہور کے 26 ستمبر کو لکھے گئے خط پر فیڈرل نظر ثانی بورڈ نے سعد حسین رضوی کی نظر بندی میں ایک ماہ کی توسیع کرتے ہوئے دو اکتوبر کو نظر بندی میں ایک ماہ کی توسیع کر دی تھی۔

اس نوٹیفکیشن کو ٹی ایل پی کی جانب سے فیڈرل نظر ثانی بورڈ میں چیلینج کیا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ یکم اکتوبر کو سعد رضوی کی نظر بندی کالعدم قرار دے کر رہائی کا حکم سنا چکی ہے۔

جب کہ وفاقی نظر ثانی بورڈ نے دو اکتوبر کے نوٹیفکیشن میں نظر بندی میں ایک ماہ کی توسیع کر دی۔

ٹی ایل پی کی درخواست کے مطابق آئینی طور پر عدالت انتظامیہ کے جس حکم کو کالعدم قرار دے چکی ہے اس میں توسیع کیسے کی جاسکتی ہے۔ لہذا ڈی سی لاہور نے خط لکھنے کے بعد وفاقی نظر ثانی بورڈ کو آگاہ نہیں کیا کہ ان کے نظر بندی میں توسیع کے خط کے بعد عدالت نے نظری بندی ہی کالعدم قرار دے دی۔

وفاقی نظر ثانی بورڈ نے آج ہفتہ کے روز ویڈیو لنک کے زریعے ہونے والے اجلاس میں اس درخواست کا جائزہ لیتے ہوئے ڈی سی لاہور کی جانب سے نظر بندی میں توسیع کی درخواست واپس لینے پر سعد رضوی کی نظربندی ختم کر کے رہائی کا حکم دیا۔

اس حکم کے بعد ڈی سی لاہور نے بھی سعد حسین رضوی کی رہائی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ’لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے سعد رضوی کی نظر بندی کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ان کی فوری طور پر رہائی کی ہدایت کی جاتی ہے۔ اس کے بعد اب سعد رضوی کی رہائی میں کوئی قانونی روکاوٹ موجود نہیں ہے۔‘

ٹی ایل پی کے رہنما صدام حسین بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈی سی لاہور اور وفاقی نظر ثانی بورڈ کا فیصلہ تو آگیا ہے اور انتظامیہ نے رابطہ کر کے سعد رضوی کو رہا کرنے کا نوٹیفکیشن کرنے کی اطلاع بھی دی ہے۔ تاہم جب تک انہیں رہا نہیں کیا جاتا مکمل یقین سے رہائی کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ ہمیں ابھی انتظامیہ پر یقین نہیں کہ وہ واقعی رہا کرنے میں سنجیدہ ہیں۔‘

ٹی ایل پی کے سربراہ سعد حسین رضوی کو 12اپریل کو دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت حراست میں لے کر نظر بند کیا گیا تھا جب ان کی جماعت نے ناموس رسالت سے متعلق احتجاج کیا تھا اور توڑ پھوڑ کے علاوہ پولیس اہلکار بھی جان سے گئے تو ان کو 13 مختلف مقدمات میں کو نامزد کیا گیا تھا۔

کوٹ لکھپت جیل میں نظر بند کیے گئے سعد رضوی چھ ماہ سے جیل میں ہی بند ہیں۔ ایک خدشہ یہ بھی موجود ہے کہ سعد رضوی کے خلاف درج مقدمات میں ان کی گرفتاری ڈال کر انہیں نظر بند ہی رکھا جائے۔
https://www.independenturdu.com/node/81131