سندھ سیکریٹریٹ میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس

کراچی –  سندھ کابینہ کا اجلاس آج وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ساتویں منزل نیو سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔اجلاس میں تفصیلی غور و خوص کے بعد پولیس آرڈر 2002 ء کی منظوری دی گئی اور اس میں چند ترامیم کی بھی اجازت دی گئی۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، تمام صوبائی وزراء ، مشیروں اور معاونین خصوصی اور متعلقہ سیکریٹریز نےشرکت کی ۔ کابینہ کے ایجنڈے میں شامل آئٹمز میں سندھ(ریپیل آف پولیس ایکٹ 1861 اور پولیس آرڈر 2002) بل2019ءکی بحالی؛ سندھ منیمم ویجز بورڈ کی تشکیل، سیسی کی گورننگ باڈی کی تشکیل ، ایمینٹی پلاٹس کی ماس ٹرانزٹ پروجیکٹس جو کہ سندھ حکومت کے تحت شروع کیے گئے ہیں کے لیے منتقلی /استعمال،صوبہ سندھ ایکٹ 1991ء کے لیے محتسب اعلیٰ کے دفتر کے قیام میں ترمیم ،ٹائون کمیٹی، شادی پالی، ضلع عمر کوٹ میں ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی،خصوصی افراد کو بااختیار بنانے کے لیے صوبائی مشاورتی کونسل کی تشکیل شامل تھے ۔ وزیراعلیٰ سندھ کی اجازت سے اضافی آئیٹمز بھی لیے گئے جن میں 1526 یونین کونسل اور یونین کمیٹیوں کےماہانہ او زیڈ ٹی کی وضاحت، سندھ بینک میں کیپیٹل شارٹ فال،سندھ بینک لمیٹڈ کے سی ای او / صدر کی تعیناتی ، سندھ ریگولرائزیشن آف ٹیچرز کی کنٹریکٹ کے بنیاد ی ایکٹ 2018 کے تحت تعیناتی میں ترمیم اور ریسورس موبیلائزیشن پلان 20-2019 شامل تھے۔



پولیس آرڈر 2002 :
وزیراعلیٰ سندھ نے کابینہ کو بتایاکہ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بل پر دوبارہ غور اور صوبے کے لیے آزاد فورس کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلایا ہے۔ کابینہ نے گورنر سندھ کی جانب سے کیے گئے اعتراضات پر تفصیلی غور کیا اور بل میں چند ترامیم کیں۔وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے قانون مرتضیٰ وہاب نے کابینہ کو بتایا کہ کابینہ کی سب کمیٹی نے پولیس ،سول سوسائٹی اور پٹیشنر اور اُن کے وکیل سے بھی اس قانون پر تفصیلی بات چیت کی ہے ۔ نئے قانون کو متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد دوبارہ فریم کیاگیاہے۔ وزیرداخلہ کے ٹرانسفرنگ انویسٹیگیشن کے مجوزہ اختیارات قانون سے واپس لے لیے گئے ہیں ۔ کابینہ کو بتایاگیاکہ آئی جی پولیس کے دورانیہ کو مناسب طریقے سے مستحکم کیاگیا ہے۔آئی جی پولیس وزیراعلیٰ سندھ کی مشاورت سے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اور ڈی آئی جی کے تبادلے اور تعیناتی کریں گے۔کابینہ نے قانون کی منظوری دیتے ہوئے اسے واپس گورنر کو بھیجنے اور اس کی صوبائی اسمبلی میں جمعرات کو پیش کرنے کی بھی باقاعدہ منظوری دی گئی۔



مشاورتی کونسل :
سندھ کابینہ نے معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے 62 اراکین پر مشتمل صوبائی مشاورتی کونسل کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سندھ کی سطح پر معذور افراد سے متعلق مسائل کے لیے ایک مشاورتی اور ایڈوائیزری باڈی ہے جوکہ معذور افراد کو بااختیار بنانے اوران کے حقوق کے مکمل حصول کے حوالے سے جامع پالیسی وضع کرے گی۔ اس کے چیئرمین محکمہ امپاور منٹ آف پرسنس ویتھ ڈس ایبیلیٹیز ہوں گے۔4 ایم پی ایز بھی ایڈوائیزری کونسل میں شامل کیے گئے ہیں۔



سندھ بینک کیپیٹل شارٹ فال:
سندھ کابینہ نے سندھ بینک لمیٹڈ کومختلف عوامل بشمول نان پرفارمنگ قرضوں،انویسٹمنٹ پورٹ فولیو کی ویلیوایشن کے خسارے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی کیپیٹل میں اضافے کے باعث 14.7 بلین روپے کے کیپیٹل میں شارٹ فال پر اپنی تشویش کا اظہارکیا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے یہی معاملہ محکمہ خزانہ کو بتایاہے۔ کابینہ کے اراکین نے کہا کہ بینک اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہا ہے مگر چند مسائل کے باعث سندھ بینک کو کیپیٹل شارٹ فال کا سامنا ہے لہٰذا اس کے ساتھ لازمی طورپر تعاون کیاجائے۔ سندھ بینک نے کابینہ سے درخواست کی ہے کہ سندھ حکومت 3.7بلین روپے کے ٹرم فنانس سرٹیفکیٹ (ٹی ایف سی) جاری کرسکتی ہے۔ سندھ کابینہ نے اس درخواست کی منظوری دے دی۔ کابینہ نے سندھ لیزنگ کمپنی لمیٹڈ کی 3.5 بلین روپے کے سرمائے کے ساتھ انضمام کی بھی منظوری دی۔لیزنگ کمپنی کا بورڈ انضمام کی پہلے ہی منظوری دے چکاہے۔ سندھ کابینہ نے سندھ بینک پر مزید قرضے دینے پر پابندی عائد کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ سندھ بینک کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی تفصیلی مالی پلان کابینہ کو ستمبر 2019 میں پیش کرے۔ کابینہ نے سندھ بینک کے سی ای او /صدر کی تعیناتی کا بھی فیصلہ کیااور تجویز کردہ نام مزید منظوری کے لیےاسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھیجیں جائیں گے۔



اساتذہ کے بل میں ترمیم:
سندھ کابینہ نے سندھ ریگولرائزیشن آف ٹیچرز کی کنٹریکٹ کی بنیادوں پر تعیناتی میں ترمیم کے حوالے سے غور کیا۔ کابینہ کو بتایاگیا کہ یہ ایکٹ اپنی اصل حالت میں اساتذہ کی تعیناتی کو ریگولرائزیشن کے لیے سال 2014 میں تشکیل دیاگیاتھا۔ایکٹ میں ترمیم سے اُن اساتذہ کی خدمات جوکہ سندھ یونیورسٹی اور این ٹی ایس سے کوالیفائیڈ ہیں اور کنٹریکٹ پر اساتذہ جوکہ سال 2015،2016، اور 2017 میں بھرتی کیے گئے تھے کی ریگولرائزیشن میں مدد ملے گی۔ کابینہ نے ترمیم کی منظوری دی۔